سانحہ بلدیہ کے متاچرین کو 7 لاکھ کے چیک مل چکے محکمہ محنت

آئی ایل او کے اشتراک سے فیلڈ آفیسرز کا تربیتی پروگرام مرتب


Staff Reporter December 05, 2012
محکمہ محنت حکومت سندھ آئی ایل او کے اشتراک سے جلنے والی فیکٹری کے متاثرہ کارکنوں اور جاں بحق ہونے والوں کے ورثا کو ووکیشنل ٹریننگ بھی دے رہی ہے. فوٹو: اے ایف پی / فائل

حکومت سندھ نے سانحہ بلدیہ کے بعد صنعتی اور تجارتی اداروں کے معائنے اور ان کی رجسٹریشن کی مہم تیز کردی،اب تک80فیکٹریوں کا معائنہ کیا جاچکا ہے۔

جبکہ913صنعتی اور تجارتی اداروں کی رجسٹریشن کی جاچکی ہے،ان معائنوں کا مقصد فیکٹریوں ، کارخانوں اور کام کرنے والے دیگر جگہوں پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا ہے،یہ بات محکمہ محنت کی ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے جو چیف سیکریٹری اور دیگر اعلیٰ حکام کو ارسال کی گئی،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن( آئی ایل او )کے اشتراک سے فیلڈ آفیسرز کی تربیت کے لیے 4 پروگرام مرتب کیے گئے ہیں۔

تاکہ وہ فیکٹریوں اور کارخانوں کا بہتر انداز میں معائنہ اور رجسٹریشن کرسکیں اور وہاں حفاظتی اقدامات اور لیبر قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایمپلائز اولڈ ایج بینفٹ انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) کی طرف سے بلدیہ کی گارمنٹس فیکٹری میں آتشزدگی کے باعث جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو ماہانہ 3600 روپے پنشن کی ادائیگی شروع ہوگئی ہے، جو ان خاندانوں کو تاحیات ملے گی،رپورٹ کے مطابق محکمہ محنت نے تاجروں اور صنعتکاروں کے تعاون سے ان 200 کارکنوں کو ملازمت پر لگوادیا ہے،جو فیکٹری میں آتشزدگی کے باعث بیروزگار ہوگئے تھے۔

ورک مین کمپن سیشن ایکٹ 1923 کے تحت سانحہ بلدیہ میں جاں بحق ہونیوالے کے ورثا کو فی کس 2لاکھ روپے معاوضہ اور 2 لاکھ روپے گروپ انشورنس دلانے کے لیے بھی کاروائی کی جارہی ہے، یہ رقوم گارمنٹس فیکٹری کے مالکان سے دلائی جائے گی، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم کی طرف سے سانحہ بلدیہ میںجاں بحق210 افراد کے ورثا میں4لاکھ روپے کے چیک تقسیم کردیے گئے ہیں ، جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے اعلان کردہ فی کس 3لاکھ روپے کے چیک بھی دیدیے گئے ہیں، اس مد میں مجموعی طور پر14کروڑ 70 لاکھ روپے تقسیم کیے گئے ہیں۔

سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ (سیسی) کی طرف سے بھی سانحہ بلدیہ ٹائون کے جاں بحق ہونے والے186افراد کےخاندانوں کو معاوضے کے تحت جبکہ 180 خاندانوں کو پنشن کے چیک تقسیم کیے گئے ہیں باقی متاثرین کے کیس تیار کیے جارہے ہیں،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ محنت حکومت سندھ آئی ایل او کے اشتراک سے جلنے والی فیکٹری کے متاثرہ کارکنوں اور جاں بحق ہونے والوں کے ورثا کو ووکیشنل ٹریننگ بھی دے رہی ہے اور ٹریننگ کے دوران انھیں 5 ہزار روپے کا وظیفہ بھی دیا جارہا ہے۔