بلدیہ عظمیٰ کی غفلت ہوسٹن سے آنیوالا فائر فائٹنگ سامان استعمال نہ کیا جاسکا

بعض سامان چوری ہوگیا ،ذرائع


Staff Reporter December 06, 2012
یہ سامان کئی سال سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے سہراب گوٹھ فائر اسٹیشن میں پڑا خراب ہورہا ہے. فوٹو: فائل

ہیوسٹن کی طرف سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو فائرفائٹرز کے لیے فراہم کیے جانیوالے خصوصی لباس اور سامان کئی سال گزر جانے کے باوجود استعمال میں نہیں لایا گیا ہے اور یہ سامان اسٹور میں پڑا خراب ہورہا ہے۔

باخبر ذرائع نے اس امر کا انکشاف کرتے ہوئے ایکسپریس کو بتایا کہ سابق ناظم کراچی مصطفی کمال کے دور میں اس وقت کی کراچی کی شہری حکومت اور امریکی شہر ہیوسٹن کی شہری انتظامیہ کے درمیان دونوں شہروں کو سسٹر سٹی قرار دینے کا معاہدہ ہوا تھا۔

اس معاہدے کے بعد ہیوسٹن کی شہری انتظامیہ نے خیرسگالی کے طور پر اس وقت فائربریگیڈ ڈپارٹمنٹ کو ایک ہزار کے قریب فائر فائٹنگ یونیفارم بشمول جوتے اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا تھا جو کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اگر فائر فائٹر پہنے تو اس کے لیے ریسکیو آپریشن کرنا آسان ہوجاتا ہے، ذرائع نے بتایا کہ اس یونیفارم کے ساتھ تمام ضروری سامان منسلک تھا۔

05

ذرائع نے بتایا کہ یہ سامان کئی سال سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے سہراب گوٹھ فائر اسٹیشن میں پڑا خراب ہورہا ہے جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق اس میں بعض سامان مبینہ طور پر چوری ہوگیا ہے ذرائع نے اس حوالے سے ایک دلچسپ انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ نے ان یونیفارم کی دھلائی پر 22 لاکھ روپے بھی خرچ کردیے ہیں ان یونیفارم کو شہر کی ایک معروف ڈرائی کلین کی دکان سے دھلایا گیا مگر اس مہنگی دھلائی کے باوجود بھی یہ یونیفارم کسی فائر فائٹر کو نہیں دیے گئے۔

ذرائع نے بتایا کہ ان یونیفارم کو اگر فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ کے فائر مینوں کے دے دیا جائے تو تحفظ کے احساس کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکتے ہیں جس سے نہ صرف ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی بلکہ نقصانات کے اثرات کو بھی کم کیا جاسکے گا مگر بلدیہ عظمیٰ کا محکمہ فائربریگیڈ اس حوالے سے انتہائی حد تک سست روی اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہا ہے ۔