ممتاز حسین بیک وقت نظریے اور جمالیات کی بات کرتے تھے

نظریاتی شدت پسندی سے گریز اور خود احتسابی کا عمل انکا طرہ امتیاز ہے، شمیم حنفی.


Staff Reporter December 06, 2012
آرٹس کونسل میں منعقدہ پروفیسر ممتاز حسین یادگاری لیکچر سے انتظار حسین خطاب کر رہے ہیں ، پروفیسر شمیم حنفی، کشور ناہید ، احمد شاہ اوردیگر موجود ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

پروفیسر شمیم حنفی کا کہنا ہے کہ ممتاز حسین ترقی پسند تنقید کی مخصوص روایت کے آخری ترجمان تھے۔

نظریاتی شدت پسندی سے گریز اور خود احتسابی کا عمل ان کا طرہ امتیاز ہے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے آرٹس کونسل کراچی میں اعتراف دانش پروفیسر ممتاز حسین یادگار ی لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ان کا کہنا تھا کہ ممتاز حسین کی فکراور نظر ہر طرح کی عصبیت اور جانب داری سے قطعی پاک اور بالا تر تھی ممتاز حسین مشرقی اور مغربی ادب پر یکساں گہری نظر رکھتے تھے۔

معروف افسانہ نگار انتظار حسین کا کہنا تھا کہ پروفیسر ممتاز حسین بیک وقت نظریے اور جمالیات کی بات کرتے تھے اور اپنے خیالات کو تاریخی واقعات اورٹھوس دلائل کی مدد سے مضبوط کرتے تھے، ان کے مضامین ان کی ہمہ گیری اورعلمی وسعت کے آئینہ دار ہیں اور قاری کو باربار پڑھنے کی دعوت دیتے ہیں۔

1

ان کا یہ کہنا حرف بہ حرف بجا ہے کہ ادبی تخلیق خارجی جبر سے آزاد ہوتی ہے، میری ملاقات ان سے آغاز سفر میں ہوئی میں نے انھیں ہمیشہ سنجیدہ دیکھا، تقریب کی صدارت ڈاکٹر اسلم فرخی نے کی اس موقع پر اسلم فرخی کا کہنا تھا کے اردو تنقید میں بہت بڑے نام موجود ہیں مگر ممتاز حسین کا نام ہمیشہ سر فہرست لیا جائیگا، پروفیسر ممتاز حسین نے جتنا کام کیا انھیں اس درجے نوازا نہیں گیا ،ہماری یونیورسٹیز کو ان کے لیے جو کام کرنے تھے وہ نہیں ہوئے، اس موقع پر آرٹس کونسل کراچی کے صدر محمد احمد شاہ کا کہنا تھا کے ممتاز حسین اس عہد کے نامور نقاد تھے، ان کے مزاج میں ہمیشہ نرمی پائی گئی، وہ نئے لکھنے والوں کی رہنمائی کرتے تھے، تقریب سے آرٹس کونسل کراچی کے نائب صدر محمود احمد خان،سیکریٹری اعجاز فاروقی، ممبرگورننگ باڈی شہناز صدیقی،اسجد بخاری ودیگر نے بھی خطاب کیا، تقریب کی نظامت کے فرائض انیس زیدی نے انجام دیے۔