پروفیسر زیبا زکیہ قتل کیس میں ملوث ملزمان عدم ثبوت پر بری

استغاثہ شواہد پیش نہ کر سکا، تفتیشی افسر کی غفلت سے قتل کا سراغ نہیں ملا.


Staff Reporter December 06, 2012
استغاثہ شواہد پیش نہ کر سکا، تفتیشی افسر کی غفلت سے قتل کا سراغ نہیں ملا. فوٹو: فائل

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی منٹھار علی جتوئی نے پروفیسر زیبا زکیہ قتل کیس میں ملوث ملزم سلیم عرف شبیر اور ملزمہ خالدہ کو عدم ثبوت پر بری کردیا ہے۔

استغاثہ شواہد پیش کرنے میں ناکام رہے جبکہ تفتیشی افسر کی غفلت لاپراوئی اور نااہلی کے باعث قتل کا سراغ نہ مل سکا، استغاثہ کے مطابق ملزمان پر الزام تھا کہ انھوں نے29جنوری2008 کو گلشن اقبال کی رہائشی پروفیسر زیبا زکیہ کو قتل کرکے لاش سچل کے علاقے میں واقع جھاڑیوں میں پھینک دی تھی اور فرار ہوگئے تھے۔

9

تفتیشی افسر نے خانیوال سے منیر عباسی کو گرفتار کیا تھا اور اسکے قبضے سے مقتولہ کی گاڑی و موبائل فون برآمد کیا تھا، ملزم کے انکشاف پر مقتولہ کے ڈرائیور سلیم اور اسکی اہلیہ ملازمہ خالدہ کو گرفتار کیا گیا تھا بعدازاں منیر عباسی کو پولیس نے بے گناہ قرار دیکر رہا کردیا تھا، عدالت نے تفتیشی افسر انسپکٹر شاہد قریشی کو متعدد بار گواہی کیلیے عدالت میں طلب کیا تھا تاہم تین برس گزرجانے کے باوجود تفتیشی افسر نے عدالتی احکامات نظرانداز کردیے تھے۔