پاکستانی شائقین کو سخت چھان بین کے بعد ویزے ملیں گے

میچ اور بھارتی سفر کیلیے ٹکٹس،بی سی سی آئی کے منظورشدہ ہوٹلز کی بکنگ بھی لازمی،پی سی بی نے ٹریول ایجنٹس کا اعلان کردیا


Sports Reporter December 08, 2012
پاکستانی شائقین بذریعہ ہوائی جہاز دہلی، ممبئی اور چنئی جبکہ بس اور ٹرین اٹاری سے بھارت میں داخل اور واپس آئیں گے۔ فوٹو : فائل

کرکٹ سیریز دیکھنے کیلیے بھارت جانے کے خواہشمند پاکستانی شائقین کو سخت چھان بین کے بعد ویزے جاری کیے جائیں گے۔

روانگی کے وقت سے کم از کم7 روز قبل ہر لحاظ سے مکمل درخواست پی سی بی کے نامزد ٹریول ایجنٹس کے توسط سے جمع کرانا پڑے گی، میچ اور سفر کیلیے ریٹرن ٹکٹس کے ساتھ بی سی سی آئی کے منظور شدہ ہوٹلز کی بکنگ بھی لازمی قرار دیدی گئی، کسی عزیز یا دوست کے ہاں قیام کا ارادہ رکھنے والوں کو اسپانسر شپ ویزے کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق 25 دسمبر سے شروع ہونے والی پاک بھارت کرکٹ سیریز کیلیے شائقین کی بے تابی عروج پر پہنچ گئی ہے، پاکستان سے ہزاروں افراد پڑوسی ملک جاکر روایتی حریفوں کے مقابلے دیکھنے کے خواہشمند ہیں، بی سی سی آئی دہلی میں ون ڈے میچ کیلیے ایک ہزار جبکہ دیگر 4 شہروں کولکتہ، چنئی، بنگلور اور احمد آباد میں ٹوئنٹی20 مقابلوں کیلیے 500،500 ٹکٹ پی سی بی کو جاری کیے جا رہے ہیں۔ بھارتی ہائی کمیشن نے میچز دیکھنے کے خواہاں پاکستانی شائقین کیلیے پالیسی جاری کردی ہے۔

ویزا کیلیے درخواستیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے نامزد ٹریول ایجنٹس گروپس کی شکل میں جمع کرانے کے مجاز ہونگے، امیدوار ٹکٹ کے نمبر، میچ کے میزبان شہر میں قیام کیلیے صرف بھارتی بورڈ کے تجویز کردہ ہوٹلز میں بکنگ کی تفصیلات اور ان کی کاپیاں تصدیق کیلیے فراہم کرینگے، ریٹرن ٹکٹ اور قومی شناختی کارڈ بمعہ انگریزی ترجمے کی کاپیاں بھی لازمی قرار دی گئی ہیں، ایک سے زیادہ میچز دیکھنے کیلیے تمام ٹکٹس اور بکنگ کی تفصیلات فراہم کرنا ہونگی۔

1

کسی عزیز یا دوست کے ہاں قیام کا ارادہ رکھنے والوں کو ٹکٹس کے ساتھ اسپانسر شپ سرٹیفکیٹ اور اس ویزا کیٹیگری سے متعلقہ دیگر مراحل سے بھی گزرنا ہوگا۔مزید بتایا گیا ہے کہ ویزے ٹکٹ کے مطابق صرف میچ کے میزبان شہر کیلیے جاری کیے جائیں گے،تمام وینیوز پر میچز دیکھنے والوں کو پانچوں شہروں میں مختصر قیام کی اجازت ہوگی، بھارت میں داخلے اور واپسی کی تاریخ پاسپورٹ پر درج کی جائیں گے،مسلسل دو میچز دیکھنے والوں کو7جبکہ 3 سے زیادہ مقابلوں کیلیے جانے والوں کو 15روز تک قیام کا موقع مل سکتا ہے، دیگر شہروں میں آمدورفت کیلیے ترمیم یا ویزے کی مدت میں توسیع کی اجازت نہیں ہوگی۔

پاکستانی شائقین بذریعہ ہوائی جہاز دہلی، ممبئی اور چنئی جبکہ بس اور ٹرین اٹاری سے بھارت میں داخل اور واپس آئیں گے، درخواست میں واضح طور پر سفر کا روٹ درج کرنا ہوگا جس میں بعد ازاں تبدیلی نہیں کی جاسکے گی، اگر کسی وجہ سے میچز کے شیڈول میں ردوبدل سے شائقین میچز دیکھنے سے محروم رہ جائیں تو ہائی کمیشن متبادل سہولیات فراہم کرنے کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔ دریں اثناء پی سی بی نے لاہور کے 3 ٹریول ایجنٹس نامزد کرکے تفصیلات اپنی ویب سائٹ پر جاری کردی ہیں۔

شائقین ٹکٹوں، ویزوں اور متعلقہ معلومات کیلیے ان سے رجوع کرسکتے ہیں۔دوسری طرف بھارتی وزیر داخلہ سشی کمار شندھی نے کہاکہ میچز دیکھنے کیلیے آنے والے پاکستانیوں کو ویزے سخت چھان بین کے بعد ہی جاری کیے جائیں گے، پاکستان کی طرف سے کئی تحفظات دور نہ کیے جانے کے باوجود کرکٹ سیریز کھیلنے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں پر کوئی پابندی لگانا مناسب نہیں، عوام کے دو طرفہ خیر سگالی دورے مستقبل کیلیے خوش آئند ہونگے۔