افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر پابندی کا الزام مسترد

افغان مصنوعات بھارت برآمد کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی، ترجمان دفتر خارجہ


Editorial September 11, 2016
افغان مصنوعات بھارت برآمد کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی، ترجمان دفتر خارجہ. فوٹو: فائل

ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے افغان صدر اشرف غنی کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ واہگہ بارڈر کے ذریعے افغان مصنوعات بھارت برآمد کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی، پاکستان نے اپنی بندرگاہوں تک افغانستان کی ٹرانزٹ رسائی نہیں روکی بلکہ اپنی بندرگاہوں پر ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے مسلسل رسائی فراہم کی جا رہی ہے۔

صدیوں سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی تعلقات انتہائی مضبوط ہیں۔ اس وقت بھی افغانستان کی مارکیٹوں میں پاکستانی مصنوعات سب سے زیادہ موجود ہیں لیکن کچھ عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ پہلے دونوں ممالک کے درمیان سرحدوں پر تناؤ پیدا کیا گیا اور اب تجارتی تعلقات کو نقصان پہنچانے کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ افسوس اس امر کا ہے کہ اس گھناؤنی سازش میں افغان حکومت بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

کچھ روز قبل افغانستان کے صدر اشرف غنی نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان نے واہگہ بارڈر سے افغان اشیا لے جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے بعد انھوں نے پاکستان کو دھمکی دی کہ پاکستان کی جانب سے پابندی کے بعد افغانستان بھی پاکستانی مال بردار گاڑیوں کے افغانستان کے راستے وسط ایشیائی ممالک جانے پر پابندی عائد کر دے گا۔ افغان صدر کے اس بیان کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے وضاحت کر دی کہ پاکستان افغان عوام کے ساتھ اپنے وعدے کے مطابق افغانستان کو ٹرانزٹ ٹریڈ کی سہولت جاری رکھے گا۔

اگرچہ دوطرفہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے (اے پی ٹی ٹی اے) کے تحت بھارت کو اور بھارت سے ٹرانزٹ ٹریڈ شامل نہیں تاہم پاکستان جذبہ خیرسگالی کے طور پر واہگہ بارڈر کے ذریعے افغان فروٹ کو بھارت جانے کی اجازت دینے کا سلسلہ جاری رکھے گا، تاہم افغانستان میں بعض شرپسندوں کی جانب سے پاکستان کا قومی پرچم نذرآتش کیے جانے کے نتیجے میں 19 سے 31 اگست تک پاک افغان چمن سرحد بند کی گئی تھی جسے بعدازاں دونوں فریقین کے اس اتفاق کے بعد کھول دیا گیا کہ آیندہ ایسے واقعات کو رونما ہونے سے روکا جائے گا۔

اس وقت تجارتی راہداری منصوبے کے تحت افغانستان کی مصنوعات بڑی تعداد میں واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارت جاتی ہیں۔ جب پاکستان نے افغان مصنوعات کی واہگہ کے راستے بھارت کو برآمد پر کوئی پابندی عائد نہیں کی اور یہ تجارتی سلسلہ مسلسل جاری ہے تو افغان صدر اشرف غنی نے ایسا شرانگیز بیان کیوں دیا؟ آخر اس کے پیچھے وہ کیا مقاصد تھے جنھیں وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پاک افغان اور علاقائی حالات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ افغان حکومت کی پاکستان کے خلاف سازشوں اور ہرزہ سرائی کے پس منظر میں بھارتی ذہن کام کر رہا ہے۔ بھارت کی کوشش ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بہتر نہ ہو سکیں اور دونوں کے درمیان کشیدگی اور نفرت کو ہوا دی جائے۔

دوسری جانب افغانستان کے راستے پاکستان کی مصنوعات بڑی تعداد میں وسط ایشیائی ریاستوں تک جاتی ہیں۔ بھارت کی کوشش ہے کہ اس تجارتی راہداری کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر دی جائیں تاکہ پاکستانی مصنوعات وسط ایشیا تک نہ پہنچ سکیں۔ اس طرح پاکستانی تجارت کو کروڑوں ڈالر کا نقصان پہنچے گا۔ بھارت اپنی مصنوعات وسط ایشیا تک لے جا کر وہاں کی منڈیوں پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے اور اپنے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے وہ افغان حکومت کو استعمال کر رہا ہے، وہ وہاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اور ترقیاتی منصوبے تشکیل دے رہا ہے۔

پاکستان، افغانستان کا برادر مسلم ہمسایہ ملک ہے اور دونوں کے درمیان گہرے تجارتی تعلقات بھی موجود ہیں۔ پاکستان نے افغان جنگ کے دوران افغانوں کی ہرممکن مدد کی، اس وقت بھی لاکھوں افغانی پاکستان میں رہائش پذیر ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ پاکستان کے ان احسانات کا مثبت انداز میں جواب دینے کے بجائے افغان حکومت بھارت کے ساتھ مل کر سازشی کھیل کھیل رہی ہے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ افغانستان جسے لینڈ لاک ملک تصور کیا جاتا تھا اب اس کی حالت ویسی نہیں رہی۔ اب اس کے ایران تک تجارتی روٹ تعمیر ہو چکے ہیں اور مستقبل میں چاہ بہار کی بندرگاہ تک اس کی رسائی بھی آسان ہو جائے گی، اس طرح اس کا تجارت کے لیے پاکستان پر انحصار کم سے کم ہوتا چلا جائے گا تاہم بھارت کو مصنوعات برآمد کرنے کے لیے پاکستان ہی مختصر، آسان اور سستی تجارتی راہداری ہے جو افغانستان کی مجبوری رہے گا۔ افغان حکومت کسی غیرملکی قوت کے اشارے پر پاکستان سے اپنے تعلقات خراب نہ کرے۔ اسے اپنے تجارتی اور معاشی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے خطے کے تمام ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے چاہئیں۔ اسی میں اس کی اور افغان عوام کی ترقی کا عمل پوشیدہ ہے۔