پاک روس فوجی مجوزہ مشقیں

دونوں ملکوں کے درمیان فرینڈشپ 2016ء کے نام سے مشترکہ فوجی مشقیں پاک روس تعلقات میں نئے سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں


Editorial September 12, 2016
فوٹو:فائل

لاہور: یہ اطلاع خوش آیند ہے کہ رواں برس پاکستان اور روس پہلی مشترکہ فوجی مشقیں کریں گے۔ یہ پاک روس تعلقات میں پیش رفت کی بڑی علامت ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور روس ماضی کی تلخیوں کو بھول کر نئے دور کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔ سرد جنگ کے زمانے میں روس جو اس وقت سوویت یونین کہلاتا تھا ، اس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات زیادہ خوشگوار نہیں رہے تاہم ذوالفقار علی بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے زمانے میں پاک سوویت تعلقات میں گرمجوشی دیکھنے میں آئی۔

اس زمانے میں کراچی میںسوویت یونین کے تعاون سے اسٹیل ملز قائم ہوئی لیکن 1980ء کی دہائی میں جب افغانستان میں سوویت یونین کی فوجیں داخل ہوئیں، پاکستان میں افغان مہاجرین کی آمد شروع ہوئی اور افغانستان میں سوویت یونین کی فوجوں کے خلاف افغان گوریلوں کی مزاحمت کا آغاز ہوا تو پاک روس تعلقات میں بھی سردمہری آ گئی۔

بہرحال سردجنگ کے خاتمے کے بعد سوویت یونین تحلیل ہو گیا اور اس یونین میں شامل ریاستیں خودمختار ہو گئیں تو پاک روس تعلقات میں بھی تبدیلی آ گئی، اس کے باوجود پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات بس سفارتی کارروائیوں کی حد تک ہی محدور رہے لیکن حالیہ چند برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہت بہتری آ گئی ہے اور دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔

گزشتہ 15 ماہ کے دوران پاکستان کی بری، فضائی اور بحری فوج کے سربراہوں نے ماسکو کا دورہ کیا۔ پاکستان جدید ترین روسی طیارہ ایس یو 35 خریدنے میں دلچسپی لے رہا ہے۔ اب دونوں ملکوں کے درمیان فرینڈشپ 2016ء کے نام سے مشترکہ فوجی مشقیں پاک روس تعلقات میں نئے سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاک روس تعلقات کو زیادہ ہمہ گیر اور ہمہ جہت بنانا دونوں ملکوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا کے استحکام کے لیے ضروری ہیں۔