جج کے حکم پرعدالتی عملے کا سی آئی ڈی سول لائن پر چھاپہ

مقدمہ درج نہیں،سوموار کو پولیس افسر اور مغوی کو عدالت میں پیش ہونیکا حکم۔


Staff Reporter December 09, 2012
پولیس نے 5 روز سے حراست میں لے رکھا ہے،رقم کا تقاضہ کررہے ہیں،مغوی اقبال کھتری. فوٹو: فائل

سیشن جج کے حکم پر عدالتی عملے نے سی آئی ڈی سول لائن پر چھاپہ مارا، مخبری ہونے پر چھاپے سے ایک گھنٹہ قبل ہی روزنامچہ میں انٹری کی گئی۔

تاہم مغوی اقبال کھتری کے خلاف مقدمہ درج نہیں تھا عدالتی عملے نے پیر کو پولیس افسر اور مغوی کو سیشن جج جنوبی کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی احمد صبا نے ہارون کھتری کی درخواست پر ہڈبیلف کو سی آئی ڈی سول لائن میں چھاپہ مارکر پولیس کی غیرقانونی حراست سے مغوی اقبال کھتری کی بازیابی کا حکم دیا تھا۔

10

عدالتی عملے نے درخواست گزار کے وکیل طفر احمد کے ہمراہ مذکورہ تھانے میں چھاپہ مارا، مغوی تھانے میں موجود تھا جس نے عدالتی عملے کو بتایا کہ اسے 5 روز قبل پولیس افسر محمد عارف و دیگر نے نیوکراچی میں اسکے گھر سے حراست میں لیا تھا اور بھاری رقم کا تقاضہ کیا جارہا ہے ،اس موقع پر بیلف نے تھانے کا ریکارڈ چیک کیا اسکے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں تھا۔

تاہم چھاپے سے ایک گھنٹہ قبل روز نامچے میں 54کے تحت انٹری درج کی گئی تھی اور عدالتی عملے کو بتایاگیا کہ مغوی کو مشکوک حالت میں صرف تفتیش کیلیے تھانے لائے ہیں عدالتی عملے نے ذمے دار پولیس افسر کو سیشن جج کے روبرو تمام ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے، قبل ازیں حبس بے جا کی درخواست میں مغوی کی بازیابی کی استدعا کی گئی تھی۔