حکمراں خواتین پر دہشت گردوں کے حملوں پر خاموش ہیںخانم زہرا

مجلس وحدت مسلمین کا دہشتگردی کا نشانہ بننے والی خواتین و بچوں کیلیے مظاہرہ۔


Staff Reporter December 09, 2012
مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کے تحت ایم اے جنا ح روڈ پر مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے شعبہ خواتین کے تحت نمائش چورنگی پر شیعہ خواتین اور معصوم بچیوں کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں سینکڑوں خواتین اور بچوں سمیت کراچی میں شہید ہونے والے درجنوں شیعہ نوجوانوں اور عمائدین کے خانوادوں نے بھی شرکت کی۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والی خواتین اور معصوم بچی مہزر زہرا سے اظہار یکجہتی پر مبنی کلمات آویزاں تھے مجلس وحدت مسلمین کے مولانا صادق رضا تقوی اور شعبہ خواتین کی خانم زہرا نجفی نے خطاب میں کہا کہ 30 نومبر کو ایک معصوم 13سالہ لڑکی مہزر زہرا جو شہر کے مقامی اسپتال میں زیرعلاج ہے اور زندگی و موت کی کشمکش کی جنگ لڑ رہی ہے اس معصوم لڑکی کے والد سید نذر عباس زیدی کو جو کہ سرکاری ملازم تھے دہشت گردوں نے شہید ملت روڈ پر اس معصوم بچی کی آنکھوں کے سامنے دہشت گردی کا نشانہ بنا کر شہیدکردیا۔

09

مہزر زہرا ساتویں جماعت کی طالبہ ہے حکمران شیعہ خواتین پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملوں پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں سوات میں ملالہ یوسف زئی پر ہونے والے حملے پر دنیا بھر میں شور شرابا کیا گیا لیکن افسوس ناک بات ہے کہ جب یہی ملالہ کراچی میں انہی دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بنی تو کسی کو اس ملالہ کا خیال نہیں آیا کیونکہ اس کا نام مہزر زہرا ہے،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر شیعہ معصوم بچی مہزر زہرا کے لیے کوئی آواز کیوں نہیں اٹھائی جا رہی ہے، آخر شیعہ خواتین پر دہشت گردوں کی جانب سے تیزاب پھینکنے اور قتل کے واقعات پر کب تک مجرمانہ خاموشی قائم رہے گی،یہ وہ تمام سوالات ہیں جو تمام حلقوں سے جوابات کے منتظر ہیں۔