بھارتی حکمران اور تاریخ کا سبق
ضرورت اب عالم اسلام اور عرب لیگ کی طرف سے بھی یک جہتی کے پیغام کے آنے کی ہے
یہ حقیقت ہے کہ جو حکمراں تاریخ سے سبق حاصل نہیں کرتے انھیں تاریخ عبرتناک انجام اور ہولناک زمینی و معروضی حقائق کے تھپیڑوں کی نذر کردیتی ہے، تاریخ یہی چشم کشا کھیل مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے حکمرانوں سے کھیل رہی ہے جب کہ بھارت کی عاقبت نا اندیشیوں ، ظلم و بربریت اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو کچلنے کے نتیجے میں کشمیر کا مسئلہ ایک طرف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں زیر بحث ہے اور دوسری جانب پوری دنیا میں ایک فلیش پوائنٹ بن کر ابھرا ہے جو حالیہ سیاسی مدوجزر میں عالمی ضمیر کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔
بھارتی سیاسی و عسکری حلقوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے حالانکہ بھارتی فوج نے مودی سرکار کو پاکستان سے جنگ نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے، اڑی حملہ میں بھی سابقہ بھارتی الزامات کی طرح بھارتی فورسز کی غفلت منکشف ہوئی ہے جس کی خفت مٹانے کے لیے اب خطے کو بھارتی رد عمل کے پانچ نکاتی جنگی لائحہ عمل سے ڈرایا جائے گا جس میں سرجیکل اسٹرائیک، سرحد پر خفیہ کارروائی، کشمیر میں اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی، بارڈر فورس کی مضبوطی، اپنے ہائی کمشنر کی جبری واپسی اور بلوچستان کارڈ کو کھیلنے کی نئی شدت آمیز حکمت عملی بھی شامل ہوسکتی ہے۔
بھارتی میڈیا نے10 مشتبہ پاکستانی در اندازوں کی ہلاکت کا دعویٰ اور کنٹرول لائن پر پاکستانی فورسز کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا ہے جس کو پاک فوج نے سختی سے مسترد کردیا ہے تاہم پاکستانی ارباب اختیار اور عسکری قیادت ہر قسم کی صورتحال کے لیے خود کو ہمہ وقت تیار رکھیں ، خطے کی ڈائنا مکس کو بھارتی جنگی جنون اور دھمکیوں سے شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، خبروں کے مطابق پاکستانی حکام نے اس ضمن میں بعض ہنگامی اقدامات بھی کیے ہیں۔
اس تناظر میں وزیراعظم نوازشریف نے ''مشن کشمیر'' ایجنڈا کے تحت بھارتی دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کہا کہ اشتعال انگیز بیانات سے پورے خطے کا امن و استحکام خطرے میں پڑجائے گا، جب کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ اسلامی کانفرنس کی انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے مقبوضہ کشمیر میں حقائق جاننے اور بھارتی مظالم کا جائزہ لینے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجنے کے انتظامات کرینگے، اردگان نے کہا کہ پاکستان اور ترکی یکجان اور دو قالب ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار دونوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعظم نواز شریف نے اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ وادی کشمیر کے اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے لیے آواز بلند کریں جن کے انسانی حقوق بھارتی فورسز کی طرف سے طاقت کے استعمال سے پامال ہو رہے ہیں، دریں اثنا نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیالات کیا گیا، اس دوران دونوں کے درمیان خطے کی موجودہ صورتحال اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی بات ہوئی ۔
دیکھنا یہ ہے کہ ترک جائزہ مشن کے بارے میں بھارتی حکمران کس رویے کا اظہار کرتے ہیں تاہم سب سے زیادہ حیرت پاکستانی عوام اور اہل کشمیر کو صدر بارک اوباما کی اقوام متحدہ میں ان کی آخری تقریر پر ہوئی جس میں انھوں نے شام سمیت عالمی صورتحال کی درد انگیزیوں کا ذکر تو کیا مگر کشمیر پر ایک لفظ بھی نہیں کہا بلکہ اپنے وزیر خارجہ جان کیری کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دینا مناسب سمجھا کہ امریکا کو کشمیر میں تشدد کے واقعات پر تشویش ہے، اس کے ساتھ ہی امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بیان داغا ہے کہ پاکستان پر دہشتگردوں کے خلاف مزید موثر کارروائیوں کے لیے امریکا دباؤ ڈالتا رہے گا۔
صدر اوباما نے کشمیر کی سلگتی صورتحال کو نظر انداز کرکے بھی تاریخی غلطی کی ہے جس کا اندازہ آیندہ امریکی انتخابات کے نتائج سے لگایا جاسکے گا ، اوباما نے کہا کہ اسرائیل فلسطینی سرزمین پر اپنا قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا، یہی بات وہ بھارتی سورماؤں سے کشمیر کے تناظر میں کہتے تو کون سی قیامت ٹوٹتی ۔ ان سے او آئی سی بہتر رہی ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے کشمیر بارے رابطہ گروپ کے ارکان نے بہادر کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی اور بھارتی مظالم کے خاتمہ کا مطالبہ کیا ۔ جنرل اسمبلی کے 71 ویں اجلاس کے موقع پر سیکریٹری جنرل ایاد امینی کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں امور خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز ، ترکی، اور آذربائیجان کے وزراء خارجہ ، نائجیریا اور سعودی عرب کے سینئیر نمایندہ اور آزاد کشمیر کے صدر مسعود خان نے شرکت کی ۔
ضرورت اب عالم اسلام اور عرب لیگ کی طرف سے بھی یک جہتی کے پیغام کے آنے کی ہے۔ نیو یارک میں میڈیا بریفنگ کے دوران سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کو کشمیری عوام کی آواز سننے کی ضرورت ہے ۔ اوروں کی کیا بات کی جائے مودی سرکار کو بھارت کی راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر لالو پرساد نے خبردار کیا ہے کہ کشمیر آہستہ آہستہ بھارت کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے ادھر وکی لیکس نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج اور پولیس کے شہریوں پر ظلم و تشدد کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے ۔فلک کج رفتار یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔