امن معاہدہ افغانوں کے لیے نیک شگون

افغان حکومت اور حزب اسلامی نے طویل گفت و شنید کے بعد ایک پچیس نکاتی پر دستخط کر دیے ہیں


Editorial September 24, 2016

کئی دہائیوں سے بدامنی و خانہ جنگی کا شکار ملک افغانستان سے تازہ ہوا کا جھونکا آیا ہے، افغان حکومت اور حزب اسلامی نے طویل گفت و شنید کے بعد ایک پچیس نکاتی پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس طویل ترین معاہدے کے جو چیدہ چیدہ نکات سامنے آئے ہیں، ان کا اگر جائزہ لیا جائے، امن معاہدے کے تحت حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار اور حزب اسلامی کے دیگر اراکین کے نام اقوام متحدہ اور امریکا کے دہشتگرد افراد کی فہرست سے نکالے جائیں گے، حزب اسلامی کو صدارتی، صوبائی اور ضلع انتخابات میں حصہ لینے کا حق ہو گا۔

حزب اسلامی باضابطہ طور پر لڑائی کے خاتمے کا اعلان کرے گی، افغان صدر اشرف غنی حزب اسلامی کے سربراہ اور دیگر اراکین کے عدالتی کارروائی سے تحفظ کے لیے فرمان جاری کریں گے۔ وار لارڈز اگر جمہوریت کا راستہ اپنانا چاہتے ہیں تو ان کی اس مثبت تبدیلی کو سراہا جانا چاہیے کیونکہ افغانستان میں امن قائم ہو گا، تو آس پاس کے پڑوسی ممالک میں جاری دہشتگردی کا بھی خاتمہ ہو گا۔ اب گیند امریکا کے کورٹ میں ہے کہ وہ عالمی امن کے قیام کے لیے کیا فیصلہ کرتا ہے، ابھی تک امریکی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

حکمت یار کو 2003 میں واشنگٹن کی درخواست پر اقوام متحدہ کی طرف سے ایک عالمی دہشتگرد قرار دے کر بلیک لسٹ کیا گیا تھا۔ امن معاہدے کے مسودہ پر دستخط کی تقریب کوافغان ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کیا گیا، تاحال حکمتیار سامنے نہیں آئے ہیں اور ان کے ٹھکانے کے بارے میں کسی کو بھی معلوم نہیں۔ دوسری جانب کابل میں اقوام متحدہ کے دفتر ٗامریکی اور برطانیہ کے سفارتخانوں نے افغان حکومت اور حزب اسلامی کے درمیان معاہدے کا خیرمقدم کیا حزب اسلامی کے مذاکراتی ٹیم کے سربراہ امین کریم نے اس موقعے پر کہا کہ امن معاہدہ افغانستان میں امن کے قیام میں اہم کر دار ادا کرے گا۔

ہماری دعا ہے کہ خدا کرے ایسا ہی ہو، جیسا سوچا گیا ہے امن کے بارے میں، البتہ ایک اہم مسئلہ حل طلب ہے کہ غیر ملکی افواج کے افغانستان سے نکلنے کے مسئلے پر بھی اختلافات برقرار ہے، ضرورت افغان طالبان کو مذاکرات کے عمل میں شامل کرنا ہے۔ وہ افغان ڈرامے کے ہملٹ ہیں۔

امریکا و دیگر عالمی قوتوں کو سوچنا چاہیے کہ اگر وہ خطے میں امن چاہتے ہیں تو افغانوں کے معاملات میں حددرجہ مداخلت سے پرہیز کریں انھیں اپنی مرضی کے فیصلے کرنے دیں تاکہ افغانستان میں ایک نئے دورکا آغاز ہو، گو کہ پاکستان کے تعاون سے متعدد بار مذاکرات کی میز پر طالبان اورافغان حکومت کے نمایندے اکٹھے ہوئے، لیکن دونوں بار امریکی ڈرون حملوں میں طالبان کے لیڈروں کی ہلاکت کے باعث یہ عمل سبوتاژ ہوا، نیت ٹھیک تو عمل بھی درست ہوتا ہے، اگرعالمی طاقتیں اپنی نیت درست کر لیں تو خطے میں امن بحال ہو سکتا ہے۔