افغان حکام دہشتگردوں کی حوالگی سے گریزاں کیوں
دہشتگرد افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور وہ ان کے لیے محفوظ جنت کا درجہ رکھتا ہے ۔
THANDWE, MYANMAR:
سرحد پاریعنی افغانستان سے خبرآئی ہے کہ ٹی ٹی پی سجنا گروپ کا ترجمان اعظم طارق اپنے بیٹے اورمزید ساتھیوں سمیت افغان صوبے پکتیکا میںافغان اورنیٹو افواج کے فضائی حملے میں ماراگیا ہے۔ افغانستان میں یقیناً افغان اور نیٹو افواج طالبان ودیگر گروہوں کے خلاف کارروائی کررہے ہیں، جو دہشتگردی کے خاتمے کا ایک مثبت عمل ہے، مطلوب دہشتگرد کی ہلاکت سے پاکستان کے اس موقف کی تصدیق ہوتی ہے کہ دہشتگرد افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور وہ ان کے لیے محفوظ جنت کا درجہ رکھتا ہے ۔
اعظم طارق کا شمار بیت اللہ محسود اور ولی الرحمان کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا، وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے بعد سجنا گروپ کے ارکان کی اکثریت سرحد پار کرکے افغانستان میں رہ رہی ہے۔ حکومت پاکستان نے متعدد بار افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرحدپار جانے والے دہشتگردوں کو پاکستان کے حوالے کیا جائے کیونکہ وہ ہمارے ملزم ہیں اور انھیں یہاں کے قوانین کے مطابق سزائیں ہونی چاہئیں، لیکن مقام افسوس ہے کہ متعدد بار پاکستانی وزیراعظم اور آرمی چیف کی افغان صدر سے ملاقات اور ملزمان کی حوالگی کے مطالبے کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا ہے ۔
یہ صلہ ہے پاکستان کی وفاؤں کا ۔ افغانستان کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کو سوچنا چاہیے کہ پاکستان نے برادر اسلامی ملک ہونے کے ناتے سے لاکھوں مہاجرین کو تین دہائی سے زائد عرصے تک اپنے گھر میں پناہ دی، عالمی فورم پر افغانستان کی ہرممکن سیاسی واخلاقی حمایت کی اور جواب میں افغان صدر غیروں کی بولی بولتے ہوئے پاکستان کو دھمکیاں دینے سے باز نہیں آتے۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد جب پاکستانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف تمام شواہد وثبوت کے ساتھ افغان صدر سے ملے تو انھوں نے اس ضمن میں کوئی قابل ذکر کردار ادا نہیں کیا ، پاکستانی دہشتگرد باسانی بارڈ کراس کر کے افغانستان چلے جاتے ہیں اور افغانستان میں خود کو محفوظ ومامون سمجھتے ہیں ۔
پاکستان نے نہ صرف افغان حکومت سے بلکہ عالمی فورم پر بھی یہ مسئلہ اٹھایا کہ پاکستان تو دہشتگردوں کی سرکوبی کے لیے بھرپورکارروائی کررہا ہے لیکن دہشتگرد فرار ہوکر افغانستان پہنچتے ہیں پھر وہاں سے دہشتگرد آ کر معصوم شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں ۔ اس دوعملی کا خاتمہ ہونا چاہیے جو پاکستان کے ملزم ہیں انھیں ہماری سیکیورٹی فورسز کے حوالے کیا جائے ، اگر ایسا نہ کیا گیا تو یاد رکھیں دہشتگردی کے خلاف جنگ بے اثر ثابت ہوگی کیونکہ یہی دہشتگرد افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کی واپسی کے بعد نہ صرف ملک میں انارکی پھیلانے کا سبب بنیں گے بلکہ آس پڑوس کی ریاستوں میں دہشتگردی کی کارروائیوں سے باز نہیں آئیں گے ۔ ہم نے ساٹھ ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ دنیا کو دہشتگردی سے بچانے کے لیے دیا ہے، عالمی اقوام اور افغانستان کو پاکستان کا جائز مطالبہ ماننا چاہیے جس سے خطہ اور پوری دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گا۔