کراچی کا امن برباد نہ ہونے دیا جائے
سماجی تنظیموں نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ کراچی کو پھر سے گینگ وار کا میدان جنگ بننے سے روکیں
شہر قائد کے گنجان آباد علاقوں گلبہار اور شیر شاہ ندی سے ملنے والی تین لاشیں شناخت کے بعد سگے بھائیوں کی نکلیں، پرانا گولیمار کے ان رہائشیوں کو جو نقل مکانی کرکے گلشن اقبال میں سکونت پزیر تھے اغوا کے بعد قتل کردیا گیا، پولیس کے مطابق کاشف، ثاقب اور عاشر عرف عاشق کی ہلاکت گینگ وار کے حریف گروپ کے کارندوں کی کارروائی ہوسکتی ہے تاہم تحقیقات کے بعد ہی پولیس کسی حتمی فیصلہ پر پہنچ سکتی ہے ۔
بہرحال اس گھناؤنے تہرے قتل کی واردات سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا ہے اور سماجی تنظیموں نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ کراچی کو پھر سے گینگ وار کا میدان جنگ بننے سے روکیں۔ یہ واردات کسی بھی بڑی جوابی انتقامی کارروائی کا سبب بھی بن سکتی ہے اور اندر ورلڈ کمانڈوز کی واپسی سے شہر کے امن کی مثبت کوششوں کو دھچکا بھی لگ سکتا ہے ، واضح رہے اتوار کو نارتھ ناظم آباد فائیو اسٹار چورنگی پر 2 نامعلوم دہشتگردوں نے فائرنگ کر کے ٹریفک پولیس کے سب انسپکٹر 40سالہ محمد ارشد کو شہید کر دیا اور موقع سے فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔
شہر میں امسال شہید کیے جانے والے پولیس افسران و اہلکاروں کی تعداد 23ہوگئی ۔ اس لیے الرٹ رہنے کی ضرورت ہے جب کہ گرفتاریوں کے عمل کی توسیع دے کر تمام کرمنلز کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے۔ یہ ہلاکتیں کسی جرائم پیشہ اور تشدد پسند گروپ کی مجرمانہ کارروائیوں کا شاخسانہ ہیں لہٰذا پولیس اور رینجرز کو مشترکہ طور پر ملزمان کی تلاش تیز کر کے انھیں کیفر کردار تک پہنچانا اشد ضروری ہے ۔
بلاشبہ کراچی کی ہیجانی سیاسی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے وفاق کی طرف سے کراچی آپریشن کا ردھم تھوڑا سا نرم رکھنے کی ہدایت سندھ حکومت کو مل چکی ہے تاہم اس سے دہشتگردوں اور ٹارگٹ کلرز تک یہ منفی پیغام نہیں جانا چاہیے کہ انھیں اس درمیانی مدت میں وارداتوں کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی حب کو دائمی امن اور قانون کی بالادستی درکار جب کہ پرتشدد واقعات کی روک تھام کے لیے فوری کارروائی ناگزیر ہے ۔