خطے کی صورتحال پر اہم کانفرنس

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کی لہر ختم کردی۔


Editorial September 27, 2016
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کی لہر ختم کردی۔ فوٹو؛ رائٹرز

DI KHAN: آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کی لہر ختم کردی لیکن بھارتی رویے کی وجہ سے تنازعات سنگین اور کشیدگی بڑھتی ہے جب کہ بھارت کشمیر سمیت دیگر دیرینہ مسائل کے حل پر اب تک آمادہ نہیں، بھارت کشمیر کے معاملے پر دنیا میں غلط فہمیاں پھیلا رہا ہے، مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے سے خطے میں جنگی ماحول پیدا ہو رہا ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' بالواسطہ ذرایع سے معصوم لوگوں کے خون سے کھیل رہی ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف ایک روزہ دورے پر جرمنی گئے جہاں انھوں نے یو ایس سینٹ کام کانفرنس آف چیفس آف آرمڈ فورسز میں شرکت کی جس میں میزبان جنرل جوزف ووٹل کمانڈر امریکی سینٹ کام کے علاوہ افغانستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور دیگر ممالک کے آرمی چیفس شریک ہوئے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ فوجی کمانڈروں کے اس اہم ترین اجتماع میں بھارت کو شامل نہیں کیا گیا۔

جنرل راحیل شریف نے خطے سے دہشتگردی کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم کانفرنس سے خطاب کیا جس میں خطے کی تہلکہ خیز تزویراتی صورتحال، بھارت کی جنگجویانہ بیان بازی ، مودی حکومت کی پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات سے پیدا شدہ تشویش ناک حالات کی نزاکتوں سے اپنے ہم منصبوں کو آگاہ کیا جب کہ برصغیر سمیت جنوب مشرقی و مغربی ایشیائی ممالک کے وسیع تر تناظر میں امن کو لاحق خطرات، بارڈر منجمنٹ ، بھارت کے منفی، اشتعال انگیز ، اور را کے تخریبی اسٹرٹیجی اور مقبوضہ کشمیر میں اس کے غیر انسانی ظلم و بربریت کو بے نقاب کیا ۔

بلاشبہ پاکستان کو درپیش دہشتگردی کے خطرات اور بھارت کے مخاصمانہ ، غیر حقیقت پسندانہ اور غیرذمے دارانہ ہرزہ سرائیوں کے سیاق و سباق میںجنرل راحیل شریف نے اس کانفرنس کو ایک معتبر عالمی ریفرنس فورم کے طور پر ٹریٹمنٹ دیتے ہوئے دنیا کے سامنے کشمیر سمیت خطے کے سرحدی اور داخلی مسائل اور ایشوز پر روشنی ڈالی جب کہ یہ بھی خوش آیند پیش رفت ہے کہ اس نازک دورانئے میں امریکی وزارت دفاع نے سینٹ کام کے زیر اہتمام اس کانفرنس کا بر وقت اہتمام کیا ۔

قرین قیاس ہے کہ غضبناکی میں بلاوجہ مبتلا بھارت اس کانفرنس کے انعقاد کو بھی پاکستان پر الزام تراشی کا بہانہ بنائے بغیر نہیں رہ سکے گا، کیونکہ خطے میں اس کی معاشی و عسکری بالادستی کے پندار کا بھرم ٹوٹ گیا ہے، یاد رہے 30 مارچ 2016 کو امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے یو ایس سینٹ کام میں کمانڈ کی تبدیلی کے موقع پر کہا تھا کہ سینٹرل کمانڈ نے عالمی سطح پر درپیش ہر چیلنج کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے، انھوں نے داعش کا تعاقب کرنے اور اس کا مکمل صفایا کرنے کے مشن کو سینٹرل کمانڈ کے لیے فیصلہ کن قرار دیا۔

اسی تقریب میں میرین کور کے جنرل ڈنفورڈ نے یو ایس سینٹ کام کے جن ملکوں میں دہشتگردی کے خاتمہ اور امن و داخلی استحکام کے ٹاسک کی بات کی اس میں عراق، شام، یمن، ایران، پاکستان، مصر، افغانستان اور لبنان شامل ہیں۔ یوں جرمنی میں منعقدہ عسکری قائدین کے مابین اشتراک عمل اور تبادلہ خیال کی اہمیت اور افادیت دو چند ہوجاتی ہے۔

فوجی ترجمان کے مطابق کانفرنس کے شرکاء نے اپنے ممالک کے درمیان کثیر جہتی فوجی تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا تاکہ ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کا مل کر مقابلہ کیا جا سکے اور دہشتگردی کی لعنت کو مشترکہ طور پر جامع انداز میں شکست دی جا سکے۔ ترجمان کے مطابق جنرل راحیل شریف نے کانفرنس میں شریک ممالک کو آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، اس جنگ میں ہمارا بہت جانی و مالی نقصان ہوا۔

دہشتگردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کی گئیں جب کہ دہشت گردوں کے ہمدرد اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کررہے ہیں، انھوں نے شرکاء کو لامحدود اور مستقل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دیگرممالک کی افواج پاک فوج کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ دہشتگردوں کے تمام ٹھکانے تباہ کردیے گئے ہیں تاہم دہشتگردی کے خلاف ہماری کوششوں کو ابھی بھی خطرات لاحق ہیں۔

جنرل راحیل کا کہنا تھا کہ بھارت نہیں چاہتا مسئلہ کشمیرجیسے تاریخی مسائل حل ہوں، مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے سے خطے میں جنگی ماحول پیدا ہو رہا ہے ، آرمی چیف نے بجا طور پر کہا کہ انتہائی مشکل مغربی سرحد کے بعض مقامات سے دہشتگرد موقعے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب کہ بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے ہم آہنگی کی کمی کی وجہ سے دہشتگردوں کو نقل و حرکت کا موقع ملتا ہے، اس حوالے سے انٹیلی جنس شیئرنگ کے لیے مربوط کوششیں اور ادارہ جاتی میکینزم جیسے معاملات ایک چیلنج ہیں، ان چیلنجوں کا فائدہ شرپسند اٹھا رہے ہیں اور ''را'' جیسی دشمن انٹیلی جنس ایجنسیاں اپنی تخریبی سوچ کو بروئے کار لا رہی ہے جس کی وجہ سے بے گناہ لوگوں کا خون بہتا ہے۔

دریں اثنا آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے پشاور میں صحافیوں کو ایک بریفنگ میں بتایا کہ فوج مشرقی سرحد کی صورتحال پرکڑی نظر رکھے ہوئے ہے جب کہ پاک افغان مغربی سرحد پر موثر بارڈر منجمنٹ کو یقینی بنانے کے لیے 20 پوسٹیں تعمیر کی جا چکی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ دہشتگردی روکنے کے لیے فالٹ فری اور موثر بارڈر منجمنٹ ضروری ہے، بھارت بجائے تعاون کے مسائل پیدا کررہا ہے جنگی جنون کا مظاہرہ کرتے ہوئے لڑنے پر آمادہ ہے،اس لیے شرقی و غربی سرحدی منجمنٹ اور رات دن مانیٹرنگ سے دہشتگردوں کے عزائم کو خاک میں ملایا جا سکے گا اور کوئی بد اندیش ملک پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کریگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارت ہوش کے ناخن لے۔