سعودی عرب میں کفایت شعاری کے اقدامات
شوریٰ کونسل کے ارکان کے گاڑی اور مکان کے لیے ملنے والے الاؤنسز میں بھی 15 فیصد تک کمی کی گئی ہے
سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان نے ایک حکم نامے کے ذریعے تمام غیر ضروری شعبوں میں غیر ملکی افراد کو ملازمت دینے پر پابندی عائد کی ہے۔ اخبار سعودی گزٹ کے مطابق سعودی دارالحکومت ریاض میں کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک کے وزراء کی تنخواہوں میں 20 فیصد کمی اور شوریٰ کونسل کے ممبران کی تنخواہوں میں 15 فیصد کمی کی جائے گی۔
شوریٰ کونسل کے ارکان کے گاڑی اور مکان کے لیے ملنے والے الاؤنسز میں بھی 15 فیصد تک کمی کی گئی ہے، شاہی حکم نامے کے تحت سرکاری ملازمین کو ملنے والے اضافی مالیاتی فوائد بھی واپس لے لیے گئے ہیں۔ وزراء اور ان کے عہدوں کے برابر سرکاری ملازمین کو 42دن کے بجائے 36 دن کی سالانہ چھٹیاں ہوں گی اور سرکاری ملازمین کو سالانہ چھٹی کے دوران ماہانہ ٹرانسپورٹ الاؤنس نہیں ملے گا۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر کیا گیا ہے کیونکہ مملکت کو تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن میں نمایاں کمی کا سامنا ہے اور بجٹ خسارے سے بچنے کے لیے ایسا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سعودی حکومت کے مذکورہ فیصلے کے تناظر میں اگر پاکستان کا جائزہ لیا جائے تو یہاں حد درجہ بڑی کابینہ اور وزراء سفراء کی ظفر فوج کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کا شتر بے مہار دکھائی دیتا ہے جب کہ ہر سال پیش کیے جانے والے خسارے کے بجٹ میں ان بڑی مچھلیوں کی تنخواہوں اور مراعات میں بھی بے تحاشا اضافہ کردیا جاتا ہے۔
حکومت پاکستان کو سعودی عرب کے اپنے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کمی کے فیصلے کی تقلید کرنی چاہیے، دوسری جانب اگر عالمی تناظر میں اس فیصلے کا جائزہ لیا جائے تو کئی مضمرات بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اس وقت مسلم امہ سخت بحران سے دوچار ہے، عراق، شام، یمن اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک امن و امان کی خراب ترین صورتحال کا سامنا کررہے ہیں، لاکھوں خاندان مغربی ملکوں میں پناہ گزین ہیں، بھوک ، افلاس اور بے روزگاری نے ہر طرف اپنے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، پاکستانی محنت کش بڑی تعداد میں واپس آرہے ہیں۔
ایسے میں مستحکم اور بڑے مسلم ممالک کو اتحاد امہ اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے صائب فیصلے لینے چاہئیں تاکہ غیر ممالک میں جاکر روزگار تلاش کرنے والے ہنرمند افراد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔