بھارتی مہم جوئی یا سائیکو وار

اگر بھارت نے پاکستان کا پانی روکا تو چین کو بھی بھارت کا پانی روکنے کا جواز مل جائیگا


Editorial September 28, 2016
۔ فوٹو: فائل

KARACHI: بھارت نے کشیدگی، جنگی جنون اوراشتعال انگیز بیانات کے ایک ساتھ کئی محاذ پاکستان کے خلاف کھول دیے ہیں۔ یہ ایک طرح کی اعصابی جنگ (سائیکو وار)ہے جس میں بھارت کی لاحاصل کوشش ہے کہ دنیا کشمیر میں بہیمانہ بھارتی مظالم کو بھلا دے اور خطے کو کثیر الجہتی بحران کی نذر کرکے پاکستان پر دباؤ مستقل بڑھایا جائے۔

یہ بات تو عالمی برادری کے ذرایع اور معتبر ماہرین جنگ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ بھارت پاکستان سے بڑی جنگ سے بوجوہ گریزکرے گا کیونکہ اسے خوف ہے کہ جنگ کتنے ہی روایتی ہتھیاروں سے کیوں نہ لڑی جائے بہر کیف آج کا پاکستان 65ء اور 71ء کا پاکستان نہیں ہے بلکہ برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کے مابین چھڑ جانے والی ہولناک جوہری جنگ تباہ کن ہوگی جب کہ پاکستان اپنے دفاع اور بھارت کی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

چنانچہ پاکستان کے مضبوط جوہری ڈیٹرنس اور لازوال عزم کے پیش نظر بھارتی حکمت عملی کسی انتقامی خفیہ کارروائی کے بہانے کی تلاش میں ہے جب کہ امن پسند حلقے اور پاک عسکری قیادت اور امن پسند حلقے پاکستان کے حکمرانوں کو بھارتی عزائم اور خبث باطن سے ہمہ وقت ہوشیار رہنے کی بروقت تلقین کررہے ہیں ، مگر غضبناکی اور جنگی جنون کے جس گرداب میں بھارتی حکومت خود کو پھنسا رہی ہے وہ خطے میں تباہی اور ہلاکت کا باعث بن سکتا ہے اس لیے عالمی برادری بھارتی عزائم کا ادراک کرے۔

جنرل اسمبلی کا اجلاس ''رات گئی بات گئی '' کے مترادف نہ ہو۔ بلاشبہ اس بے منزل اعصابی جنگ کا نشانہ سارک تنظیم بنتی رہی ہے ، بھارت نے اسے یرغمال بنائے رکھا ، کچھ دن پہلے بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے، اب مودی آنے سے کترا گئے حالانکہ علاقائی تعاون کے اصولوں پر مبنی اس تنظیم کی حیثیت علامتی ہے، اس لیے اسلام آباد کانفرنس میں عدم شرکت کا فیصلہ مودی کے سیاسی دیوالیہ پن، تنگ نظری کا مظہر ہے جس کی بنا پر بھارت رفتہ رفتہ ایک بند گلی میں داخل ہو رہا ہے۔ مودی سرکار کے نام نہاد چانکیائی مشیران جنگ نے انھیں جن مشوروں سے نوازا ان کے دباؤ میں آکر بھارتی وزیراعظم نے سارک اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا۔

میڈیا کی اطلاع کے مطابق وہ آبی جارحیت اور پاکستان کا پانی روکنے کے لیے سندھ طاس معاہدے کی تنسیخ کا فیصلہ کرنے کے لیے جمعرات (آج) ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کریں گے، مزید برآں عالم اضطراب میں مودی حکومت نے اڑی حملہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کے شواہد دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کرکے پیش کر دیے جو حکومت پاکستان نے مسترد کردیے۔ خود شیو سینا نے مودی پر پھبتی کسی ہے کہ اڑی حملہ سے پاکستان نہیں بھارت تنہا ہوگیا ، مودی کی پالیسی ناکام رہی۔ بھارت پاکستان سے پسندیدہ ملک کا اعزاز اور درجہ بھی واپس لینے کے لیے پر تول رہا ہے، مطلب یہ ہے کہ بھارت کو مودی اپنی مہم جوئی سے گنجینۂ بحران ثابت کر کے رہیں گے۔

قومی اسمبلی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارتی وزیر خارجہ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دینے کا بیان اور سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم کی دھمکیاں مسترد کرتے ہوئے متفقہ مذمتی قرارداد منظور کرلی جب کہ وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو اٹھا کر ہم پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے تاہم پاکستان کسی بھی قسم کا بھارتی دباؤ قبول نہیں کریگا، بھارت کی جانب سے آبی جارحیت یا سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی اور ایسے اقدام کو پاکستان کے خلاف جنگ تصور کیا جائیگا۔

اگر بھارت نے پاکستان کا پانی روکا تو چین کو بھی بھارت کا پانی روکنے کا جواز مل جائیگا۔ یہ حقیقت ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پانچ عشروں سے استقامت پذیر ہے، کسی حکومت نے اسے زک پہنچانے کی ہمت نہیں کی، تین جنگوں اور کارگل کے واقعے کے بعد بھی معطل نہیں کیا گیا، بھارت یکطرفہ طور پر معاہدے کے حوالے سے فیصلہ نہیں کر سکتا، تاہم اب اطلاعات آرہی ہیں کہ دباؤ آنے پر بھارت نے معاہدے کی معطلی کا ارادہ ترک کردیا ہے اور عالمی بینک نے سندھ طاس معاہدہ کے ضامن کے طور پر پاکستان کو سندھ طاس معاہدہ پر اس کی اصل روح کے مطابق عملدرآمد کی یقین دہانی کروا دی ہے۔

اس ضمن میں پاکستان نے سندھ طاس معاہدہ پر عملدرآمد کے لیے عالمی بینک سے رجوع کرلیا ہے۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کے وفد نے واشنگٹن میں عالمی بینک کے حکام سے ملاقات کی اور بھارت کیجانب سے سندھ طاس معاہدہ کی مسلسل خلاف ورزیوں اور کشن گنگا ڈیم کا معاملہ اٹھایا۔ذرایع کا کہنا ہے اس معاملہ پر عالمی بینک کی جانب سے اگلے چند روز میں فیصلہ کیا جائے گا۔ ادھر بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین اور دانشوروں نے کہا ہے کہ بھارت کو پانی کی جنگ مہنگی پڑے گی ، یہ غیرضروری اور غیرذمے دارانہ باتیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کی ممکنہ تنسیخ یا معطلی سمیت جنگی آپشن یا کسی بھی بھارتی مہم جوئی سے نمٹنے کیے پوری قوم، ارباب حکومت ، اپوزیشن جماعتیں اور عسکری قیادت ایک ہی پیج پر رہیں ۔اسی میں خطے کا مفاد ہے۔