درپیش مسائل اور گول میز کانفرنس کی تجویز

وزیر اعظم پرویز اشرف نے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری سے...


Editorial July 24, 2012
حکومت اگر گول میز کانفرنس کا اہتمام کرتی ہے تو یہ ایک احسن فیصلہ ہو گا۔ فوٹو: این این آئی

جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم نے پیر کو بطور چیف الیکشن کمشنر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے ان سے حلف لیا۔ حلف برداری کی تقریب میں عدالت عظمیٰ کے ججز صاحبان' الیکشن کمیشن کے افسران' وکلاء اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

اس طرح اگلے عام انتخابات کی جانب بڑھنے کے سلسلے میں ایک بڑا مرحلہ طے پا گیا ہے' وزیر اعظم پرویز اشرف نے بالکل درست کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری سے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی ہو گا' وہ غیرمتنازعہ شخصیت ہیں جن کا متفقہ انتخاب تمام سیاسی جماعتوں کی کامیابی ہے' اب کوئی انتخابات پر انگلی نہیں اٹھا سکے گا۔ وزیر اعظم نے فخرالدین جی ابراہیم کو ٹیلی فون کر کے انھیں عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور انتخابات میں حکومت کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی جو ظاہر ہے ایک خوش آیند پیشکش اور پیش رفت ہے۔

حکومت الیکشن کمیشن آف پاکستان سے بھرپور تعاون کرے گی تو اس کے لیے شفاف انتخابات کا انعقاد زیادہ آسان ہو جائے گا تاہم ضروری ہے کہ حکومت الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش نہ کرے کیونکہ اگر ایسا کیا گیا تو اتفاق رائے سے چیف الیکشن کمیشن کے انتخاب کا عمل بے فائدہ ہو کر رہ جائے گا اور وہ انگلیاں جو ماضی کے عام انتخابات کے نتائج پر اٹھا کرتی تھیں آیندہ بھی اُٹھتی رہ سکتی ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ حکومت خود کو ان معاملات سے بچانے کی کوشش کرے گی تاکہ بعد ازاں کوئی بھی اسے مطعون نہ کر سکے۔ اب جب کہ حکومت اور اپوزیشن نے مل کر ایک اہم مرحلہ طے کر لیا ہے تو ضروری ہو گیا ہے کہ دیگر اہم معاملات طے کرنے اور دیرینہ حل طلب داخلی مسائل پر بھی توجہ دی جائے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری اس سلسلے میں آگے بڑھنے کی اہمیت سے آگاہ ہیں اسی لیے انھوں نے پیر کو بلاول ہائوس کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو میں جہاں یہ کہا کہ ملکی سلامتی سمیت تمام قومی ایشوز پر سیاسی اور اتحادی قوتوں سے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، وہاں انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ملکی مسائل کے حل کے لیے ایم کیو ایم کی جانب سے گول میز کانفرنس بلانے کی تجویز اچھی ہے، وہ اس کی تائید کرتے ہیں۔ صدر نے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو ہدایت کی کہ تمام قومی ایشوز پر جلد گول میز کانفرنس بلائی جائے جس میں اہم مسائل اور معاملات پر سیاسی قوتوں سے مشاورت کر کے مستقبل کے لیے ایک مربوط لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔

وفد نے صدر مملکت کو ان خطرات سے بھی آگاہ کیا جو ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خیال میں اس ملک کو درپیش ہیں جب کہ ملاقات میں سیاسی صورتحال، کراچی میں امن و امان، بلدیاتی نظام، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہمارے خیال میں ایم کیو ایم کی پیش کردہ تجویز مناسب اور صائب ہے جس پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔ ہمارا ملک فی زمانہ متعدد گمبھیر نوعیت کے مسائل کا شکار ہے' یہاں دہشت گرد اور دہشت گردی دونوں ایک بار پھر سر اُٹھا رہے ہیں جس کی مثال حالیہ دنوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے تخریب کاری کے واقعات ہیں جن میں درجنوں قیمتی جانیں ضایع ہو گئیں' یہ صورتحال متقاضی ہے کہ حکومت زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر ملک میں پائیدار امن قائم کرنے کے سلسلے میں کردار ادا کرے کیونکہ یہ اسی کی ذمے داری ہے' عوام نے اسی مقصد کے لیے اسے اپنے مینڈیٹ سے نوازا ہے۔

یہاں توانائی کا بحران ایک عرصے سے جاری ہے جس پر قابو پانے کے حکومتی سطح پر کئی اور کئی بار دعوے کیے گئے لیکن تاحال لوڈ شیڈنگ پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ ضروری ہے بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے' اس سلسلے میں عملی اقدامات ہونے چاہئیں۔ ہمارا ملک پچھلے کچھ عرصے سے مالی بحران کا بھی شکار ہے جس پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ ملکی معیشت کو ٹھوس بنیادیں فراہم کی جائیں۔ ایک اور مسئلہ تیزی سے بڑھتی ہوئی کرپشن ہے جس نے ملکی معیشت کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں' سماجی سطح پر کرپشن کے باعث متمول اور غریب طبقات میں جو بے چینی' فاصلے اور تنائو بڑھ رہا ہے اس کے نتائج ملکی سالمیت اور استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں چنانچہ کرپشن پر قابو پانا بھی وقت کا اہم ترین تقاضا ہے کیونکہ اس کے بغیر ملکی معیشت کو ترقی دینا ممکن نظر نہیں آتا۔

بلوچستان میں داخلی سطح پر امن کا قیام یقینی بنانا اور کراچی میں روزانہ کی بنیاد پر کھیلی جانے والی خون کی ہولی روکنے کے لیے اقدامات کرنا بھی ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ اگر اس سلسلے میں فوری کام نہ کیا گیا تو یہ زخم بڑھتے بڑھتے ناسور کی شکل اختیار کر جائیں گے جس کا کوئی علاج ممکن نہ ہو گا۔ چنانچہ ان اور دیگر اہم نوعیت کے معاملات' ایشوز اور مسائل پر اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے حکومت اگر سربراہ مملکت کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ایک گول میز کانفرنس کا اہتمام کرتی ہے تو یہ ایک احسن فیصلہ ہو گا جس کے نہایت اچھے اثرات سامنے آنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

صدر مملکت نے کراچی سے بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور ڈرگ مافیا کے خاتمے کے لیے سندھ حکومت کو ہدایات جاری کیں اور کہا کہ کراچی کے مسئلے کے پائیدار حل کے لیے سیاسی قوتوں سے ڈائیلاگ کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ صدر نے وزیر اعلیٰ سندھ کو ہدایت کی کہ سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے قیام کے لیے مشاورت کا سلسلہ جلد سے جلد مکمل کیا جائے اور اس حوالے سے ایم کیو ایم سمیت تمام اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ قبل ازیں تھرکول کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ تھر میں کوئلے کے ذخائر سے توانائی حاصل کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر قلیل، درمیانی اور طویل المدت پالیسیوں کو مرتب کر کے ان پر کام فوری شروع کیا جائے'

وفاقی حکومت تھرکول پروجیکٹ کے لیے فنڈز کا فوری اجراء کرے۔ حکومت اگر صدر کی ہدایات کی روشنی میں اقدامات کرے تو یہ دور رس اثرات و نتائج کے حامل ہو سکتے ہیں' کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے وہاں امن ہو گا تو پورے ملک میں اس کے مثبت اثرات محسوس کیے جا سکیں گے' سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے قیام سے عوام کو نچلی سطح تک اختیارات حاصل ہونے کے نئے در وا ہوں گے اور تھرکول پروجیکٹ اس لیے ہماری امیدوں کا مرکز ہے کہ اس سے ہم اپنی توانائی کے بحران پر قابو پانے کے سلسلے میں مدد لے سکتے ہیں۔