سانحہ بلدیہ کو 3 ماہ بیت گئے33 لاشیں تاحال ناقابل شناخت

اپنے پیاروں کی یاد میں خود ان کی زندگی انتہائی کٹھن ہوگئی ہے.


Staff Reporter December 11, 2012
اہل خانہ نے کہا کہ بار بار ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے سیمپل لیے جاتے ہیں لیکن ان کی رپورٹس موصول ہی نہیں ہورہی ہیں. فوٹو: اے ایف پی / فائل

بلدیہ ٹائون کی گارمنٹس فیکٹری میں تاریخ کی بدترین آتشزدگی کے واقعے کو 3 ماہ بیت گئے۔

واقعے میں 259 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے33 لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی جس کی وجہ سے ان کے پیارے انتہائی کرب میں مبتلا اور ہر پل جینے مرنے کی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔

اہل خانہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں،انھوں نے متعلقہ حکام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکام کو ان کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور بار بار ڈی این اے ٹیسٹ لیے جارہے ہیں لیکن رپورٹس نہیں آرہی ہیں،اپنے پیاروں کی یاد میں ان کی زندگی امتحان بن گئی ہے،تفصیلات کے مطابق 11 ستمبر کو بلدیہ ٹائون میں واقع گارمنٹس فیکٹری علی انٹر پرائزز میں تاریخ کی بدترین آتشزدگی نے 259 قیمتی جانوں کو نگل لیا تھا،واقعے کو3 ماہ بیت گئے لیکن 3 ماہ بعد بھی اب تک 33 لاشوں کیشناخت نہیں ہوسکی ہے ، شناخت نہ ہونے کے باعث ان کے پیارے انتہائی کرب میں مبتلا اور ہر پل جینے مرنے کی کیفیت سے گزر رہے ہیں ۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اپنے پیاروں کی یاد میں خود ان کی زندگی انتہائی کٹھن ہوگئی ہے اور وہ لاشوں کے حصول کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ، انھوں نے کہا کہ حکومت کو ان کی کوئی پرواہ نہیں اور ان کے غم میں مزید اضافہ کررہی ہے ، اہل خانہ نے کہا کہ متعلقہ حکام ان کی بات نہیں سن رہے، بار بار ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے سیمپل لیے جاتے ہیں لیکن ان کی رپورٹس موصول ہی نہیں ہورہی ہیں، ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے چند روز قبل دوبارہ سیمپل لیے گئے لیکن اس سے قبل لیے جانے والے سیمپلز کی رپورٹس 3 ماہ بعد بھی موصول نہیں ہوئی ہیں،متعلقہ حکام ان کے دکھوں کا مداوا کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آرہی ہے۔