عراق میں بم دھماکوں اور فائرنگ سے ہلاکتیں

عراق کے 19شہروں میں پیر کو بم دھماکوں، فائرنگ اور تشدد کے 28...


Editorial July 24, 2012
بم دھماکوں میں 15 فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ فوٹو: رائٹرز

عراق کے 19شہروں میں پیر کو بم دھماکوں، فائرنگ اور تشدد کے 28 واقعات میں 111 افراد ہلاک جب کہ 35 زخمی ہو گئے، مرنے والوں میں 15 فوجی بھی شامل ہیں۔ ذرایع ابلاغ کے مطابق تاجی شہر میں سڑک کنارے نصب متعدد بموں کے دھماکوں کے بعد ایک کار بم دھماکا ہوا جس کے بعد ایک خودکش دھماکا ہوا، ان دھماکوں میں زیادہ تر ایمرجنسی کے وقت امدادی کام کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

ابھی تک کسی گروپ نے حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی تاہم القاعدہ نے تین ہفتے قبل علاقے کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کی دھمکی دی تھی۔ عراق میں القاعدہ کے فرنٹ گروپ کا کہنا ہے کہ وہ ججوں اور استغاثہ کو نشانہ بنائے گا اور عراقی جیلوں سے اپنے قیدیوں کو فرار ہونے میں مدد کی کوشش کرے گا۔ یوں تو عراق میں امریکی حملے کے وقت سے ہی آگ اور خون کا گھنائونا کھیل جاری ہے جس میں اب تک سیکڑوں بلکہ ہزاروں عراقی اپنی جانیں ضایع کر چکے ہیں تاہم طویل عرصے کے بعد عراق میں دہشت گردی کے اتنے زیادہ واقعات اور اتنی زیادہ ہلاکتیں غماز ہیں کہ وہاں حکومت مخالف قوتیں نہ صرف موجود ہیں بلکہ وقت کے ساتھ طاقت بھی پکڑ رہی ہیں۔

امدادی کام کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانا ظاہر کرتا ہے کہ یہ قوتیں حکومت ہی نہیں عوام کو بھی خوف میں مبتلا کرنا چاہتی ہیں تاکہ انھیں اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کا موقع مل جائے۔ جس انداز میں یہ دھماکے کیے گئے ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پوری کارروائی باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے کی گئی۔ اس طرح عراقی حکومت کو فرقہ وارانہ اختلافات کے علاوہ دہشت گردی سے نمٹنے کا چیلنج بھی درپیش ہے اور اسے اس بارے میں مناسب اقدامات کرنے چاہئیں

کیونکہ یہ واضح ہے کہ جب تک ملک میں افراتفری پھیلانے والے عناصر کا مکمل قلع قمع نہیں کیا جائے گا اس وقت تک ایسے مزید واقعات پیش آنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔ یہ ایک طرح سے عراقی حکومت کا امتحان ہے کہ اپنی رٹ قائم کرنا اور حالات کو کنٹرول میں رکھنا اس کی ذمے داری ہے۔ عراق کی انتظامی مشینری میں چاہے جتنے میں داخلی اختلافات کیوں نہ ہوں انھیں کم از کم اپنے ملک کو دہشت گردوں سے بچانے کے لیے ایک ہو جانا چاہیے کہ یہی حالات کا تقاضا اور وقت کی آواز ہے۔