عالمی کتب میلہ ختم عوامی شرکت اور خریداری کے گزشتہ ریکارڈ ٹوٹ گئے

عوام کا اصل چہرہ علم اورکتابوں سے محبت ہے،خالدعزیز، پبلشرزاوربک سیلرزنے کتابوں کی قیمتوں پر متوقع رعایت نہیں دی،شرکا


Staff Reporter December 11, 2012
کتب میلے میںمتحدہ کے رہنما رضا ہارون،فیصل سبزواری، حیدرعباس ویلکم بک پورٹ کے اسٹال پرموجود ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

پاکستان پبلشرزاینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے تحت آٹھواں عالمی کتب میلہ5روز تک جاری رہنے اور اپنی تمام ترگہماگہمی کے ساتھ پیرکوختم ہوگیا۔

کتب میلے میں عوامی شرکت اورکتابوں کی خریداری کے گذشتہ 7 سال کے ریکارڈ ٹوٹ گئے اورکتب میلے میں کراچی کے عوام بالخصوص اسکول ،کالجوں اورجامعات کے طلبا کی جانب سے کتابوں کی خریداری کاحیرت انگیزرجحان دیکھنے کوملاکراچی کے بعض پبلشرزکے مطابق انھوں نے5 روز تک منافع بخش کاروبارکیا ہے اور5 روز تک ان کے اسٹالز سے کتب کی فروخت گذشتہ برسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ رہی ہے دوسری جانب کتب میلے میں موجود لوگوں کاکہناتھاکہ انھیں توقع سے کم رعایت پرکتابیں فروخت کی گئی ہیں اوربعض پبلشرزنے کتب کی فروخت میں کسی قسم کی رعایت نہیں کی پبلشرزاوربک سیلرزنے روایتی ڈسکائونٹ دینے کی بھی زحمت نہیں کی تاہم کتاب دوستی کی بنیاد پر انھوں نے کتابیں خریدی ہیں، میلے میں شریک افراد کاکہناتھاکہ جس طرح عوام کی جانب سے کتب میلے کوپذیرائی ملی ہے۔

1

واضح رہے کہ ''نواں کراچی بین الاقوامی کتب میلہ''آئندہ برس 5 سے 9 دسمبرکو ایکسپوسینٹرمیں منعقد ہوگاجس کے لیے پاکستان پبلشرزاینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے ابھی سے 3 ہالز بک کرالیے گئے ہیں،دوسری جانب پاکستان پبلشرزاینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عزیز خالد نے کتب میلے کے کامیاب انعقاد اور اس میں غیرمعمولی عوامی شرکت پرکراچی کے لوگوں کاشکریہ اداکرتے ہوئے کہاہے کہ دراصل کراچی اور پاکستان کے عوام کااصل چہرہ علم اورکتابوں سے دوستی اورمحبت ہے جواس کتب میلے کے ذریعے سے دیکھنے کوملی ہے۔

آٹھویں کراچی بین الاقوامی کتب میلے کے آخری روز پیرکوتعطیل نہ ہونے کے باوجود بھی صبح سے رات تک بڑی تعداد میں عوام کاجم غفیر دیکھنے میں آیا کتب میلے کے آخری روز پیرکی صبح بڑی تعداد میں نجی اسکولوں اورکالجوں سمیت بعض سرکاری ونجی جامعات کے اساتذہ اورطلبا وطالبات ایکسپوسینٹرپہنچے اور نصابی کتب کے علاوہ اپنے ذوق اورمضامین سے متعلق معاون کتب کی خریداری کی کراچی کتب میلے کے آخری روز دوپہرمیں کراچی میں مقیم ایرانی قونصل جنرل مہدی صبا جبکہ جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرپیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے بک فیئرکا دورہ کیا، بعض اسٹالزپرلوگ پیپلزپارٹی کی شہید رہنما محترمہ بینظیربھٹو،ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین، سابق صدرپرویز مشرف اورعمران خان کے علاوہ دیگرسیاست دانوں کے حوالے سے شائع کی گئی کتابوں کی خریداری کرتے ہوئے بھی نظرآئے۔