سرد موسم کا آغاز کراچی میں نمونیا نے شدت اختیار کرلی

2 ماہ کے دوران کراچی کے اسپتالوں میں نمونیا میں مبتلا 4 ہزار بچے لائے گئے ہیں.


Staff Reporter December 11, 2012
بچوں کوحفاظتی ٹیکہ جات اور نوموکوکل کاکورس مکمل کرایا جائے،ڈاکٹر خمیسانی ۔ فوٹو: فائل

کراچی میں سرد شروع ہوتے ہی بچوں میں نمونیا کا مرض شدت اختیار کرنے لگا،کراچی کے مختلف اسپتالوں میں گذشتہ 2 ماہ کے دوران اس مرض میں مبتلا 4 ہزار بچے لائے گئے ان میں سول اسپتال کراچی،چلڈرن اسپتال، قومی ادارہ اطفال برائے صحت بھی شامل ہیں، 20 دسمبر سے بچوںکونمونیا سے بچاؤکی حفاظتی ویکسین نوموکوکل کوپہلی بارقومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام میں شامل کرلیا جائیگا۔

پاکستان میں سالانہ30 ہزارسے زائد بچے نمونیا سے ہلاک ہوجاتے ہیں حکومت نے نمونیا سے بچاؤکی نئی حفاظتی ویکسین کوقومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام میں شامل کرلیا ہے، تفصیلات کے مطابق کراچی میں سرد موسم شروع ہوتے ہی بچوں میں نمونیا کا مرض شدت اختیارکررہا ہے ، سول اسپتال ، سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال، قومی ادارہ اطفال برائے صحت سمیت دیگرنجی وسرکاری اسپتالوں میں یومیہ درجنوں بچے اس مرض میں رپورٹ ہورہے ہیں، سول اسپتال کے بچوں کی ایمرجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ 2 ماہ کے دوران ڈھائی ہزار بچے نمونیا کے مرض میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

2

جبکہ قومی ادارہ اطفال اورچلڈرن اسپتال ناگن چورنگی میں بھی یومیہ درجنوں بچے نمونیا کی علامات میں رپورٹ ہورہے ہیں بچوںکے قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام میں پہلی بار نمونیا سے بچاؤکی ویکسین نوموکوکل کو شامل کرلیاگیا ہے ای پی آئی کے صوبائی مینجرڈاکٹر مظہرخمیسانی نے بتایا کہ نمونیا سے بچائوکی حفاظتی ویکسین نوموکوکل کی پہلی خوراک ڈیڑھ ماہ کی عمر میں ،دوسری خوراک ڈھائی ماہ کی عمر میں جبکہ تیسری خوراک ساڑھے تین ماہ کی عمر میں دی جائیگی ۔