قتل کا الزام ملزم کی عبوری ضمانت میں توثیق کردی گئی

5برس سے زیرالتوا مقدمے میں پولیس فائل جمع نہ کرانے پر پولیس افسر کو شوکاز نوٹس


Staff Reporter July 25, 2012
5برس سے زیرالتوا مقدمے میں پولیس فائل جمع نہ کرانے پر پولیس افسر کو شوکاز نوٹس فائل فوٹو

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وسطی محمد عظیم نے قتل کے الزام میں ملوث حیدر رضا کی عبوری ضمانت کی درخواست ناصر احمد ایڈووکیٹ کی حتمی دلائل سننے کے بعد درخواست میں توثیق کردی،قبل ازیں عدالت کو اصل حقائق سے وکیل نے آگاہ کیا کہ ملزم مقدمے میں نامزد نہیں اور نہ ہی کوئی کردار ہے، پولیس کی بددیانتی دستاویزات کی شکل میں موجود ہے،

استغاثہ کے مطابق تھانہ سرسید میں مدعی سید ریحان رضوی کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج تھی تاہم مدعی کے والدہ نے سی آئی ڈی کو درخواست دی تھی جس میں انکشاف کیا تھا کہ اس کی بہو کے مراسم حیدر رضا سے خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں اور شبہ ظاہر کیا تھا کہ اس کے بیٹے کو بھی اسی نے قتل کیا ہے ، سی آئی ڈی نے ملزم اور دیگر اہل خانہ کو ہراساں کرنا شروع کردیا تھا اور تھانے میں یرغمال بناکر حبس بے جا میں رکھا گیا تھا،

ملزم کے وکیل نے سی آئی ڈی کے پولیس افسر سید محسن حسین اور دیگر کیخلاف مقدمہ درج کرنے سے متعلق درخواست بھی دائر کی جو کہ زیر سماعت ہیں،جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی حاتم عزیز نے پبلک پراسیکیوٹر سید شمیم احمد کی تحریری شکایت پر تھانہ بوٹ بیسن کے پولیس انسپکٹر نصراﷲ کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے2روز میں جواب طلب کرلیا،

قبل ازیں وکیل سرکار نے تحریری طور پر عدالت کوآگاہ کیا کہ قتل کی دھمکی دینے کے الزام میں ملزم شبیر حسین کے مقدمہ5برس سے پولیس فائل نہ ہونے کے باعث التوا کا شکار ہے، جج حسن فیروز نے شہریوں کو حبس بے جا میں رکھنے پر پولیس کی رپورٹ سے مطمئن نہ ہوسکے، تھانہ گارڈن اور نبی بخش کے ایس ایچ اوز کو عدالت میںطلب کرلیا ہے۔