ہائیکورٹ کی سانحہ بلدیہ کے گواہوں کو تحفظ دینے کی ہدایت

شواہدکومحفوظ رکھنےکے اقدامات اور پولیس گواہوں کو تحفظ فراہم کرے،تحقیقاتی ٹریبونل کی رپورٹ پیش کی جائے،دو رکنی بینچ.


Staff Reporter December 13, 2012
فیکٹری مالکان اور دیگر کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت، پولیس ضمنی چالان جمع کرانے میں ناکام، عدالت کا اظہار برہمی۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ نے سانحہ بلدیہ گارمنٹس فیکٹری کے گواہوں کوتحفظ فراہم کرنے اور شواہد کومحفوظ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

بدھ کو ہائیکورٹ کے دومختلف بینچوں نے سانحہ بلدیہ ٹائون سے متعلق مقدمات کی سماعت کی،جسٹس آفتاب گورڑ پرمشتمل سنگل بینچ نے فیکٹری مالکان شاہد بھائیلہ ،زاہد بھائیلہ ، فیکٹری ملازم منصور احمد اور چوکیداروں کی ضمانت پر رہائی کی درخواستوں کی سماعت کی جبکہ جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سانحہ بلدیہ کے متعلق سندھ ہائیکورٹ کے ازخود نوٹس کی سماعت کی۔

ندیم شیخ ایڈووکیٹ اور ہیومن رائٹس کمیشن کی درخواستوںکی سماعت کے دوران پائلر کے وکیل نے متفرق درخواست دائر کی جس میں الزام عائد کیاگیا کہ فیکٹری مالکان گواہوںپر دبائو ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنے بیانات سے منحرف ہوجائیں اس سے حقائق سامنے نہیں آسکیں گے، گواہوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

فاضل بینچ نے ہوم سیکریٹری سندھ،آئی جی اور تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انھیں ہدایت کی کہ مقدمے کے تمام گواہوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور سانحے کے سلسلے میں جو شواہد ابھی تک ریکارڈ پر آچکے ہیں انھیں بھی محفوظ رکھنے کے اقدامات کیے جائیں اور آئندہ سماعت 19دسمبر کو فیکٹری میں آتشزدگی کی تحقیقات سے متعلق ہائیکورٹ کے سابق جج کی سربراہی میں ٹریبونل کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی جائے۔

04

جبکہ جسٹس آفتاب گورڑ پر مشتمل بینچ کے روبرو فیکٹری کے ملازم محمد منصور کے وکیل خواجہ شمس الاسلام ایڈووکیٹ نے درخواست ضمانت پر اپنے دلائل میں موقف اختیارکیا کہ ان کا موکل فیکٹری کا ملازم ہے،اسکا ماموں آتشزدگی میں جاںبحق ہوگیا،وہ اپنی آمدنی سے محروم ہوگیا ،اس کے اہل خانہ فاقوںکا شکار ہیں ایسے شخص کی گرفتاری کا کوئی جوازنہیں،مختلف این جی اوز نے دکانیں کھول رکھی ہیں ،یہ جھوٹ کے سہارے اپنی ان دکانوںکی تشہیر چاہتے ہیں۔

فیکٹری مالکان ملازمین کو پیسہ دینا چاہتے ہیں لیکن یہ این جی اوز اپنا دھندہ چلانا چاہتی ہیں،فیکٹری کو تحفظ دینا حکومت کی ذمے داری تھی،اگر یہ مان لیا جائے کہ فیکٹری مالکان اور انتظامیہ کی غفلت کے باعث فیکٹری میں آگ لگی جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تو متعلقہ سرکاری ادارے اور وزرا آغا سراج درانی، عبدالرئوف صدیقی ان سے زیادہ غفلت کے مرتکب ہوئے انھیں بھی انصاف کے کٹہرے میں لایاجانا چاہیے،بدھ کو ان کے دلائل مکمل ہوگئے،آئندہ سماعت 17دسمبر کو سرکاری وکیل دلائل شروع کرینگے،سانحہ بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس میں پولیس ضمنی چالان جمع کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔

عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دو روز کا مزید وقت دیا ہے،بدھ کو مقدمے میں ملوث فیکٹری مالکان ارشد بھائیلہ ، شاہد بھائیلہ ، جنرل منیجر منصور فضل احمد ، ارشد محمودکو جیل حکام نے جوڈیشل مجسٹریٹ غربی محمد افضل روشن کے روبرو پیش کیا اس موقع پر ضمانت پر رہا عزیز بھائیلہ عدالت میں موجود تھے مقدمے کے تفتیشی افسر نے مقدمے کا ضمنی چالان جمع کرانے کیلیے مزید مہلت کی استدعا کی تھی تاہم فاضل عدالت نے برہمی کے بعد 14دسمبر تک وقت دیا اور سماعت ملتوی کردی ہے۔