مورتیوں کو تحویل میں لینے سے متعلق دائر درخواست پر نوٹس جاری

مورتیوں کو تحویل میں لینے سے متعلق دائر درخواست پر نوٹس جاری


Staff Reporter July 25, 2012
مورتیوں کو تحویل میں لینے سے متعلق دائر درخواست پر نوٹس جاری، فوٹو فائل

SADIQABAD: کورنگی کے علاقے سے برآمد ہونے والی گندھارا تہذیب کی قدیم نایاب مورتیاں محکمہ آثار قدیمہ نے محفوظ کرنے کیلیے اپنی تحویل میں لینے کیلیے پولیس سے رابطہ کیا تھا تاہم پولیس کے انکار پر ڈائریکٹر آثار قدیمہ نے عدالت سے رجوع کرلیا ہے،

تفصیلات کے مطابق محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر قاسم علی قاسم نے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی محمد حلیم احمد کی عدالت میں ملزمان ظفرعلی اور آصف مجید سے برآمد ہونے والی گندھارا تہذیب کے نایاب مورتیوں کو اپنی تحویل میں لینے سے متعلق دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ پولیس نے ملزمان سے قدیمی مورتیاں برآمد کی تھیں جو کہ تھانے میں غیر محفوظ ہیں اور انھیں محفوظ رکھنے کیلیے ان کے حوالے کی جائیں تاکہ ان تمام نوارادت کو نیشنل میوزم کراچی میں محفوظ کیا جاسکے، اس موقع پر مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو تحریری طور پربتایا کہ محکمہ آثار قدیمہ نے مورتیاں اپنی تحویل میں لینے سے متعلق اعلیٰ افسران سے رجوع کیا تھا، مورتیاں متعلقہ تھانے میں موجود ہیں جو کہ کیس پراپرٹی ہے پولیس کو مورتیاں ان کے حوالے کرنے کا اختیار نہیں،

اگر عدالت انھیں دینا چاہے تو پولیس کو کوئی اعتراض نہیں ہے فاضل عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر کو 28جولائی کو عدالت میں طلب کرلیا ہے، دریں اثناء ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی نے گندھارا تہذیب کی نایاب مورتیاں اسمگل کرنے کے الزام میں ملوث آصف بٹ اور عاطف بٹ کے عبوری ضمانت میں وکیل صفائی کی عدم حاضری کے باعث 4اگست تک توسیع کردی ہے۔