بلوچستان میں آئین کا نفاذ ہو رہا ہے نہ عدالتی حکم پر عملدرآمد۔ چیف جسٹس

عدالتی احکامات پر عمل کرنا ممکن نہیں رہا تو لکھ کر دے دیں،پھرعدالت فیصلہ کردے گی، جسٹس افتخارچوہدری


عدالتی احکامات پر عمل کرنا ممکن نہیں رہا تو لکھ کر دے دیں،پھرعدالت فیصلہ کردے گی،جسٹس افتخارچوہدری۔ فوٹو ایکسپریس

ISLAMABAD: سپریم کورٹ نے بلوچستان میں امن وامان کے بارے میں ریاستی ناکامی کے حوالے سے وفاق ،بلوچستان حکومت، ایف سی اور وزارت دفاع سے تحریری جواب طلب کرلیا ہے جبکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں آئینی بریک ڈائون ہوگیا۔

آئین کا نفاذ ہورہا ہے نہ عدالتی حکم پر عمل، بظاہر انتظامی مشینری عمل درآمد کرانے میں ناکام رہی،کوئی فورس، بشمول آئی ایس آئی ، ایم آئی کام نہیں کررہی، چھ ماہ سے کہہ رہے ہیں مگر نتیجہ صفر ہے،چیف سیکریٹری کو لکھ کر دینا ہوگا کہ امن و امان کے قیام میں ناکام ہوگئے،اب قانون نے جو اجازت دی وہ عدالت لکھ دے گی۔ منگل کو سپریم کورٹ نے بلوچستان بدامنی کیس میں آرڈرجاری کرتے ہوئے قراردیا ہے کہ اغوا برائے تاوان ،قتل، ٹارگٹ کلن معمول بن گئی ہے ،آئین کی عمل داری ختم ہوگئی اوربظاہر انتظامی مشینری ناکام ہوگئی ہے،کیس کی سماعت آج پھر ہوگی۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی توصوبائی چیف سیکریٹری کے نہ آنے پر ججز نے اظہار ناراضی کیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر عمل نہیں ہورہا، ہم وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو بلالیتے ہیں، کسی ایک کیس کو سول، پولیس ، ایف سی ، آرمی والے حل نہیں کر سکے۔ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان امان اللہ کنرانی نے عدالت کو بتایا کہ عدالت نے جن 30لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کی ہدایت کی تھی وہ ابھی تک بازیاب نہیں ہوسکے تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے اس حوالے سے کوشاں ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا فوج،پولیس اور ایف سی کی کارکردگی صفر ہے، معاملہ قابو سے باہر ہو رہا ہے اوراداروں کی طرف سے کوئی سنجیدگی دیکھنے میں نہیں آرہی،عدالت چاہتی ہے کہ ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان کے واقعات ختم ہوں اور آئین کی عمل داری قائم ہوجائے،اگر سب نے ہاتھ کھڑے کردیے ہیں تو پھر سیکریٹری دفاع اور وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری لکھ کر دیں کہ عدالت کے احکامات پر عمل کرنا ممکن نہیں رہا، پھر عدالت ہی فیصلہ کرے گی۔

آئی جی ایف سی کی طرف سے جواب جمع کیا گیا کہ 13جولائی کو جن آٹھ افراد کے پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا وہ ایف سی کی تحویل میں نہیں ہیں،اگر اس حوالے سے تحقیقات ایف سی سے کرانی ہے تو انھیں پولیس کا اختیار دیا جائے یا پھر آزادانہ کمیشن تشکیل دیا جائے ، یکم جنوری سے اب تک بلوچستان میں دہشت گردی کے 829واقعات ہوئے جن میں 429افراد لقمہ اجل بنے، ہلاک شدگان میں 59ایف سی اہلکار،29پولیس والے7فوجی اور 326شہری شامل ہیں جبکہ ایف سی پر 169پولیس پر 35اور لیویز پر 9حملے ہوئے۔

جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ وہ علاقہ جس کے بارے میں سیکیورٹی اداروں کی یہ رپورٹ ہے کہ غیر ملکی حالات خراب کرنے میں ملوث ہے پھر اس علاقے کو سنبھالنے کے لیے کوئی متحرک منصوبہ بندی کیوں نہیں کی گئی، حالات اس قدر خراب ہیں کہ ٹرک میں لوگ آکر سیکیورٹی اہلکاروں کو قتل کرکے ٹرک سمیت غائب ہوجاتے ہیں ۔جسٹس خلجی نے کہا جہاں سکیورٹی اہلکار محفوظ نہیں وہاں عام آدمی کا تحفظ کیسے ممکن ہے۔

چیف جسٹس نے کہا یہ آئین کا بریک ڈائون ہے،سب لکھ کر دیں کہ وہ ناکام ہوگئے ہیں اور پولیس و ایف سی کے جن اہلکاروں پر لوگوں کو اٹھانے کا الزام ہے وہ گرفتاری پیش کریں،قانون کی حکمرانی ہوگی تو قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔آئی جی ایف سی جنرل عبداللہ خٹک نے کہا کہ ایف سی لوگوں کو لاپتہ کرنے کے حوالے سے کسی واقعے میں ملوث نہیں، سرکاری ایجنسیوں کے وکیل راجہ ارشاد نے بتایا کہ ایف سی سرحدوں پر فرائض سرانجام دے رہی ہے اور ملک کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے کوشاں ہے پھر بھی عدالت سمجھتی ہے کہ اس کی کارکردگی ٹھیک نہیں تو عدالت مناسب احکامات جاری کرے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ چار مہینے حالات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بلوچستان کا معاملہ ایک بند گلی میں داخل ہوچکا ہے،حکومت کی رٹ ختم ہوگئی ،بنیادی انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں،ان حالات میں آئین ہمیں بتاتا ہے کہ جب سرکار ناکام ہوجائے تو پھر کیا ہونا چاہیے۔