پاک فضائیہ کی کالونی کے مکین قانون سے بالاتر نہیں سندھ ہائی کورٹ

بیلف کو رہائشی کالونی میں داخلے کی اجازت نہ دینے پر کمانڈنگ افسرفیصل بیس کو نوٹس


Staff Reporter December 14, 2012
وزارت خارجہ اور سعودی سفارت خانے کو بھی دوبارہ نوٹس جاری کرنے کا حکم فوٹو: فائل

سندھ ہائی کورٹ نے پی اے ایف بیس کی رہائشی کالونی میں عدالتی بیلف کو داخلے کی اجازت نہ دینے پر پی اے ایف بیس فیصل کے کمانڈنگ افسرکو اظہاروجو ہ کا نوٹس جاری کردیا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ جمعرات کو چیف جسٹس مشیرعالم اور جسٹس شفیع صدیقی پر مشتمل بینچ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پاک فضائیہ کی رہائشی کالونی میں رہنے والے قانون و آئین سے بالاتر نہیں ہیں،تمام ادارے اور افراد آئین و قانون پر عمل درآمد کے پابند ہیں ،آئین کی دفعہ 5کے تحت آئین سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ بینچ نے کمانڈنگ افسر کو ہدایت کی کہ پی اے ایف بیس فیصل کی رہائشی کالونی میں مقیم مدعا علیہ الطاف حسین قاضی کی آئندہ سماعت پر عدالت میں حاضری کو یقینی بنایا جائے،عدالت نے وزارت خارجہ اور سعودی سفارت خانے کو بھی دوبارہ نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔درخواست گزار نظام الدین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ انجنیئرہے اور محکمہ زراعت میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے تعینات ہے ۔

10

اس کی 24نومبر2011کو شکیلہ نامی خاتون سے شادی ہوئی،جولائی 2012میں اس کی خوشدامن وزیرخاتون،خواہر نسبتی زرینہ خاتون ، برادرنسبتی الطاف حسین قاضی و دیگر رشتے دار اس کے گھر سے اہلیہ کو اپنے ساتھ لے گئے اور بعد ازاں اسے غیر قانونی طور پر سعودی عرب روانہ کردیا جو کہ بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار سے اس کی اہلیہ کو دور رکھا جارہا ہے اور طویل عرصہ سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی،جمعرات کو سماعت کے موقع پر بتایا گیا کہ مدعا علیہان کو نوٹس کی تعمیل نہیں ہوسکی ہے عدالتی بیلف کو مدعا علیہان کی رہائش گاہ پی اے ایف بیس فیصل میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔