من پسند افراد کی تعیناتیوں کیخلاف درخواست پر جواب طلب

خورشید شاہ نے بیٹے اور بھانجے کو ایف آئی اے میں ڈیپوٹیشن پرتعینات کرایا،درخواست گزار


Staff Reporter July 25, 2012
خورشید شاہ نے بیٹے اور بھانجے کو ایف آئی اے میں ڈیپوٹیشن پرتعینات کرایا،درخواست گزار, فوٹو ایکسپریس

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس منیب اختر کی سربراہی میںدو رکنی بینچ نے ایف آئی اے اور پولیس سمیت سندھ کے سرکاری محکموں میںافسران کی ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی وصوبائی حکومتوں کونوٹس جاری کرتے ہوئے 30اگست تک جواب طلب کرلیا ہے۔

یونائیٹڈ ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے دائر درخواست میں وفاقی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ،گورنر سندھ کے پرنسپل سیکریٹری،چیف سیکریٹری سندھ اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیاگیا ہے کہ سپریم کورٹ کے واضح حکم کو نظرانداز کرتے ہوئے سرکاری محکموں بشمول ایف آئی اے اور پولیس میں ڈیپوٹیشن پر تعیناتیاں کی جارہی ہیں،

درخواست گزار کے مطابق وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے بیٹے اور بھانجے کو ایف آئی اے میں ڈیپوٹیشن پر تعینات کرادیا ہے اوران کے لیے امیگریشن میں اسسٹنٹ ڈائریکٹرکی اسامی تخلیق کی گئی ہے ، اس کے علاوہ اعظم شاہ اور سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ کے ملازمین کو بھی ایف آئی اے میں تعینات کیا جارہا ہے

،درخواست گزارکے مطابق اعظم شاہ کوصرف تین ماہ پہلے ای او بی آئی میں کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا ہے،درخواست گزارکے مطابق پولیس میں بھی ڈیپوٹیشن پر تعیناتیاں جاری ہیں، درخواست گزارکے مطابق محکمہ اطلاعات سندھ میں گریڈ17کے افسران گریڈ18 کی تنخواہ اور مراعات حاصل کررہے ہیں،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی،

ایل ڈی اے اور ایم ڈی اے میں 400سے زائد جبکہ دیگر سرکاری محکموں میں77افسران ڈیپوٹیشن پر کام کررہے ہیں جو کہ عدالتی حکم کی صریحاً خلاف ورزی ہے،مختلف اداروں میں من پسند افراد کی تعیناتیوں سے اداروں کی کارکردگی متاثر ہوگی،اس لیے سیاسی بنیادوں پرکی گئی تعیناتیوںکوکالعدم قراردیاجائے، عدالت نے مدعا علیہان کو 30اگست تک نوٹس جاری کرتے ہوئے کمنٹس داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔