نوٹس کی عدم تعمیل پرریڈوارنٹ جاری ہوسکتے ہیںجسٹس نوید

سپریم کورٹ کوبراہ راست ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کااختیارہے.


Staff Reporter December 15, 2012
کئی مجرموں کوبیرون ملک سے لایاگیا،کئی معاملات میں پیشرفت نہیں ہو سکی. فوٹو: فائل

عدالت کی جانب سے نوٹس کا اجرا کسی بھی شخص کی عدالت میں طلبی کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے جسکے ذریعے مذکورہ شخص کو ذاتی یا اپنے نمائندے کے توسط سے پیش ہونے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

عدالت اس امر کو یقینی بناتی ہے کہ مذکورہ نوٹس متعلقہ شخص تک پہنچ جائے، تاہم نوٹس کی تعمیل یقینی ہوجانے کے بعد بھی اگر مذکورہ شخص عدالت میں پیش نہ ہوتو عدالت دوسرے مرحلے پر اس شخص کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کرتی ہے جس میں عدالت کی مقرر کردہ رقم جمع کرا کے عدالت میں پیش ہونے کاموقع ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس مرحلے پر بھی عدالت میں پیش نہ ہوتو عدالت اس شخص کی حاضری یقینی بنانے کے لیے اس کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرسکتی ہے۔

سندھ ہائیکورٹ کے سابق جسٹس خواجہ نوید احمد نے بتایا کہ سپریم کورٹ کو یہ اختیارحاصل ہے کہ وہ قابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کے بجائے براہ راست ناقابل ضمانت وارنٹ بھی جاری کرسکتی ہے، خواجہ نوید احمد کے مطابق اگر کوئی شخص بیرون ملک ہو اور عدالت میں حاضری سے گریزاں ہوتو ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہونے کے بعد اس شخص کی گرفتاری کیلیے دفتر خارجہ کے توسط سے رابطہ کیا جاتا ہے، تاہم تحویل ملزمان کا معاہدہ نہ ہونیکی صورت میں عدالت اپنی صوابدید کے مطابق وزارت داخلہ کے توسط سے انٹرپول کے ذریعے اس شخص کو ملک لانے کی ہدایت جاری کرسکتی ہے اور ریڈ وارنٹ جاری کرتی ہے، سابق آئی جی سندھ رانا مقبول کی گرفتاری کیلیے انٹر پول سے رابطے میں خاصی تاخیر ہوئی تھی، اسکے علاوہ بے نظیر بھٹو قتل کیس میں سابق صدر جنرل مشرف کی گرفتاری کیلیے انٹر پول کو متعدد بار مراسلے ارسال کیے جا چکے ہیں۔ تاہم کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوسکی، امریکا میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کو طلب کیا گیاتھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔ عدالت کے حکم پربیرون ملک سے بھی ملزمان کو لایا جاسکتا ہے جیسا کہ منصورالحق اور بینک آف پنجاب اسکینڈل میں ملوث ملزمان کو لایا گیا۔