قانونی حیثیت بحال نہ ہوسکی سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں امتحانات کا انعقاد ممکن نہیں

5جنوری کوایم بی بی ایس کے پہلے سمسٹرکے امتحانات کااعلان،یونیورسٹی کے تحت دیے جانیوالے داخلے بھی مشکوک ہوگئے


Staff Reporter December 17, 2012
طالب علموں نے بتایاکہ حکومت سندھ کی نااہلی کی وجہ سے یونیورسٹی کے قیام کا آرڈینس جاری ہونے کے بعد اب یونیورسٹی غیر قانونی طور پرکام کررہی ہے. فوٹو: فائل

سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی قانونی حیثیت بحال نہ ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی میں5 جنوری کومنعقدکیے جانے والے ایم بی بی ایس فرسٹ ائیرکے امتحانات خطرے میں پڑگئے جبکہ یونیورسٹی کے تحت دیے جانے والے تمام داخلے بھی مشکوک ہوگئے۔

30 اگست کو یونیورسٹی کے قیام کے بارے میں جاری کیے جانیوالے آرڈیننس کی مدت ختم ہونے کے بعد تمام اقدامات بھی غیر قانونی تصورکیے جارہے ہیں اوریونیورسٹی ڈیڑھ ماہ سے اپنی غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں،تفصیلات کے مطابق صدرمملکت کی ہدایت پرسندھ میڈیکل کالج کوسندھ میڈیکل یونیورسٹی بنائے جانے سے متعلق یکم جون کوآرڈیننس جاری کیاگیاتھا جس کی مدت30اگست تھی، اس دوران سندھ اسمبلی میں سندھ میڈیکل یونیورسٹی کو یونیورسٹی کا درجہ دیے جانے سے متعلق کوئی قانون سازی نہیں کی جاسکی اوریونیورسٹی سے متعلق جاری آرڈیننس کی مدت بھی ختم ہوگئی۔

04

تاہم اس دوران یونیورسٹی انتظامیہ نے پہلے ایم بی بی ایس بیچ میں 350 طلبا وطالبات کوداخلے دیے،یکم نومبر سے یونیورسٹی نے باقاعدہ تدریس کابھی آغازکردیا تھا اور 5جنوری کوایم بی بی ایس کے پہلے سمسٹرکے امتحانات کے انعقادکابھی اعلان کردیالیکن طالب علموں اوربعض اساتذہ کاکہنا ہے کہ یونیورسٹی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں لہٰذا امتحانی عمل بھی غیر قانونی ہوگا۔

طالب علموں نے بتایاکہ حکومت سندھ کی نااہلی کی وجہ سے یونیورسٹی کے قیام کا آرڈینس جاری ہونے کے بعد اب یونیورسٹی غیر قانونی طور پرکام کررہی ہے اور حکمران ہمارے مستقبل سے کھیل رہے ہیں،طالب علموں نے بتایاکہ داخلوں میں 6ماہ کاعمل مکمل ہوگیا ہے اورابھی تک یونیورسٹی کی قانونی حیثیت بحال نہیںکی جاسکی جس کے بعد ہمیں اس بات کا خدشہ ہوگیا ہے کہ حکومت ہمارے مستقبل سے کھیل رہی ہے،دوسری جانب یونیورسٹی کے ملازمین نے بتایاکہ یونیورسٹی کی قانونی حیثیت بحال نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین اوراساتذہ یونیورسٹی کی ملازمت چھوڑکردوسری یونیورسٹی جاناچاہتے ہیں لیکن سندھ میڈیکل یونیورسٹی ملازمین کو این او سی نہیں دے رہی۔