الطاف حسین کو نوٹس لاکھوں افراد سپریم کورٹ میں پیش ہونگے ایم کیو ایم

ووزٹرزکی تصدیق عدالت کاکام ہے توالیکشن کمیشن کوگھربھیج دیں،انصاف مانگناتوہین ہے توکرتے رہیں گے،فاروق ستار


Staff Reporter December 17, 2012
ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار الطاف حسین کو نوٹس جاری کرنے کے خلا ف کراچی پریس کلب پراحتجاجی مظاہرے سے خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو: پی پی آئی

ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینروحق پرست وفاقی وزیرڈاکٹرفاروق ستارنے کہا ہے کہ کراچی سمیت ملک بھرکے لاکھوں عوام الطاف حسین کو توہین عدالت کے نوٹس پر7 جنوری کوسپریم کورٹ میں پیش ہوںگے۔

الطاف حسین کوتوہین عدالت کانوٹس انصاف کا خون ہے،ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے،نوٹس اس جج کو ملنا چاہیے تھاجس نے لفظ ''اجارہ داری ''استعمال کیا،آج ہم نے پھر انصاف مانگاہے اور لفظ اجارہ داری پراعتراض کیاہے، پریس کلب پرلاکھوں افرادکے اس مظاہرے میں پھر مطالبہ کررہے ہیں کہ فاضل جج کے خلاف نہ صرف کارروائی کی جائے بلکہ وہ قوم سے معافی بھی مانگے، جج کے خلاف جوڈیشل کمیشنم میں ریفرنس دائرکریں اورالطاف حسین کے خلاف توہین عدالت کانوٹس واپس لیاجائے۔

یہ مطالبات فاروق ستار نے اتوارکی شام پریس کلب کراچی پرایم کیوایم کی جانب سے الطاف حسین کو سپریم کورٹ کے نوٹس کے خلاف کیے گئے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پیش کیے ۔ مظاہرے میں شریک لاکھوں افراد نے ہاتھ اٹھاکرفاروق ستار کے مطالبات کی تائیدکی۔احتجاجی مظاہرے میں حق پرست سینیٹرز،حق پرست وزرا،ارکان قومی وصوبائی اسمبلی،ذمے داران وکارکنان ، ہمدرد،عوام اور خواتین شریک ہوئیں۔ ڈاکٹرفاروق ستارنے اپنے خطاب میں کہاکہ گزشتہ دوروزسے لاکھوں شہری باالخصوص صوبہ سندھ اوربالعموم ملک بھر میں اپنے گھروں سے باہرسڑکوں پر سراپااحتجاج ہیں اوراپنے ہر دلعزیزقائدالطاف حسین کیخلاف اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے توہین عدالت کے نوٹس پرشدید غم و غصے کا اظہار کررہے ہیں اور اس کی مذمت کررہے ہیں۔

الطاف حسین کاجرم اورگناہ صرف یہ ہے کہ وہ اعلیٰ عدلیہ کے منصفوں سے انصاف طلب کرنے گئے تھے،ایک جج نے اجارہ داری کاتوہین آمیزلفظ استعمال کیا،اس کی کہیں ٹی وی یااخبار میں تردید نہیں آئی،دنیاکاکون ساآئین وقانون ہے جوکسی جماعت کے مینڈیٹ کیلیے کسی ادارے کواس بات کی اجازت دیتاہے کہ وہ عوامی مینڈیٹ کواجارہ داری سے تعبیرکرے،یہ لفظ انصاف کی توہین ہے،انصاف،جمہور اورعوام کی رائے کاقتل ہے،فاضل جج کے متعصبانہ ریمارکس سے کروڑوں عوام کی دل آزاری اورتوہین ہوئی ہے اس کاازالہ کیاجائے،ایم کیوایم پاکستان کے کل ووٹوں کاتقریباً10فیصدمینڈیٹ رکھتی ہے۔

الطاف حسین نے انصاف مانگاتھایہ سمجھ کر کہ یہ عدلیہ آزاداوربااختیار ہے اورانا پرست نہیں لیکن الٹاچورکوتوال کوڈانٹے ،یہ بین الاقوامی کلیہ ہے کہ کوئی غیرمنصفانہ،متعصب اور جانبدار شخص منصف کے عہدے کاحقدارنہیں ہو سکتا اگرکسی کوایم کیوایم کے مینڈیٹ پرڈاکا ڈالناہے تو کھل کر کہاجائے لیکن آزادعدلیہ میں بھی یہی ہورہاہے کہ اندھا اپنے اپنے کوریوڑیاں بانٹ رہاہے یہ کہاں کے انصاف کے تقاضے ہیں،الطاف حسین نے اپنے خطاب میں لفظ اجارہ داری کوچیلنج کیاتھااورکہاتھا کہ جج کے منصب پرفائز شخص کویہ بات زیب نہیں دیتی،آج یوم سقوط ڈھاکہ ہے ماضی کے غلط فیصلوںکے نتائج قوم بھگت چکی،کسی قوم کودیوارسے لگانے کے نتائج 16دسمبر کی صورت میں سامنے آتے ہیں،کیاانصاف کا خون ہوتارہے گا؟لوگوں کے جائزمینڈیٹ کو اجارہ داری کہاجاتارہے گا؟

02

اوراگرسزا بھی انصاف مانگنے والوں کو دی جائے گی تومفکرین کایہ قول یاد آتاہے کہ اس دنیا میں انسانوں کاقتل یاتو میدان جنگ میں ہوا یا پھر انصاف کی عدل گاہوں میں ہواہے۔فاروق ستارنے بتایاکہ بات یہ ہوئی تھی کہ ڈی لمیٹیشن کرائوتو پورے پاکستان میں کرائی جانی چاہیے کیونکہ اس کیلیے مردم شماری ضروری ہے اوراس بات کا سوموٹوایکشن کیوں نہیں لیاجاتا،آج ہم لاکھوں لوگوں کی جانب سے عدالت میں پٹیشن دائرکررہے ہیں کہ ڈی لمیٹیشن پورے ملک میں کرائی جائے،ہرادارے کواپناکام کرناچاہیے،ڈی لمیٹیشن،ووٹرزتصدیق کا کام الیکشن کمیشن کاہے اوراگر سپریم کورٹ کو یہ کام کرنے ہیں تو الیکشن کمیشن کوگھربھیج دیاجائے،کراچی میں فوجی آپریشن کی بات کی جاتی ہے توپشاورمیں ایئرپورٹ پرکیاہورہاہے۔

پشاور دہشت گردی کا مسکن بناہواہے اس پر سوموٹو نوٹس لے کرچیف جسٹس پشاور میں گھرگھرتلاشی اور اسلحے کی برآمدگی کاحکم دیں،کراچی میں اسلحہ لانے والے،چلانے والوں کے خلاف گھر گھرتلاشی کی باتیںکی جاتی ہیںجبکہ اسلحہ کہاں سے آتاہے اسے نظرانداز کردیا جاتاہے،انصاف مانگناتوہین عدالت ہے تویہ جرم بار بارکریںگے،آج ملک کو1971میں جو چیلنج تھااسی کاسامنا ہے۔ ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن وسیم آفتاب نے کہاکہ یہ مظاہرہ وفادار،جانثارلوگوں کاہے،الطاف حسین کی بات توبہت دورکی ہے اس سے پہلے کروڑوں لوگوں کی لاشیں عبور کرنا ہوںگی، ہم الطاف حسین کے نام پرخون کے آخری قطرے تک کوبہادیں گے لیکن اپنی غیرت اورحمیت کا سودا نہیں کریںگے، ملک کی تاریخ میں سب سے بڑاجرم اورجبراگرکسی ادارے نے کیاہے توعدلیہ نے کیاہے۔

یہ جبر16دسمبر1971 کوہواتھا آج بھی وہ لوگ جنہوں نے7لاکھ جانوں کانذرانہ پاکستان کیلیے دیا تھا بنگلہ دیش کے ریڈ کراس کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار ررہے ہیں ان کی زندگیوں پر چیف جسٹس نوٹس کیوں نہیں لیتے، الطاف حسین تو کبھی عدالت میں نہیں جائیں گے البتہ ان کے کروڑوں لوگ اسلام آباد کارخ کریںگے،رابطہ کمیٹی کے رکن شاہدلطیف نے کہاکہ اعلیٰ عدلیہ کے جج نے قلم اورانصاف کی کرسی کا سہارا لے کر لاکھوں عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی ہے ہم سب توہین عدالت کے نوٹس کیلیے حاضر ہیں۔ رابطہ کمیٹی کے رکن افتخاراکبر رنداھاوا نے کہا کہ فاضل جج نے جوفیصلہ کیا ہے اگر حق و سچ کی بات کرنا توہین اور جرم ہے تو کراچی سمیت پنجاب اورملک بھر کے عوام یہ جرم کرتے رہیںگے،الطاف حسین ایک فکر اور سوچ کانام ہے اس سوچ کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔

چیف جسٹس ملک باالخصوص پنجاب میں نکلیں، پنجاب میں بھی ایسے علاقے ہیں جہاں رات8بجے کوئی نہیں نکل سکتاہے۔ احتجاجی مظاہرے کے شرکانے الطاف حسین کے خلاف توہین عدالت کے نوٹس پراپنے شدید غم و غصے کا اظہارکیااورزبردست نعرے بازی کی جس کا سلسلہ گھنٹوں جاری رہا۔شرکانے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اوربینرز اٹھارکھے تھے جن پر ''چیف جسٹس کا فیصلہ عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے ''''سپریم کورٹ پشاور ایئر پورٹ حملے کااز خودنوٹس لیں''''الطاف حسین پر توہین عدالت کے بے بنیاد الزام کی محب وطن پاکستانی پرزور مذمت کرتے ہیں ''''ایم کیوایم کے عوامی مینڈیٹ کے خلاف سازشیں بندکی جائیں''کالا قانون نہیں چلے گانہیں چلے گا اوردیگرنعرے پرجوش انداز میں لگارہے تھے۔