پاکستان نے سلامتی کونسل میں مستقل ارکان میں اضافے کی مخالفت کردی

سلامتی کونسل میں مستقل ارکان کا اضافہ اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف وزری  ہوگی، ملیحہ لودھی


ویب ڈیسک November 08, 2016
سلامتی کونسل میں مستقل ارکان کے اضافے سے عالمی ادارہ مزید مشکلات سے دوچار ہوگا، ملیحہ لودھی : فوٹو: فائل

KARACHI: اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہے اس سے صرف اقتدار اور طاقت کے بھوکے ممالک کو اطمینان ملے گا۔

سلامتی کونسل میں اصلاحات کے بارے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ پاکستان سلامتی کونسل میں نئے مستقل ارکان کی شمولیت کی مخالفت کرتا ہے کیوں کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی وجہ سے ہی پہلے ہی مشکلات درپیش ہیں اور اس میں مزید اضافے سے عالمی ادارہ مزید مشکلات سے دوچار ہوگا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی مسلسل ناکامی کا مظہر

ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل اصلاحات میں رکاوٹ کی وجہ کچھ ریاستوں کا غیرمساویانہ رویہ ہے مفادات کی جنگ کے باعث ہی سلامتی کونسل مفلوج ہے مستقل ارکان میں اضافہ اختیارات اور طاقت کے بھوکے چند ممالک کے لئے اطمینان کا باعث ہوگا اور اس سےاقوام متحدہ کے منشور کی خلاف وزری بھی ہوگی ایسی صورتحال میں مزید ارکان کا اضافہ تشویش کا باعث ہے۔ تاہم پاکستان غیر مستقل ارکان میں اضافے کی حمایت کرتا ہے غیرمستقل ارکان کی تعداد میں اضافے سے سلامتی کونسل کا طرزعمل مزید جمہوری، قابل احتساب، شفاف اور مزید موثرہوگا۔

واضح رہے امریکا ، برطانیہ ، فرانس ، روس اور چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں شامل ہے جبکہ غیرمستقل اراکین کی تعداد 10 ہے۔