قتل کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر ملزم کو عمر قید

2لاکھ روپے جرمانہ،فاضل عدالت نے ملزم کی ضمانت منسوخ کرکے جیل بھیج دیا


Staff Reporter July 26, 2012
2لاکھ روپے جرمانہ،فاضل عدالت نے ملزم کی ضمانت منسوخ کرکے جیل بھیج دیا۔ فائل فوٹو

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی حسن فیروز نے12برس سے زیر التوا قتل کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا ہے، عدالت نے ڈسٹرکٹ ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر قاضی طارق علی کے حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد 63سالہ ملزم ایمل مسیح کو جرم ثابت ہونے پر عمر قید اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

ملزم کو جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید ایک برس جیل میں رہنا ہوگا، ملزم ضمانت پر تھا، فاضل عدالت نے ضمانت منسوخ کرکے اسے جیل بھیج دیا، استغاثہ کے مطابق مقتول شوکت علی کی محمود آباد میں بیکری تھی، ملزم کے بھائی نے بیکری سے سیکڑوں روپے کا مال ادھار لیا تھا، مقتول نے19دسمبر2000 کو اپنا ادھار وصول کرنے کیلیے ملزم کے گھر پہنچا تاہم ملزم کا بھائی گھر میں موجود نہیں تھا جس پر مقتول دکاندار اور ملزم کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی۔

ملزم نے طیش میں آکر اپنے لا ئسنس یافتہ پستول نے فائرنگ کرکے دکاندار کو ہلاک کردیا تھا، اہل محلہ نے ملزم کو موقع پر پکڑ کر تھانہ محمود آباد کے حوالے کردیا تھا، ملزم پاک نیوی کا اہلکار تھا، دوران سماعت وکیل سرکار نے دو چشم دید گواہ جاوید مسیح اور عنایت اﷲ کو عدالت میں پیش کیا تھا جنھوں نے ملزم کو شناخت کیا تھا اور اپنے بیان میں ملزم کو نامزد کیا تھا، ایم ایل او اور پوسٹ مارٹم رپورٹ نے بھی استغاثہ کو سپورٹ کیا تھا، بدھ کو فاضل عدالت نے جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی ہے۔