ڈوپنگ اور نسل پرستی کے سیاہ بادل چھانے لگے

اولمپکس گیمززون میں غلطی سے داخل ہونے والا طیارہ سیکیورٹی پرحد سے زیادہ محتاط فضائیہ کے ہاتھوں تباہ ہونے سے بچ گیا


Sports Desk July 26, 2012
اولمپکس ویمنز فٹبال ایونٹ میں امریکی کھلاڑی الیکس مورگن فرانس کیخلاف گول کر رہی ہیںَ فوٹو ایکسپریس

ISLAMABAD: لندن اولمپکس کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی ایونٹ پر ڈوپنگ اور نسل پرستی کے سیاہ بادل چھانے لگے،9 ٹریک اینڈ فیلڈ ایتھلیٹس پر ڈوپ ٹیسٹ میں ناکامی کے سبب پابندی عائد کر دی گئی،مراکش کی 1500 میٹر اولمپک رنر مریم ایلوئی سلسولی بھی اسی جرم کی پاداش میںگیمز سے باہر ہوگئیں۔ ادھرٹویٹر پر نسل پرستانہ خیالات کا اظہار کرنے کے سبب یونانی ٹرپل جمپر پیراسکیوی پاپاچرسٹوکو دستے سے باہر کر دیا گیا۔

دوسری جانب افتتاحی تقریب سے دو روز قبل ویمنز فٹبال ایونٹ شروع ہوگیا، پہلے میچ میں میزبان برطانیہ نے نیوزی لینڈ کو ایک گول سے زیر کیا، امریکا اور جاپان نے بھی اپنے میچز میں کامیابی حاصل کر لی، ادھر برطانوی امیگریشن اسٹاف نے جمعرات کو اپنی اعلان کردہ ایک دن کی ہڑتال ختم کردی جس سے حکام سے سکھ کا سانس لیا۔ البتہ سیکیورٹی خدشات سے برطانوی حکام کی نیندیں بدستور اڑی ہوئی ہیں، گذشتہ روز اولمپکس گیمززون میں غلطی سے داخل ہونے والا طیارہ فضائیہ کے ہاتھوں تباہ ہونے سے بچ گیا۔

تفصیلات کے مطابق اولمپکس 2012 کے آغاز سے قبل9 ٹریک اینڈ فیلڈ ایتھلیٹس پر ڈوپ ٹیسٹ میں ناکامی کے سبب پابندی عائد کر دی گئی،اس کا اعلان انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف ایتھلیٹکس فیڈریشنز نے کیا، مذکورہ پلیئرز کے نام فوری طور پر ظاہر نہیں کیے گئے تھے۔ مراکش کی 1500 میٹر اولمپک رنر مریم ایلوئی سلسولی بھی اسی جرم میںگیمز سے باہر ہوگئیں،6جولائی کو پیرس میں لیے گئے سلسولی کے سیمپلز میں ممنوعہ ادویہ کے اجزا موجود پائے گئے۔

یاد رہے کہ رواں برس ورلڈ انڈور چیمپئن شپ میں سلور میڈل پانے والی مراکشی ایتھلیٹ پر پہلے بھی ایک بار ڈوپنگ کے سبب پابندی لگ چکی اور اب انھیں تاحیات کھیل سے دور کیا جا سکتا ہے، وہ بی سیمپل کے تجزیے کے موقعے سے دستبردار ہوکر عبوری معطلی کا شکار ہوگئیں تاہم دفاع میں دلائل پیش کرنے کیلیے ایاف سے درخواست کرسکتی ہیں، اس کی سماعت اگلے تین ماہ کے دوران مراکش ایتھلیٹک فیڈریشن ہی کرے گی۔

ادھر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر نسل پرستانہ خیالات کا اظہار کرنے کے سبب یونانی ٹرپل جمپر پیراسکیوی پاپاچرسٹو اولمپک دستے سے باہر ہوگئیں۔ انھوں نے یونان میں بڑی تعداد میں افریقی باشندوں کی موجودگی پر اظہار ناپسندیدگی کرتے ہوئے انھیں دریائے نیل کا مچھر لکھا تھا،ایتھلیٹ کے اس اشتعال انگیز فقرے پر یونان کے سیاسی حلقوں نے فوری ردعمل کے طور پر ان کی اولمپکس دستے سے بے دخلی کا مطالبہ کردیا، جس پر یونانی اولمپکس دستے کے سربراہ کا بیان سامنے آیا کہ پیراسکیوی نے اولمپک اقدار پامال کیں لہذا میگا ایونٹ کیلیے یونانی دستے میں نمائندگی کی اہل نہیں رہیں۔

دریں اثنا بدھ کو ویمنز فٹبال مقابلے شروع ہو گئے، افتتاحی مقابلے میں میزبان برطانیہ نے نیوزی لینڈ کو 1-0 سے ہرا دیا، فیصلہ کن گول 64ویں منٹ میں اسٹیفنی ہونگٹن نے بنایا۔ دفاعی چیمپئن امریکا نے پہلی آزمائش میں فرانس کو4-2 سے شکست دی،الیکس مورگن نے 2 جبکہ ایبی وامبیچ اور کارلی لائیڈ نے ایک ایک مرتبہ گیند کو جال کی راہ دکھائی، ناکام ٹیم کیلیے گیٹن تھینی اور میری لیورڈیلی نے گول بنائے، ورلڈ چیمپئن جاپان نے کینیڈا کیخلاف 2-1 سے فتح پائی۔

دوسری جانب برطانوی امیگریشن اسٹاف نے جمعرات کو اپنی اعلان کردہ ایک دن کی ہڑتال ختم کردی،انھوں نے یہ فیصلہ بدھ کو اس وقت کیا جب حکومت انھیں اس اقدام سے باز رکھنے کیلیے عدالت چلی گئی تھی، پبلک اینڈ کمرشل سروسز یونین کے جنرل سیکریٹری مارک سیرووٹکا نے میڈیا کو بتایا کہ نوکریوں میں کٹوتی کیخلاف وزرا سے ہماری بات چیت میں پیشرفت ہوئی ہے،حکومت نے وعدہ کیاکہ وہ نئی سرمایہ کاری کرتے ہوئے1100 نئی ملازمتیں فراہم کرے گی، انھوں نے تسلیم کیا کہ میگا ایونٹ کے باقاعدہ آغاز سے محض ایک دن قبل ہڑتال سے عوامی تائید نہیں ملتی۔

برطانوی وزارت داخلہ کے وکلا نے عدالت میں بارڈر گارڈز کی ہڑتال کیخلاف حکم امتناع کی درخواست کی تھی، وزیر کھیل جیریمی ہنٹ نے میڈیا کو بتایا کہ اس معاملے پر لوگوں کے اپنے تحفظات ہیں لیکن اولمپک گیمز کی افتتاحی تقریب سے ایک دن قبل ہڑتال کرنا مناسب نہیں تھا۔

علاوہ ازیں میگا ایونٹ کیلیے جنگی نوعیت کے سیکیورٹی اقدامات پوری دنیا میں تشویش کی نگاہ سے دیکھے جا رہے ہیں،گذشتہ روز ان کی مستعدی کا اظہار اس وقت سامنے آیا جب ایک طیارہ اپنی فضائی حدود سے بھٹک کر لندن گیمز کے ایریا میں داخل ہونے لگا ،اسی وقت ایک ٹائیفون جیٹ کو اسے تباہ کرنے کا حکم دے کر فضا میں روانہ کیا گیا لیکن خوش قسمتی سے بھٹکے ہوئے طیارے کا رابطہ بحال ہوگیا اور ٹائیفون جیٹ کو بروقت اتار لیا گیا۔

اس بارے میں برطانوی وزارت دفاع کی ترجمان نے کہا کہ ہم تصدیق کرتے ہیں کہ بدھ کی صبح ساڑھے گیارہ بجے سے کچھ دیر قبل ہماری جانب سے ٹائیفون جیٹ نے پرواز بھری، اس کا ہدف راہ بھٹکے ہوئے اس نجی طیارے کو ہدف بنانا تھا جو ٹریفک کنٹرول سروسز سے اپنا رابطہ کھو چکا تھا، تاہم جلد ہی اس کا رابطہ متعلقہ شعبے سے بحال ہوگیا اور ہمیں مزید کسی اقدام کی ضرورت پیش نہیں آئی۔