سی این جی کی بندش کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ میں کمی عوام پریشان

90فیصد سے زائد پبلک ٹرانسپورٹ ڈیزل سسٹم سے سی این جی سسٹم میں تبدیل ہوچکی ہے۔


Staff Reporter December 23, 2012
سوئی سدرن گیس کمپنی کی ہدایت پر سی این جی اسٹیشنز ہفتہ کی صبح 8بجے سے 24گھنٹوں کیلیے بند رہے ۔ فوٹو: فائل

کراچی میں ہفتہ کو سی این جی اسٹیشنز کی بندش کے باعث شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کی شدید قلت رہی اور شہریوں کو آمدورفت میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

تفصیلات کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی کی ہدایت پر سی این جی اسٹیشنز ہفتہ کی صبح 8بجے سے 24گھنٹوں کیلیے بند رہے جس کے باعث ہفتہ کو شہر میں بس، منی بس اور کوچز قلیل تعداد دیکھنے میں آئی، ہفتہ کی صبح سے بس اسٹاپوں اور سڑکوں پر مسافروں کا اژدہام نظرآیا جو اپنے دفاتر وکاروباری مراکز جانے کیلیے بسوں کا انتظار کررہے تھے، پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کے باعث مسافروں کو بسوں کی چھتوں پر چڑھ کر منزل مقصود پر پہنچنا پڑا۔

واضح رہے کہ90فیصد سے زائد پبلک ٹرانسپورٹ ڈیزل سسٹم سے سی این جی سسٹم میں تبدیل ہوچکی ہے، ہفتہ کو پبلک ٹرانسپورٹ کی اکثریت ا یندھن کی فراہمی نہ ہونے کے باعث آپریشنل نہ ہوسکی، دستیاب گاڑیوں نے ایل پی جی سلنڈر خواتین کمپارٹمنٹ میں رکھ کر گاڑیاں چلائیں اور مسافروں سے زائد کرایے وصول کیے گئے،رکشہ وٹیکسی مالکان نے بھی ایل پی جی سسٹم کے تحت گاڑیاں آپریشنل کٰیں اور مسافروں سے کئی گنا کرایہ وصول کیا، ٹرانسپورٹرز کا موقف تھا کہ ایل پی جی مہنگے داموں دستیاب ہے اس لیے کرایہ زائد چارج کرنے پر مجبور ہیں جیسے ہی سی این جی بحال ہوگی پرانے نرخ پر کرایہ وصول کریں گے۔