نیشنل اسٹیڈیم کو کس کی نظر لگ گئی

اصل میں پی سی بی کے ہر محکمے کی طرح یہاں بھی ’’چیک اینڈ بیلنس‘‘ موجود نہیں۔


Saleem Khaliq December 14, 2016
چیئرمین شہریارخان اب زیادہ منظرعام پر نہیں آتے البتہ ایگزیکٹیو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی ان دنوں اپنی ’’امیج بلڈنگ‘‘ میں لگے ہوئے ہیں۔ فوٹو: فائل

نیشنل اسٹیڈیم جب کبھی جاؤ دل بجھ سا جاتا ہے، اگر کسی کے عروج و زوال کی جیتی جاگتی مثال دیکھنی ہو تو آپ یہاں چلے آئیں، ایک زمانے میں شاندار عمارت، اردگرد ہریالی، کرکٹ کے شائقین کا شور، آٹوگراف اور فوٹوگراف تو دور اپنے ہیروز کی صرف ایک جھلک دیکھنے کیلیے بے چین لوگ یہاں کا خاصا ہوا کرتے تھے، پھر جیسے کسی کی نظر لگ گئی ملک سے انٹرنیشنل کرکٹ کیا گئی نیشنل اسٹیڈیم کی رونق ہی ختم ہو گئی، پھر اس کی دیکھ بھال کرنے والوں نے بھی سوچ لیا کہ اب تو یہاں انٹرنیشنل میچز ہونے نہیں اعلیٰ افسران کون سا آئیں گے۔

یوں آہستہ آہستہ ماضی کا عظیم الشان ٹیسٹ سینٹر اب اجڑا چمن دکھائی دیتا ہے، اطراف میں ٹائر پنکچر ٹھیک کرنے کی دکان، جوس شاپ وغیرہ دیکھ کر کوئی نیا شخص اندازہ نہیں لگا سکتا کہ یہ پاکستان کا ایک بڑا کرکٹ اسٹیڈیم ہے، اندرکیا کام جاری ہیں اس کی تفصیل پہلے بھی بتا چکا، اصل میں پی سی بی کے ہر محکمے کی طرح یہاں بھی ''چیک اینڈ بیلنس'' موجود نہیں، ایک سینئر آفیشل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کچھ سال پہلے بھارت سے پاکستان آئے پھر جلد ہی انھیں یہاں کی شہریت مل گئی اور حیران کن طور پر تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتے رہے۔

ان کے سر پر ایک بڑے عہدیدار کی قریبی شخصیت کا دست شفقت ہے، کچھ عرصے قبل نیشنل اسٹیڈیم میں شادی لانز بنانے کی بات ہوئی مگر اس کیلیے جو رقم دینے کا کہا گیا وہ اتنی کم تھی کہ ایگزیکٹیو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی نے فوراً اعتراض کر دیا، اس پر وہ معاملہ ختم ہو گیا، جیسے قذافی اسٹیڈیم باہر سے فوڈ اسٹریٹ بن چکا ویسے ہی نیشنل اسٹیڈیم سے بھی کیسے پیسے کمائے جا سکتے ہیں یقیناً آفیشلز اس سوچ میں تو لگے ہوں گے، ماضی میں کراچی کے جو نوجوان نیشنل اسٹیڈیم کے اطراف میں بننے والے اکیڈمی کا سن کر خوش ہوئے ہوں گے کہ یہاں ٹریننگ کریں گے مگر افسوس اب جبکہ وہ تیار ہونے والی ہے وہ خود بچے والے بن چکے ہیں، یہ پروجیکٹ بھی یقیناً کئی لوگوں کو مالامال کر چکا جس کی تفصیلات چند برس بعد ہی سامنے آئیں گی، ان دنوں حبیب بینک اور واپڈا کا فائنل جاری ہے مگر افسوس اسٹیڈیم سنسان ہے۔

بہت کم لوگوں کو ہی پتا ہو گا کہ ملک کے سب سے بڑے کرکٹ ٹورنامنٹ قائد اعظم ٹرافی کا میچ ہو رہا ہے، پی سی بی نے حسب توقع کوئی کوشش بھی نہیں کی، ہاں اگر پی ایس ایل کی کوئی چھوٹی سی بھی تقریب ہوتی تو لاکھوں روپے صرف پبلسٹی پر ضائع کر دیے گئے ہوتے، بورڈ خود جب اپنے ایونٹ کو سیریس لینے کو تیار نہیں تو دوسرے ایسا کیوں کریں گے،ایچ بی ایل کے اوپنر احمد شہزاد کے ٹویٹر پر سات لاکھ سے زائد فالوورز ہیں، افسوس کہ ان میں سات بھی انھیں ایکشن میں دیکھنے نہیں آئے،حریف ٹیم کو محمد آصف، سلمان بٹ، کامران اکمل اور محمد عرفان کا ساتھ حاصل ہے، داغدار ماضی کے سبب ان میں سے بعض کرکٹرز کو تو شاید لوگ پسند نہیں کرتے مگر دیگر کو تو دیکھنے اسٹیڈیم آسکتے تھے،کراچی میں کوئی لوکل نائٹ میچ ہو تو اس میں بھی ہزار لوگ آ ہی جاتے ہیں، نیشنل اسٹیڈیم ٹیسٹ کرکٹرز کی موجودگی میں بھی بالکل خالی رہنا افسوسناک ہے۔

، ایسا نہیں کہ یہ تماشائیوں سے کھچاکھچ بھرا ہو مگر چند ہزار لوگوں کا آنا تو کوئی مشکل نہیں ہوتا،ارے ہاں کامران اکمل سے یاد آیا کہ اطلاعات گرم ہیں کہ انھیں جلد قومی ٹیم میں واپس لایا جا رہا ہے، نیوزی لینڈ میں شکست کے بعد تھوڑا سا دباؤ پڑنے سے ہی سلیکشن کمیٹی گھبرا گئی اور ریورس گیئر لگا رہی ہے، شاید سلمان بٹ بھی واپس آجائیں، ویسے جب انضمام الحق چیف سلیکٹر بنے تو پہلے ہی لوگ کہنے لگے تھے کہ اب سلمان، آصف اور کامران کے اچھے دن شروع ہو گئے، تینوں جلد ٹیم میں واپس آ جائیں گے، شاید جلد ایسا ہو جائے، جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا تھا کامران کو قائد اعظم ٹرافی میں 1027 رنز بنانے کا سلیکشن کمیٹی جو ''انعام'' دے رہی ہے، یقیناً وہ 853 رنز بنانے والے آصف ذاکر اور 843 رنز اسکور کرنے والے عثمان صلاح الدین کو بھی منتخب کرے گی، اسی طرح71 وکٹیں لینے والے محمد عباس اور 62 پلیئرز کو آؤٹ کرنے والے تابش خان کو بھی نظرانداز نہیں کیا جائے گا، ڈومیسٹک کرکٹ میں پرفارم کرنے پر صرف ایک کھلاڑی کو دورئہ آسٹریلیا میں نوازا گیا تو کئی سوالات اٹھ کھڑے ہوں گے، ویسے بھی سڈنی ٹیسٹ لوگ ابھی بھولے نہیں ہیں۔

میں نے گذشتہ کالم ''حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی'' کے عنوان سے لکھا ، اس کے بعد بعض ای میلز موصول ہوئیں، ایک صاحب عمران شعیب نے کہاکہ فرق پڑتا ہے مگر اثرورسوخ کی بنیاد پر معاملات دبا دیے جاتے ہیں، ویسے میں نے تصدیق کر لی پی سی بی کے ایشوز کی ایف آئی اے دوبارہ تحقیقات شروع کر چکی ہے خصوصاً آفیشلز کے بے تحاشا غیرملکی دورے نظروں میں آئے ہیں، حیران کن طور پر گورننگ بورڈ ممبر اعجاز فاروقی کے گذشتہ برس آسٹریلیا نہ جانے کے باوجود جو ایئرٹکٹ اور الاؤنسز ان کے نام پر لیے گئے اب تک بورڈ نے کئی بار استفسار کے باوجود اس کی وضاحت نہیں کی، چیئرمین شہریارخان اب زیادہ منظرعام پر نہیں آتے البتہ ایگزیکٹیو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی ان دنوں اپنی ''امیج بلڈنگ'' میں لگے ہوئے ہیں، گذشتہ دنوں وہ کراچی میں خوب انٹرویوز دیتے دکھائی دیے جس میں اعتراف بھی کیا کہ ایک کروڑ کے ٹورز کیے مگر آئندہ یہ خرچ نصف کر دیں گے۔

ان کے انٹرویوز تقریباً 11 ہزار کلومیٹر دور آسٹریلیا میں ٹیم کے ساتھ موجود ڈائریکٹر میڈیا امجد بھٹی نے طے کرائے، مگر افسوس کی بات ہے 15 دن پہلے ان سے ایک قومی کرکٹر کے انٹرویو کیلیے درخواست کی تھی جس کا جواب نہ ملا، اب پی ایس ایل آ رہی ہے میں جانتا ہوں کہ نجم سیٹھی کیلیے خود سے جڑے تنازعات کم کرنا بیحد ضروری ہے مگر اسی کیساتھ مسائل بھی حل کرنے چاہئیں، انھوں نے ہی بطور چیئرمین بھارت کے جھوٹے وعدوں میں آ کر بگ تھری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، اب خود کہہ رہے ہیں کہ 2017میں بھی سیریز ممکن نہیں ہے، ان کواپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے، شہریارخان بھی سامنے آئیں اور بگڑے ہوئے معاملات ٹھیک کرنے میں کردار ادا کریں کیونکہ جب کبھی احتساب ہوا تو انھیں بھی عوام کو جواب دینا ہوگا، سب کچھ ہمیشہ ایسا نہیں رہنے والا ہے۔