گھریلو چپقلش بچوں کے ذہنوں پر انمٹ نقوش چھوڑدیتی ہے

بچہ کم عمری میں گھریلو ماحول سے سیکھ لیتا ہے کہ اختلافی معاملات...


Staff Reporter July 27, 2012
بچہ کم عمری میں گھریلو ماحول سے سیکھ لیتا ہے کہ اختلافی معاملات کیسے سلجھائے جاتے ہیں ۔فائل فوٹو

طبی ماہرین نے کہاکہ گھریلو جھگڑوں کے اثرات کم سن بچے خاموشی سے جذب کرتے ہیں اگرچہ جھگڑے کم سن بچوں کی سمجھ میں نہیں آتے لیکن اس سے ان کی شخصیت پر جو منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ عمر بھر ان سے چھٹکارہ نہیں پاتے، لڑائی جھگڑے، گھریلو چپقلش نااتفاقیاں بچوں کے ذہنوں پر انمٹ نقوش چھوڑ دیتی ہیں جس سے بچوںکی ذہنی نشوونما بھی شدید متاثر ہوتی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں پر یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں.

کہ آپ کے درمیان کبھی کوئی اختلاف ہی نہیں ہوا، اگر بچوں کے سامنے یا انھیں بیٹھا کر گھریلو اختلافی مسئلے پر بحث اچھی طرح کی جائے تو بچے یہ سیکھ رہا ہوتا ہے کہ گھریلو تنازعے کو کیسے اور کس طرح حل کیا جاتا ہے، دراصل بچہ کم عمری میں گھریلو ماحول سے یہ سیکھ لیتا ہے کہ اختلافی معاملات کو کس طرح سلجھایا جاسکتا ہے،

اگر بچوں کے سامنے تشدد، گالی گلوچ، چیخ وپکار، گھرکی اشیا کو پھینکا جائے تو اس طرح بچہ اپنے گھریلو ماحول سے یہ سیکھ لیتا ہے کہ اپنے مطالبات چیزوںکو پھینکنے یا چیخ وپکارکرکے منواسکتے ہیں، اس عادت کا اثر نہ صرف اس کی سماجی زندگی بلکہ شادی کے بعد بھی خانگی زندگی پر بھی پڑتاہے، ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ گھریلو اختلافات کو بچوں کے سامنے مثبت اندازسے حل کرنا دراصل بچوں کی بہترین تربیت ہوتی ہے،

ان ماہرین نے کہاکہ خوشگوار زندگی گزارنے والے افراد کے بچوں کی زندگیاں بھی خوشگوارگزرتی ہیں،کوشش کی جائے کہ زندگی اللہ کی امانت ہے اسے بہتر طریقے سے گزاری جائے تاکہ بچوں کے ذہنوں میں منفی اثرات مرتب نہ ہوسکیں، بچوں کی پہلی تربیت گا ہ اس کا گھر اور گھریلوماحول ہوتا ہے۔