کراچی کی بجلی کم کرنے کیخلاف حکم امتناع میں توسیع

وفاقی وزارت پانی وبجلی،این ٹی ڈی سی،کے ای ایس سی ودیگرکوجواب داخل کرنیکی ہدایت.


Staff Reporter December 25, 2012
توسیع23جنوری تک کی گئی،مشترکہ مفادات کونسل کافیصلہ غیرقانونی قراردیاجائے،درخواست گزارفوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کے ای ایس سی کووفاق کی جانب سے بجلی کی 350 میگاواٹ کٹوتی کے مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کے خلاف حکم امتناع میں 23 جنوری تک توسیع کردی ہے، عدالت نے وفاقی وزارت پانی و بجلی، نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی، کے ای ایس سی اور دیگر کو آئندہ سماعت تک جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ پیر کو سماعت کے موقع پر مدعا علیہان کے وکلا نے جواب داخل کرنے کے لیے مہلت طلب کی تھی۔ سائٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ کے ای ایس سی اور این ٹی ڈی سی کے مابین 2010 میں 5 سال کیلیے 650 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کا معاہدہ طے پایا تھا،آئین کی دفعہ 154 کے تحت مشترکہ مفادات کونسل صرف متعلقہ اداروں کی پالیسی سازی اور ان پر عمل درآمد کا اختیار رکھتی ہے۔

2

اخباری اطلاعات کے مطابق حال ہی میں مشترکہ مفادات کونسل نے وفاق کی جانب سے این ٹی ڈی سی کے ذریعے کے ای ایس سی کو فراہم ہونے والی بجلی میں 350 میگاواٹ تک کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، مشترکہ مفادات کونسل کا یہ فیصلہ اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہے، اگر کے ای ایس سی کو بجلی کی فراہمی میں کمی کی گئی تو کراچی میں لوڈ شیڈنگ میں کئی گھنٹوں کے اضافے کا خدشہ ہے، کراچی کے شہریوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کیلیے کے ای ایس سی مہنگے داموں فرنس آئل خرید رہی ہے، سوئی سدرن گیس کمپنی نے بھی گیس کی فراہمی میں لوڈشیڈنگ شروع کردی ہے۔

جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، ایس ایس جی سی کی جانب سے کے ای ایس سی کومسلسل گیس فراہم نہیں کی جارہی جس سے بجلی کی پیداوار میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ مدعا علیہان کراچی کے شہریوں کے حقوق کا خیال رکھنے کے پابند ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مدعا علیہان آئین کی دفعات 9,10,18,24,25 اور 4 کے تحت عوام الناس کے مفاد میں کیے معاہدوں پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کا یہ فیصلہ غیر قانونی قراردیا جائے۔