زرداری کے گرینڈ الائنس کا سیاسی منظر نامہ
سابق صدر آصف زرداری کی وطن واپسی ملک کے سیاسی منظر نامہ میں ابھی تک کوئی طوفان نہیں برپا کر سکی
سابق صدر آصف زرداری کی وطن واپسی ملک کے سیاسی منظر نامہ میں ابھی تک کوئی طوفان نہیں برپا کر سکی۔ ان کی واپسی پر استقبال ، تقریر سب کچھ معمول کے مطابق معمولی ہی رہا۔ لیکن پھر بھی آصف زرداری کو ئی معمولی سیاستدان نہیں۔ وہ ڈرائنگ روم سیاست کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ لیکن بات یہی ہے کہ ملکی سیاست ڈرائنگ روم سے نکل کر بھاگ چکی ہے۔تاہم ان کے دوست کہتے ہیں کہ وہ جیت کا فارمولہ لے کر آئے ہیں۔
آصف زرداری نے گرینڈ الائنس کی بات کی ہے۔ اسی کا شور ہے۔پہلا سوال ایک ہی ہے کہ کیا اس مجوزہ گرینڈ الائنس میں عمران خان اور آصف زرداری کا اتحاد ہو سکتا ہے۔ سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والوں کی رائے میں یہ عمران خان کے لیے زہر قاتل ہو گا۔ اس لیے یہ ممکن نہیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ صورتحال میں آصف زرداری اور میاں نواز شریف کے درمیان کسی گرینڈ الائنس کا کوئی چانس ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے میں ایسا کوئی الائنس در پردہ تو چل رہا ہے لیکن کھلم کھلا ایسا ممکن نہیں۔ بلکہ میاں نواز شریف کی کسی بھی قسم کی قربت آصف زرداری کے لیے زہر قاتل ہو گی۔ ایسے میں یہ تو تقریبا طے نظر آرہا ہے کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ کسی بھی قسم کے اتحاد کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اگلا انتخاب تینوں کو الگ الگ ہی لڑنا ہے۔ کوئی دو بھی تیسرے کے خلاف اکٹھے ہونے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
اب جب تینوں بڑی جماعتیں الگ الگ ہی رہیں گی تو کسی بڑے گرینڈ الائنس کا بھی کوئی چانس نہیں۔ یہ تینوں چھوٹی چھوٹی سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملا کر اپنا اپنا الائنس بنا سکتی ہیں۔ میاں نواز شریف کا اس وقت مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت کے ساتھ ایک الائنس اچھا چل رہا ہے۔ امید یہی ہے کہ اگلا انتخاب کم از کم کے پی کے کی حد تک یہ دونوں جماعتیں مل کر ہی لڑیں گی۔ بلوچستان میں میاں نواز شریف کا سابق وزیر اعلیٰ عبد المالک کی نیپ کے ساتھ اتحاد چل رہا ہے۔ یہ اتحاد ہچکولے کھا رہا ہے۔ لیکن پھر بھی اگلے انتخاب میں قائم رہنے کی امید ہے۔
سندھ میں میاں نواز شریف کا پیرپگاڑا کی جماعت سے اتحاد تھا ۔ جو اب ٹوٹ چکا ہے۔ اختلافات بہت زیادہ ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ممتاز بھٹو کے ساتھ بھی میاں نواز شریف کی دوستی ٹوٹ چکی ہے۔ کہانی یہی ہے کہ میاں نواز شریف سندھ میں آصف زرداری کو فری ہینڈ دینا چاہتے تھے اسی لیے اپنے اتحادی ناراض کر دیے۔ اس لیے سندھ میں میاں نواز شریف کے پاس اگلے انتخاب میں بھی کچھ نہیں۔ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے ابھی تک ن لیگ وہاں سولو فلائٹ کی ہی خواہاں ہے۔
ایسے میں آصف زرداری کے پاس گرینڈ الائنس کی کیا آپشنز ہیں۔ وہ مولانا فضل الرحمٰن کو کھو چکے ہیں۔ اس لیے کے پی کے میں ان کی واحد آپشن اسفند یار ولی خان کی جماعت اے این پی ہی ہے۔ یہ اتحاد کے پی کے میں کیا کر سکتا ہے۔ اس پر پھر کبھی بات کریں گے۔ آفتاب شیر پاؤ بھی ان کے ساتھ آسکتے ہیں۔ اس طرح کے پی کے کی حد تک آصف زرداری کے پاس کافی آپشن ہیں۔ جہاں تک جماعت اسلامی کا تعلق ہے تو وہ تنہا تو رہ سکتی ہے لیکن آصف زرداری کے ساتھ نہیں آسکتی۔بلوچستان میں بھی آصف زرداری سردار مینگل اور چند دیگر چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر شو لگا سکتے ہیں۔ لیکن یہ ایک کمزور اتحاد ہی ہو گا۔
سندھ میں پیپلزپارٹی سولو فلائٹ کے موڈ میں ہے۔ اور وہ کسی کے بھی ساتھ کوئی اتحاد کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ اور پنجاب میں کوئی پیپلزپارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے کے موڈ میں نہیں ۔ پنجاب کی سیاسی تنہائی ہی پیپلزپارٹی کا بڑا مسئلہ ہے۔ جس کا فی الحال آصف زرداری اور بلاول دونوں کے پاس کوئی حل نہیں۔ پنجاب میں پیپلزپارٹی کی تنہائی ہی اس کی مکمل سیاسی بحالی میں بڑی رکاوٹ ہے۔ لیکن پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب پر بہت زیادہ امیدیں لگا کر بیٹھی ہے۔ یوسف رضا گیلانی اور دیگر بڑے ناموں سے جیت کی امیدیں پیپلزپارٹی کا پنجاب میں کل اثاثہ ہے۔
عمران خان کی صورتحال سب سے عجیب ہے۔ جماعت اسلامی اس وقت اس کے ساتھ کے پی کے میں شریک حکومت ہے۔ یہ اتحاد اچھا بھی چل رہا ہے۔ سراج الحق نے بلا شبہ تحریک انصاف کی کے پی کے کی حکومت کو بالکل تنگ نہیں کیا۔ حالانکہ کے پی کے میں عمران خان کی جماعت جس قدر اندرونی اختلافات اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے سراج الحق اس کا بہت فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ لیکن سراج الحق نے ایسا نہیں کیا۔ تاہم اس کے باوجود ابھی تک عمران خان جماعت اسلامی کے ساتھ کسی بھی قسم کے انتخابی اتحاد کے لیے تیار نہیں۔ تاہم اس ضمن میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ اگر انتخابات کے موقع پر عمران خان کو یہ احساس ہو گیا کہ وہ اکیلے جیت نہیں سکتے تو وہ جماعت اسلامی کے لیے دروازے کھول دیں گے۔ البتہ عمران خان سندھ میں پیر پگاڑا اور ممتاز بھٹو کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی طرح کا اتحاد کر سکتے ہیں۔
ق لیگ کی صورتحال بھی ایسی ہے کہ وہ جس سے شادی کرنا چاہتی ہے وہ اس سے شادی کرنے کو تیار نہیں اور جس سے وہ شادی نہیں کرنا چاہتی وہ اس سے شادی کرنے کو تیار ہے۔ ق لیگ کی خواہش تو یہی ہے کہ اس کا عمران خان سے مکمل انتخابی اتحاد ہو جائے مگر ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے کے مصداق یہ فی الحال ممکن نظر نہیں آرہا۔ تاہم آصف زرداری ان کے لیے دروازے کھول کر بیٹھے ہیں۔ لیکن آصف زرداری اور ق لیگ کا اتحاد ایک سیاسی پیش رفت کے علاوہ دونوں کے لیے کوئی کامیابیاں نہیں لا سکتا۔اس لیے ق لیگ اس میں سنجیدہ نہیں۔
ایم کیو ایم عجیب سیاسی دوراہے پر کھڑی ہے۔ وہ نہ کسی کو کچھ دے سکتی ہے اور نہ کسی سے کچھ لے سکتی ہے۔ اس وقت تو ایم کیو ایم کے تین دھڑے ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما نظر آرہے ہیں۔ لیکن انتخابات تک یہ دو ہی رہ جائیں گے۔ لندن اور پاکستان ایک ہو جائیں گے۔ وہ ایک دوسرے کے مقابلے پر انتخاب لڑنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ دونوں کی کسی نہ کسی شکل میں مفاہمت وقت کی ضرورت ہو گی۔ البتہ مصطفیٰ کمال کے لیے یہ انتخابات زندگی و موت کا مسئلہ ہو نگے۔
ملک کے اس منظر نامہ میں آصف زرداری کے پاس سیاسی و انتخابی محاذ میں بہت محدود آپشنز ہیں۔ وہ کسی بھی سیاسی معجزہ کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔لیکن اگر پنجاب سے دس سیٹیں بھی آگئیں اور سندھ بچ گیا تو گیم بن سکتی ہے۔ اسی طرح کے پی کے سے بھی ایک دو سیٹیں آسکتی ہیں۔ بلوچستان سے بھی یہی صورتحال ہے۔ ایسے میں آصف زرداری بیس مزید سیٹوں کی توقع لگا کر بیٹھے ہیں۔ لیکن کیا اس سے بلاول وزیر اعظم بن سکیں گے۔ یہ ایک مشکل سوال ہے۔ جس کا جواب شاید خود پیپلزپارٹی کے پاس بھی نہیں۔