مشاہد حسین اور ق لیگ 

سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں چوہدری برادران نے ہی سید مشاہد حسین کو سیکریٹری جنرل بنوا یا تھا


مزمل سہروردی December 26, 2016
[email protected]

سید مشاہد حسین مسلم لیگ (ق) کے تب سے ہی سیکریٹری جنرل ہیں جب سے چوہدری شجاعت حسین مسلم لیگ (ق) کے صدر ہیں۔ یہ بات بھی کوئی راز نہیں کہ چوہدری شجاعت حسین اور مشاہد حسین کے درمیان کمال کی انڈر اسٹینڈنگ ہے۔ اسی نڈر اسٹینڈنگ نے سید مشاہد حسین کو دھوپ چھاؤں اور آندھی طوفانوں میں مسلم لیگ (ق) کا سیکریٹری جنرل برقرار رکھا۔ اسی وجہ سے چوہدری برادران کو جب بھی پارٹی میں سے کسی کو نوازنے کا موقع ملا ہے تو انھوں نے سید مشاہد حسین کو ہی نوازا ہے۔

سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں چوہدری برادران نے ہی سید مشاہد حسین کو سیکریٹری جنرل بنوا یا تھا۔ تا ہم اس موقع پر شرط تھی کہ وہ وزیر نہیں بنیں گے۔ اور پھر جنرل پرویز مشرف نے انھیں وزیر نہیں بنا یا۔ اس کے بعد جب مسلم لیگ (ق) کو دوسری بار آصف زرداری کے ساتھ اقتدار ملا تب سید مشاہد حسین نے خود ہی اقتدار سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا۔ اور وہ مسلم لیگ (ق) کی پیپلزپارٹی سے شراکت اقتدار کے برملا خلاف بھی تھے۔اسی لیے عین وقت پر بیرون ملک چلے گئے۔ تا ہم اس موقع پر بھی اقتدار سے دور رہتے ہوئے سید مشاہد اور چوہدری برادران کا مضبوط تعلق قائم رہا۔ وہ سینیٹر بھی رہے اور جماعت کے سیکرٹر ی جنرل بھی رہے۔

سید مشاہد حسین مسلم لیگ (ق) کے مسلم لیگ (ن) سے سیاسی اتحاد اور قرابت کے حامی ہیں۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اپنی بھر پور کوشش کے باوجود اس کے لیے کوئی سیاسی راستہ نہیں نکال سکے ہیں۔ اس ضمن میں کئی بار منزل قریب بھی آئی لیکن پھر دور نکل گئی۔ شا ید یہ کام تن تنہا سید مشاہد حسین کے بس میں نہیں تھا۔ کیونکہ دونوں طرف ضد تھی۔

اس وقت سید مشاہد حسین مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں گو باقاعدہ شریک نہیں ہیں۔ لیکن وہ مسلم لیگ (ق) میں ہوتے ہوئے بھی میاں نواز شریف کے پسندیدہ ہیں۔ وہ سینیٹ کی ڈیفنس کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ یہ عہدہ انھیں مسلم لیگ (ق) کی وجہ سے ہی ملا ہے لیکن ان کے کام سے مسلم لیگ (ن) بھی خوش ہے۔ اس کے ساتھ وہ سی پیک کے حوالہ سے پارلیمانی کمیٹی کے بھی چیئرمین ہیں۔ یہ عہدہ یقینا انھیں حکومت کی بالواسطہ حمایت کی وجہ سے ملا ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سید مشاہد حسین چین کے بھی بہت قریب ہیں اور چین میں ان کے لیے بہت پسندیدگی اور احترام ہے۔ اسی لیے چینی حکومت نے بھی ان کے نام کی حمایت کی۔ حکومت یہ عہدہ اپوزیشن کو دینا چاہتی تھی اور سید مشاہد حسین اپوزیشن میں حکومت کے لیے سب سے قابل قبول تھے۔ اس طرح وہ سی پیک پر پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ بھی بن گئے۔ انھیں اس وقت وفاقی وزیر کے برابر مراعات حاصل ہیں۔ اور اگر وہ مسلم لیگ (ن) میں شامل بھی ہو جاتے تو بھی وہ مشکل سے ایک وفاقی وزیر ہی بن سکتے تھے جو اس وقت وہ ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ق) نے حال ہی میں پارٹی انتخابات کا عمل مکمل کیا ہے۔اس عمل سے پارٹی کی قیادت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ پارٹی کی کمان چوہدری برادران کے پاس ہی ہے۔ چوہدری شجاعت حسین پارٹی کے دوبارہ صدر بن گئے ہیں۔ چوہدری پرویز الہیٰ دوبارہ پنجاب کے صد ر بن گئے ہیں باقی صوبوں میں بھی تنظیمیں بن گئی ہیں۔ لیکن کئی ماہ گزر جانے کے باوجود سید مشاہد حسین دوبارہ سیکریٹری جنرل نہیں بن سکے ہیں۔

مسلم لیگ (ق) کے اندر سے یہ آوازیں بھی آرہی ہیں کہ سیکریٹری جنرل کے لیے کسی نئے نام پر بھی غور ہوا ہے۔ ان میں کامل علی آغا، راجہ بشارت حسین اور طارق بشیر چیمہ کے نام شال ہیں۔بہرحال سید مشاہد حسین کو سیکریٹری جنرل بنانے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا ہے اور مسلم لیگ (ق) کئی ماہ سے کسی مرکزی سیکریٹری جنرل کے بغیر ہی چل رہی ہے۔

دوستوں کا کہنا ہے مشاہد حسین اور ق لیگ ایک ایسی نہج پر ہیں جہاں کوئی ایک دوسرے کو جواب نہیں دینا چاہتا۔اسی کشمکش میں وقت گزرتا جا رہا ہے۔ سید مشاہد حسین کی سینیٹ کی مدت 2018 تک ہے۔ اس کے بعد مسلم لیگ (ق) انھیں دوبارہ سنیٹر بنوانے کی پوزیشن میں شاید نہ ہو ۔ جہاں تک مسلم لیگ (ن) سے ہنی مون کا تعلق ہے تو وہ تو چل ہی رہا ہے۔ ق لیگ کا سیکریٹری جنرل ہونایا نہ ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔یہ کہا جا رہا ہے کہ جس دن وہ خود چل کر چوہدری شجاعت حسین کے پاس چلے جائیں گے ان کا نوٹیفکیشن ہو جائے گا ۔ لیکن مشاہد حسین کا موقف ہے کہ یہ کام بغیر جائے ہونا چاہیے۔

چوہدری شجاعت حسین کی پیپلزپارٹی اور آصف زرداری سے ملاقات ہو چکی ہے۔ آصف زرداری کی وطن واپسی کے اگلے ہی دن وہ کراچی پہنچ گئے اور ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد ایک تو عمران خان پر واضح کرنا ہے کہ ان کے پاس آپشن موجود ہیںاور دوسرا پیپلز پارٹی کے ساتھ رابطہ بڑھاتا ہے۔ چوہدری شجاعت حسین نے ق لیگ سندھ میں اسد جونیجو کوصدر اور طارق حسن کو سیکریٹری بنا یا ہے۔ سنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اگر ق لیگ نے اگلے انتخابات میں پیپلزپارٹی کے ساتھ اتحاد کرنا ہے تو ان کی سیٹیوں کی ایڈجسٹمنٹ کا خیال رکھا جائے بلکہ پہلے مرحلہ میںانھیں سندھ حکومت میں مشیر لیا جائے۔واللہ علم بالثواب۔

سید مشاہد حسین گو سب دوستوں کو یہی کہہ رہے ہیں کہ وہ مسلم لیگ (ق) کے ساتھ ہی ہیں۔ لیکن جب میاں نواز شریف انھیں جنرل راحیل شریف کے الوداعی عشائییہ جیسے اہم موقع پر مدعو کرتے ہیں تو یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ سنیٹر تو کامل علی آغا بھی ہیں لیکن انھیں ایسی سرکاری تقریبات میں مدعو نہیں کیا جاتا۔ ایسے میں وہ تاریخ کے ایسے موڑ پر ہیں جہاں وہ ہیں وہاں نہیں ہیں اور جہاں نہیں ہیں وہاں ہیں۔

مقبول خبریں