گلیاں بند کرنے اور وال چاکنگ کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

عدالت نے بینظیر بھٹو ٹائونز کی اسکیموں کے ٹینڈرز جاری کرنے کے عمل میں بدعنوانی کیخلاف درخواست پرنوٹس جاری کردیے.


Staff Reporter December 27, 2012
عدالت نے بینظیر بھٹو ٹائونز کی اسکیموں کے ٹینڈرز جاری کرنے کے عمل میں بدعنوانی کیخلاف درخواست پرنوٹس جاری کردیے. فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اہم شاہراہوں پر رکاوٹوں اور گلیوں میں بیریئرز لگانے کے خلاف دائر درخواست پرچیف سیکریٹری،وزیربلدیات،سیکریٹری داخلہ، آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز،ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی اور کمشنر کراچی کو29 جنوری کیلیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیے ہیں۔

یونائیٹڈ ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیارکیاگیا ہے کہ کراچی میں اہم شاہراہوں اور گلیوں میں بیریئرز لگادیے ہیں جن سے شہریوں کو سخت اذیت کا سامناہے،ہنگامی صورتحال میں بھی نکلنے کا راستہ نہیں ملتا، جمشید ٹائون،گلشن ٹائون، گلبرگ، لانڈھی، کورنگی،نارتھ ناظم آباد،نیو کراچی،لیاقت آباداور کلفٹن جیسے علاقوں میں70فیصد علاقے بند کردیے ہیں جو کہ آئین کی خلاف ورزی ہے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ شہر کی اہم دیواروں کو چاکنگ سے گندا کردیا گیا ہے جس سے شہر کی خوبصورتی بھی متاثر ہوتی ہے، شہر کی دیواریں تاحال اشتہاری بورڈ کا منظر پیش کرتی ہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مدعا علیہان کو بیریئرز اور وال چاکنگ کے خاتمے کا حکم دیا جائے، علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ٹائونز کی اسکیموں کے ٹینڈرز جاری کرنے کے عمل میں بدعنوانی کیخلاف آئینی درخواست پر مدعا علیہان کو نوٹس جاری کردیے۔

05

درخواست گزار مہران کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے ذوالفقار خان کے توسط درخواست میں پراجیکٹ ڈائریکٹر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ٹائونز اسکیمز ،ڈپٹی ڈائریکٹر پراجیکٹ اور سیکریٹری لوکل گورنمنٹ حکومت سندھ کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیا ہے کہ مدعا علیہان نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو ٹائونز کے تحت مختلف تعمیراتی اسکیموں کے لیے اشتہارات دیے گئے ان اشتہارات کے جواب میں درخواست گزار ایسوسی ایشن کے ارکان نے بھی رابطہ کیا لیکن ایسوسی ایشن کے ارکان ٹھیکیداروں کو ٹینڈرنگ کے عمل میں شرکت سے محروم کرنے کی کوشش کی اور ٹینڈرفارم فراہم کرنے سے گریز کیا گیااور نہ ہی ان کی شکایات دور کرنے پر کوئی توجہ دی۔

بلکہ اس صورتحال کے خلاف جب درخواست گزاروں نے تحریری شکایات جمع کرائیں تو وہ بھی وصول کرنے سے انکار کردیا گیا،امتیاز احمد ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر درخواست میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ مدعا علیہان کے اقدام کوغیرقانونی اورغیرآئینی قرار دے ، ٹینڈرنگ کاعمل دوبارہ اسی مقام پر بحال کیا جائے کہ درخواست گزار ایسوسی ایشن کے ارکان بھی اس میں شریک ہوسکیں۔