پچ پر کیا کانٹے نکل آئے

قومی ٹیم ماضی میں بھی کئی بار اس طرح فتح کا تحفہ حریف کو پیش کرچکے۔


سلیم خالق December 30, 2016
قومی ٹیم ماضی میں بھی کئی بار اس طرح فتح کا تحفہ حریف کو پیش کرچکے۔ فوٹو: اے ایف پی

ISLAMABAD: کیا کوئی ٹیم ایسی ہے جو پہلی اننگز میں443 رنز بناکر بھی اننگز سے ٹیسٹ ہار جائے؟ بالکل یہ اعزاز ہماری ٹیم کو ہی حاصل ہے، ماضی میں بھی کئی بار اس طرح فتح کا تحفہ حریف کو پیش کرچکے اور اب میلبورن میں بھی یہی ہوا، بدھ کی ہی بات ہے میں نے سابق ٹیسٹ کرکٹر صلاح الدین سے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ہم نے چوتھی اننگز سے بچنے کیلیے پہلے بیٹنگ کی، یہ نہ ہو کہ دوسری باری میں ہی ڈھیر ہو جائیں، جمعرات کو بھی چھٹی حس یہی بتا رہی تھی کہ کہیں پانچویں روز کوئی انہونی نہ ہو جائے، خدشات حقیقت میں بدل گئے اور ایک ایسی بدترین شکست دیکھنے کو ملی جو برسوں یاد رہے گی،اس کی ایک وجہ اپروچ بھی تھی، ہم ماضی کی طرح سست رفتاری سے کھیلتے رہے حریف ٹیم کے ڈیوڈ وارنر وغیرہ نے برق رفتاری سے اسکور کر کے دباؤ ختم کر دیا،آسٹریلیا میں عموماً پاکستانی ٹیم کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے، ماضی میں سڈنی ٹیسٹ جیتنے کی پوزیشن پر آکر گنوا دیا تھا جس کی کئی بار آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ نے تحقیقات بھی کی تھیں۔

اب تو خیر وہ منفی عناصر ٹیم سے باہر ہیں،مگر ٹیم کی پرفارمنس میں تسلسل نہ ہونے کی روایت برقرار ہے، آپ آسٹریلیا کو اس کی سرزمین پر ہرانے کا اس سے اچھا موقع پا ہی نہیں سکتے تھے، نہ اب اس میں شین وارن جیسا کوئی اسپنر موجود ہے نہ کوئی میک گرا جیسا پیسر،حالیہ سیریز سے قبل تو مسلسل شکستوں کے سبب اسٹیون اسمتھ بھی شدید تنقیدکی زد میں تھے، اب آسٹریلیا کی پچز بھی ماضی جیسی خطرناک نہیں رہیں اس کے باوجود ایسے ہتھیار ڈال دینا شرمناک ہے، ہم نے اپنی روایت برقرار رکھی، ایک آؤٹ آف فارم ٹیم کو فارم میں لے آئے، اسپنر ناتھن لیون کا اخراج یقینی ہو گیا تھا مگر وہ آخری روز تین وکٹیں لے کر ٹیم میں جگہ بچا گئے، اگر گراؤنڈ میں موجود کمنٹیٹرز کی بات مان لیں تو پچ پانچویں دن بھی بیٹنگ کیلیے سازگار تھی پھر ایسا کیا ہوا کہ ہم 163 پر آؤٹ ہو گئے؟

سمیع اسلم اور بابر اعظم یقیناً باصلاحیت نوجوان ہیں مگر انھیں سمجھ لینا چاہیے کہ بڑا کرکٹر بننے کیلیے یو اے ای کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی رنز بنانا ہوں گے، مصباح الحق اور یونس خان نے یقیناً ملک کیلیے بڑی خدمات انجام دیں مگر انھیں رنز کیلیے ایسے جدوجہد کرتے دیکھنا افسوسناک ہے، ہمارے ملک میں کارنامے بھلا دینے کی روایت عام ہے، اس لیے دونوں کیلیے مناسب ہو گا کہ اب اپنے مستقبل کا خود ہی فیصلہ کر لیں، اظہر علی نے بطور بیٹسمین تو خود کو منوا لیا اب انھیں ٹیسٹ کی قیادت سونپنے کا وقت بھی قریب آ گیا ہے،افسوس کہ ان کی ڈبل سنچری اور ریکارڈز کے باوجود ٹیم کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا،اسد شفیق اور سرفراز احمد کے ساتھ مل کر اظہر ٹیم کو دوبارہ سے بلندیوں پر لے جا سکتے ہیں۔

حالیہ میچ میں پاکستان کی بولنگ بھی مایوس کن رہی، سہیل خان کی فٹنس اور صلاحیتوں پر کوچ مکی آرتھر اور بولنگ کوچ اظہر محمود کو اعتماد نہیں مگر وہ پلیئنگ الیون میں شامل ہیں، یہ درست ہے کہ انہوں نے پہلی اننگز میں اچھی بیٹنگ کی مگر اصل کام تو بولنگ ہے اس میں کیا کیا؟ 131 رنز دے کر 3 وکٹیں لینا کون سا کارنامہ ہے؟ اسی طرح وہاب ریاض کی وکٹوں سے کہیں زیادہ تعداد تو نو بالز کی ہے، نجانے اتنے برسوں سے انھیں کس بنیاد پر قومی ٹیم کے ساتھ رکھا ہوا ہے، انہوں نے اب تک کتنے میچز جتوا دیے ہیں؟ عامر کو فاسٹ ٹریک پر واپس لایا گیا، وہ اتنے میچز کھیل چکے مگر بولنگ میں ماضی جیسی کاٹ محسوس ہی نہیں ہو رہی، یاسر شاہ نے میلبورن میں رنز دینے کی ڈبل سنچری کرا دی، یہ کیسی پرفارمنس ہے؟ کیا وہ بس یو اے ای میں اپنی مرضی کی پچز پر ہی کامیاب رہ سکتے ہیں؟

پاکستان نے624 رنز بنوا دیے یہ کون سا بہترین بولنگ اٹیک ہے؟ ایک ایسی پچ جہاں مچل اسٹارک10 ویں نمبر پر84 رنز بنا گیا، 7 چھکے اور 3 چوکے لگا دیے وہاں ہمارے 11 پلیئرز نے اسی دن مل کر 163 رنز بنائے،چند گھنٹوں کے دوران ایسی کیا تبدیلی پچ میں آ گئی، کیا اس میں کانٹے نکل آئے تھے جو قدم جمانا مشکل ہوگیا؟ فیلڈنگ میں کیچز ڈراپ کرنے کا سلسلہ بھی برقرار ہے، یہ سمجھ نہیں آتا کہ کوچنگ اسٹاف کی فوج پر ہر ماہ کروڑوں روپے پھونکنے کے باوجود نتائج صفر ہیں تو انھیں رکھنے کا کیا فائدہ ، اظہر محمود کے پاس ایسی کون سی گیڈرسنگھی تھی کہ زیر کوچنگ ون ڈے میں ریکارڈ 444 رنز بنوانے کے باوجود انھیں دو سال کیلیے ذمہ داری سونپ دی گئی، سلیکشن کمیٹی کیا کر رہی ہے؟ انضمام الحق اپنے دور میں کون سے گوہرنایاب ڈھونڈ لائے، بورڈ کی بھی ٹیم پر کوئی توجہ نہیں ہے، میں اب محسن خان سے متفق ہوتا جا رہا ہوں کہ پہلا ٹیسٹ ہارنے کے بعد ہم نے جس طرح خوشیاں منائیں اور کیک کاٹا وہ بھی ٹھیک نہیں تھا، پہلے تو پلیئرز شکست پر کئی دن افسردہ رہتے تھے اب جشن سے ہم نے نوجوانوں کو کیا پیغام دیا؟ ایسے میں کرکٹ بورڈ کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھتے ہیں، حکام کی توجہ صرف پیسہ کمانے پر مرکوز ہے، ٹیسٹ میں ہم یواے ای میں جیت کر رواں سال چند روز کیلیے نمبر ون بھی بنے مگر صرف گھر پر من پسند پچز بنا کر جیتنے والی ٹیمیں چیمپئن نہیں ہوتیں، برسبین میں ناکامی کے باوجود لوگوں نے تنقید نہ کی اس کی وجہ فائٹنگ اسپرٹ تھی مگر میلبورن میں جس طرح ٹیم ہاری اسے شرمناک ہی کہا جا سکتا ہے،ایک عام شائق کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ ایسا ہوگا مگر یہ ہوا۔

یہ شکست کئی سوالات چھوڑ گئی جن کے جوابات تلاش کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی ٹیسٹ ٹیم پر ناز تھا مگر ایسی ناکامیاں دل توڑ دیتی ہیں، یہ سیریز بھی ہم نے گنوا دی،اس سے قبل ویسٹ انڈیز سے آخری ٹیسٹ اور پھر نیوزی لینڈ میں بھی دونوں میچزمیں ناکامی ملی تھی، یہ صورتحال ٹھیک نہیں کہیں ٹیسٹ ٹیم کا حال بھی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی جیسا نہ ہو جائے۔