دو ٹوک خارجہ پالیسی کی ضرورت

اقتصادی راہ داری منزل نہیں ایک اہم سفر کا سنگ میل اور گیم چینجر منصوبہ ہے


Editorial January 05, 2017
؛ آئی این پی

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور موجودہ حکومت ملک سے انتہاپسندی کا خاتمہ کر کے ہی دم لے گی ، انھوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان دہشتگردی کے خلاف روڈمیپ کی حیثیت رکھتا ہے جس پر من و عن عمل جاری ہے۔

منگل کو وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان کے اپنے ہمسایوں اور تزویراتی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کی موجودہ صورتحال اور خارجہ تعلقات کے حوالے سے مختلف چیلنجز کے جواب میں پالیسی آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، چیف آف آرمی اسٹاف قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، مشیر خارجہ سرتاج عزیز، معاون خصوصی طارق فاطمی، مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ شرکاء نے اتفاق کیا کہ پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مسلسل کاوشیں اور جانی و مالی شاندار قربانیوں کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں جنھیں عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔

خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئے تزویراتی صورتحال میں وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت سیاسی و نئی عسکری قیادت کا پہلا اجلاس اپنے دوررس اثرات و نتائج کے حوالہ سے نہ صرف خوش آیند اور مستحسن ہے بلکہ نئے آرمی چیف کی آمد کے بعد سیاسی وعسکری ہم آہنگی کا آئینہ دار ہے بلکہ قوم کے قلبی اطمینان و قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کے امور پر اتفاق رائے اور غیر متزلزل استقامت آمیز لائحہ عمل کی طرف نئی پیش رفت کا غماز بھی، جس میں خارجہ پالیسی کے باب میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے زمینی حقائق کے تناظر میں حکمت عملی طے کی گئی ۔

یہ حقیقت ہے کہ سیاست دانوں اور خاص طور پر اپوزیشن جماعتوں کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ نئے سیاسی، معاشی اور بین الاقوامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فرسودہ اور رجعت پسندی پر مبنی معذرت خواہانہ سیاسی روش ملکی مفاد میں ترک کردی جائے، پاکستان کی نئی گلوبل شناخت ابھر کر سامنے آجائے اور خطے کے اقتصادی و سیاسی مفادات اور ہمہ گیر ترقیاتی اہداف تک رسائی کے لیے سفارت کارانہ فعالیت کا بھرپور مظاہرہ کیا جائے، مربوط میکنزم کے تحت خیر سگالی کی مقامی اور بین الاقوامی بنیاد رکھی جائے، نیز ملکی شناخت اور دہشتگردی کے عفریت سے پیدا شدہ ریاستی وقار پر لگنے والے بے بنیاد الزامات اور منفی عالمی امیج کو رد کرنے کے لیے ٹھوس خارجہ حکمت عملی وضع ہونی چاہیے۔

آج امریکا سمیت عالمی طاقتیں پاکستان کی دہشتگردی سے نمٹنے اور عالمی امن کی کوششوں میں نمایاں خدمات اور قربانیوں کا اعتراف کرتی ہیں اور خطے میں امن کی کوششوں اور افغانستان کی مخدوش صورتحال کی بہتری کے لیے مذاکراتی عمل میں کلیدی کردار کی بھی معترف ہیں، تاہم اس اہم بریک تھرو کے ہوتے ہوئے پاکستان کو بھارت کے ساتھ ایک فیصلہ کن مکالمہ اور کشمیر کے منصفانہ و پائیدار حل کے لیے بھی بریک تھرو کرنا ہے ، ادھر مشرق وسطیٰ کی دردناک صورتحال میں اپنے سیاسی ، اخلاقی ، مالی اور سفارت کارانہ کردار سے شام ، عراق، ترکی ، مصر، سعودی عرب، یمن، ایران، لیبیا ، فلسطین ، میانمار سمیت پورے عالم اسلام کو درپیش مسائل سے عہدہ برآہونا بھی ہے، عالم عرب سے پاکستان کی قدیمی دوستی اور تاریخی و ثقافتی رشتے درد کے دائمی رشتے ہیں ، مسلم ممالک سے پیوستگی ایک فعال و آزاد خارجہ پالیسی اور دو ٹوک سفارت کارانہ پیش قدمی سے عبارت ہے۔

وزیراعظم نوازشریف کا کہنا صائب ہے کہ پاکستان خطے کے تمام ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے اور ان کے ساتھ باہمی طور پر مفید اور مضبوط روابط استوار کرنے کا خواہاں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پر امن بقائے باہمی، باہمی احترام اور اقتصادی طور پر مضبوط خطہ ہمارا مشترکہ مقصد ہونا چاہیے اور حکمرانوں کو اس مقصد کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے ۔ ان ہی کوششوں سے پاک چین اقتصادی راہداری علاقے میں مواصلاتی رابطوں اور مشترکہ خوشحالی کی ہماری جستجو کا محور بنی ہے۔

اقتصادی راہ داری منزل نہیں ایک اہم سفر کا سنگ میل اور گیم چینجر منصوبہ ہے۔لازم ہے کہ خود احتسابی ہو اور قومی امور پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے تاکہ داخلی ملکی صورتحال پر سیاسی و عسکری مفاہت دیرپا ہو اور فکری و تزویراتی ہم آہنگی قومی امنگوں کی تکمیل کا محور بنے۔ لہٰذا وسیع تر ادراک ہونا چاہیے کہ ارباب اختیار کو ابھی کئی محاذوں پر چومکھی لڑائی لڑنا ہے، عدالت عظمیٰ میںپاناما کیس کی سماعت جاری ہے ، جمہوری عمل اور انتظامی شفافیت کا سوال جواب طلب ہے، سیاسی درجہ حرارت گرم اور اشتعال انگیز ہے، عوام جمہوری ثمرات سے تاحال محروم ہیں۔

بس جسم و روح کا رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہیں، میڈیا میں سیاست دان اشرافیہ کی اربوں روپے کی لوٹ مار کی داستانیں گردش میں ہیں، اس میں کیا سچ کیا جھوٹ اس کا بھی ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے، دہشتگردی کی کمر پر کاری ضرب لگی ہے مگرا سٹریٹ کرائم اور بہیمانہ وارداتوں کے بند ٹوٹ گئے ہیں، خودکشی معمول کا واقعہ بن چکا ہے، خواتین ، بچوں اور بیروزگاروں کی فوج ظفر موج ہے کہ خط افلاس سے نیچے گزر بسر کررہی ہے ، یہ لینڈ اسکیپ بھی جلد بدلا جائے ۔