پاکستان کی ثالثی میں دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی حتمی نتیجے اور معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے، ہر دو فریق 21 گھنٹے تک بلاواسطہ اور بالواسطہ مذاکرات میں شریک رہے لیکن کسی فیصلے تک نہ پہنچ سکے۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے جب کہ ایرانی وفد کی سربراہی اسپیکر قالیباف کر رہے ہیں، براہ راست مذاکرات سے قبل ایرانی اور امریکی وفود نے وزیر اعظم شہباز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں اور تجاویز کا تبادلہ کیا۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ نے بھی وزیر اعظم کی معاونت کی۔ امریکی اور ایرانی وفود کی براہ راست ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دونوں فریق کو اپنا تعاون پیش کیا۔
امریکی نائب صدر کے مطابق اسلام آباد میں 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود ہم کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے، بنیادی تنازع جوہری ہتھیاروں پر تھا۔ امریکا کی شدید اور اولین خواہش، کوشش اور مطالبہ یہی تھا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی تمام چیزیں تلف کر دے اور ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا معاہدے کرے۔ اسلام آباد مذاکرات میں بھی یہی نکتہ اختلاف کا باعث بنا اور بیشتر نکات پر اتفاق ہونے کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہو سکا۔ ایرانی وفد کے سربراہ اسپیکر باقر قالیباف کا موقف ہے کہ امن مذاکرات میں امریکا ایران کا اعتماد جیتنے میں ناکام رہا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اچھے رہے لیکن آبنائے ہرمز اور جوہری معاملے پر اتفاق نہ ہو سکا۔ مذاکرات کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہونے پر عالمی برادری نے مایوسی و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے مطالبہ کیا کہ بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے۔
برطانیہ، روس، چین، ترکیہ، فرانس، یورپی یونین، یو اے ای اور دیگر ملکوں نے ثالثی کی پاکستان کی کوششوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان امن کی کوششوں اور ثالثی کے اس سلسلے کو جاری رکھے گا۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ امریکا ایران مذاکرات فوری کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے لیکن پاکستان کے ٹرائیکا (وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر) نے سفارتی محاذ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کروانے اور 47 سال کے طویل وقفے اور کشیدگی و اختلافات کے باوجود دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے بٹھا کر جو شان دار خدمت انجام دی ہے اس کی چار دانگ تحسین کی جا رہی اور پاکستان کے ٹرائیکا پر اظہار اعتماد کرتے ہوئے یہ امید باندھی جا رہی ہے کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں ضرور کامیاب ہوں گی اور امریکا و ایران آیندہ ملاقات و مذاکرات کے بعد یقینا کسی قابل قبول معاہدے تک پہنچ جائیں گے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو سکے۔
امریکا اسرائیل کے ایران پر 28 فروری کو حملے سے قبل فریقین کے درمیان بنیادی تنازع جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے تھا۔ اس ضمن میں خلیجی ملک عمان کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات ہو رہے تھے۔ واقفان حال اور ثالثی کے مرکزی کردار عمانی وزیر کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ ایران نے امریکی شرائط پر کافی حد تک اتفاق کر لیا ہے اور ممکنہ معاہدے سے قبل ہی ایران پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت شہید ہو گئی۔ ٹرمپ بار بار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امریکا نے ایران کی فوجی طاقت کو ختم کر دیا، جوہری ہتھیار کی تیاری کے مراکز بھی تباہ کر دیے اور ایران کئی دہائیاں پیچھے چلا گیا۔ 39 روزہ جنگ کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا جس کے نتیجے میں پوری دنیا میں پٹرولیم مصنوعات کا بحران پیدا ہو گیا۔ جنگ بندی کے نتیجے میں اگرچہ آبنائے ہرمز محدود سطح پر کھل گئی ہے۔
تاہم ایران مستقبل میں آبنائے ہرمز پر اپنا مکمل کنٹرول چاہتا ہے اور اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں سے ٹول وصول کرنا چاہتا ہے جو امریکا کو کسی صورت قبول نہیں۔ صدر ٹرمپ نے اسلام آباد مذاکرات کے بعد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کر دیا جس کے نتیجے میں امریکا ایران کشیدگی میں پھر سے اضافہ ہو گیا ہے امریکا نے دھمکی دی ہے کہ اگر کسی ایرانی نیوی کے جہاز نے امریکی بحری جہازوں کے قریب جانے کی کوشش کی تو اسے تباہ کر دیا جائے گا۔
ایرانی فوج نے امریکی ناکہ بندی کو بحری قذاقی قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا انتباہ کیا ہے۔ نیٹو نے امریکی اقدام کی حمایت سے انکار کر دیا ہے جب کہ چین نے بحری ناکہ بندی کو عالمی مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوئے بحران کو مذاکرات سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ بدلتی ہوئی صورت حال اور صدر ٹرمپ کے خطرناک عزائم کے پیش نظر پاکستان کو برق رفتاری سے سفارتی محاذ پر کوششیں کرنا ہونگی۔ امید ہے کہ امریکا اور ایران آج نہیں تو کل معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔