کوئی اسے کچھ کہہ کر تو دیکھے
آپ نے کبھی تیل بردار ملکوں کو تیل کی ’’برائی‘‘ کرتے سنا ہے
اچھا ہوا ہم نے اپنے قلم کو اسٹارٹ ہونے سے پہلے ہی روک لیا ورنہ ہم آپ سے کہنے والے تھے کہ ''اگر آپ کو یاد ہو'' ... اور پاکستان میں کسی سے ایسا کہنا یوں لگتا ہے جیسے ہم فلم ''گجنی''کے عامر خان سے مہینہ بھر پہلے کی کوئی بات پوچھتے حالانکہ اس بے چارے کی یادداشت کا وقفہ پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں ہوتا ہے۔ ہمیں تو ایسا لگتا ہے کہ اس فلم میں عامر خان نے پاکستانیوں کا کردار ادا کیا ہو کہ زندہ باد کہتے ہوئے انھیں یہ بالکل بھی یاد نہیں ہوتا کہ ابھی پندرہ منٹ پہلے وہ اس شخص یا پارٹی کو مردہ باد کہہ چکے ہیں۔
ہم بھی آپ کے اس قابل رشک حافظے کا امتحان لیے بغیر کہیں گے کہ اگر آپ کو یاد ہو یا نہ ہو ہم نے کچھ دن پہلے ''کرپشن'' کی طرف داری کا اعلان کیا تھا لیکن ان لوگوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی، اور بدستور کرپشن کرپشن کر رہے ہیں، ہمیں پتہ ہے کہ آپ ''وہ'' بھی ہیں اور ''وہ'' بھی بلکہ ''وہ وہ'' سب کچھ ہیں لیکن اتنے احسان فراموش ہوں گے یہ ہم نے کبھی سوچا تک نہیں تھا، آخر اس بے چاری درد کی ماری اور دربدر خواری ''کرپشن''نے آپ کا بگاڑا کیا ہے؟ بلکہ وہ تو بے چاری بے زبان ہے ورنہ آپ سے کہہ ڈالتی کہ
پتھرو آج میرے سر پہ برستے کیوں ہو؟
ہم نے تیرا بھی ''کوئی'' کام بنا رکھا ہے
ہمیں تو بڑا دکھ ہوتا ہے کہ یہ بے چاری کرپشن جو جنم جنم کی ''سنوارو''ہے اسے یوں برا بھلا کیوں کہا جاتا ہے۔ وہ حضرت مسیح ؑکی بات بھی آپ کو یاد نہیں ہو گی اس لیے ہم دہرا ہی دیتے ہیں کہ پہلا پتھر وہ مارے جس نے یہ گناہ نہ کیا ہو اور پھر جب پلٹ کر دیکھا تو میدان خالی تھا، سارے سنگ بدست غائب ہو چکے تھے لیکن وہ تو مسیح ؑ تھے، ہمارے کہنے پر ایسا کچھ تو ہو نہیں سکتا اور پھر آپ کی یادداشت بھی ''پندرہ منٹا''ہے اس لیے آپ کو کیسے یاد ہو گا کہ آپ نے بھی تو فلاں فلاں دن فلاں فلاں گلی میں اس کرپشن کا پلو کھینچا تھا۔
ہند کے اچھوتوں کے ایک شاعر نے کہا ہے اور ''برہمنوں'' سے کہا ہے جو ہمارے ہاں بھی سرکاری محکموں اور سیاسی پارٹیوں میں بہت ہوتے ہیں کہ ''ہم کیسے اچھوت ہیں کہ ہماری بہنوں بیٹیوں کو تو چوم بھی لیتے ہوں اور اچھوت بھی کہتے ہو'' کرپشن کا سلسلہ بھی کچھ ایسا ہے، اگر ہماری دعا قبول ہوتی اور ہمارے پاس کوئی جادو ہوتا اور ہم کرپشن والوں کے سر پر سینگ اگا سکتے تو آج پورے ملک میں ایک صرف گدھا ہی ''بے سینگ'' ہوتا، اکا دکا اگر بے سینگا ہوتا تو وہ بے چارا بھی گدھوں میں کہیں عدم پتہ ہوتا
ناوک نے تیرے صید نے چھوڑا زمانے میں
تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں
جب سب کو یہ معلوم بھی ہے کہ گڑیا بھجور کھانے والا کسی کو اس کام سے منع نہیں کر سکتا تو کیوں اپنی جان کو خواہ مخواہ عبث میں تھکا رہے ہو، چھوڑ دو بے چاری کرپشن کو اپنا کام کرنے دیں، جو کہیں کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ رہی ہے بلکہ سنوار ہی سنوار رہی ہے، ذرا کھول آنکھ فلک دیکھ زمین دیکھ لی اور اس ملک کی بے پناہ ''ترقی'' اور ترقیاتی کاموں پر نظر ڈال ... اور یہاں سے ''ڈوب کر'' مغرب سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ ۔ ہاتھ میں اٹھائے ہوئے پتھر کو پھینک دیجیے، پھینک نہیں سکتے تو اپنی کھوپڑی یعنی صحیح جگہ پر دے ماریئے، یہ کیسا انرت ہے بلکہ بقول گبر سنگھ بہت ناانصافی ہے۔
آپ نے کبھی تیل بردار ملکوں کو تیل کی ''برائی'' کرتے سنا ہے، ملائشیا نے پام کے پودے کو جڑ سے اکھاڑنے کی بات کی ہے، افغانستان کو تازہ اور سوکھے پھلوں پر لعنت ملامت بھیجتے دیکھا ہے، پڑوسی ملک نے کبھی ''بالی وڈ'' کے بارے میں کچھ کہا ہے، بنگلہ دیش نے چائے اور پٹ سن کے خلاف کبھی کچھ کہا ہے، کینیا کو ''چائے''کی برائی کرتے دیکھا ہے بلکہ وہ ان چیزوں کی مدح کرتے ہیں، احسان مانتے ہیں، جب کہ ہم اپنی ''کماؤ پتری'' کے خلاف ہر وقت برا بھلا کہتے رہتے ہیں، یہ کتنی بری بات ہے آخر لوگ کیا کہیں گے زمانہ کیا سوچے گا؟ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے زمانے میں کہ وہ تو ہماری زندگی میں رنگ بکھیرے جارہی ہے ترقی کے بام پر پہنچا رہی ہے اور ہر آڑے وقت ہمارے کام آتی ہے اور ہم اسے برا بھلا کہتے ہیں وہ بھی محض ایک دوسرے کو دکھانے کے لیے ورنہ سب کو پتہ ہے، پتہ پتہ بوٹا بوٹا اور سارا باغ جانے ہے کہ
واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر می کند
چوں بہ خلوت می رود آں کاردیگر می کند
ہمیں پتہ ہے کہ یہ اصل چکر کیا ہے، دوسروں کو اس سے برگشتہ کر کے صرف اپنا بنا لینے کا سلسلہ جانتے ہیں کہ اب تو ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے، ایسا نہ ہو کہ ہمارے ہاتھ سے نکل ہی جائے ۔
اتنا نہیں سوچتے کہ اگر یہ الہ دین کا چراغ ہمارے ہاتھ سے چھن گیا تو ہمارے پاس اور کیا ہے، لوگوں کے پاس تو بنگلے ہوتے ہیں کاریں ہوتی ہیں بینک بیلنس ہوتے ہیں اور ہمارے پاس یہی ایک ''ماں'' ہے وہ بھی اگر چھن گئی تو باقی کیا رہ جائے گا، ترقی اور خاص طور پر ترقیاتی کام تو اک دم رک جائے گا۔ وہ خدا حضرت ضیاء الحق کو اس کا بھرپور حصہ دے کہ اس نے فنڈز اور ترقیاتی کاموں کے ذریعے اسے عام کر دیا ورنہ پہلے تو یہ محلوں اور بنگلوں سے نکلتی ہی نہیں تھی اور پھر انصاف داروں کا خدا نے بھلا کر دیا کہ انھوں نے اس کا دائرہ ہر دہلیز تک بڑھا دیا ہے، یوں کہیے کہ عین شباب کے عالم میں پہنچ گئی ہے، ھمہ گیری کا اندازہ اس سے کیجیے کہ آج اگر کسی چوک پر کسی بھکاری کو دس روپے ملتے ہیں تو ان میں سے بھی چار روپے اس ''ھمہ گیر'' کے ہوتے ہیں۔
یہ کچھ جانتے ہی نہیں اور یونہی سوچے سمجھے اس کے خلاف بولتے رہتے ہیں ورنہ اگر آج ہی اس ''روح'' کو نکال دیا گیا تو ہمارا پورا معاشرہ بے جان ہو جائے گا، دفاتر اور محکموں پر ہو کا عالم طاری ہو جائے گا، سڑکیں گاڑیوں کے ٹائروں کو ترس جائیں گی، گھر گھر میں صف ماتم بچھ جائے گی، وزیروں افسروں منتخب نمایندوں کے سارے عزیز و اقارب بے روزگار ہو جائیں گے، ٹھیکیدار ختم ہو جائیں گے اور نہ جانے کہاں کہاں کیا کیا ہو جائے گا، اس لیے ملک کے وسیع تر مفاد اور قومی یک جہتی اور سالمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے اس کی طرف داری کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔ کرپشن کو برا بھلا کہنے والے جان لیں کہ ان کو پہلے ہمارا سامنا کرنا ہو گا اور ہم نے ان کی متوقع اینٹوں کے لیے اچھے خاصے پتھر اسٹاک کر لیے ہیں۔