اعلیٰ قیادت کی اہم قومی امور پر مشاورت

اب تو بیرون ملک سے بھی ڈرون حملوں کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں جو ایک خوش آیند پیش رفت ہے


Editorial July 28, 2012
اب تو بیرون ملک سے بھی ڈرون حملوں کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں جو ایک خوش آیند پیش رفت ہے

لاہور: ایوان صدر میں جمعرات کو اہم قومی امور پر اعلیٰ سطح کی مشاورت ہوئی۔ یہ مشاورت ایک اہم موقع پر ہوئی جب ملک کو درپیش کئی معاملات کے بارے میں ٹھوس فیصلے کرنے کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے' ملک توانائی کے بحران کا شکار ہے' اگلے انتخابات کا معاملہ درپیش ہے' یہاں جاری دہشت گردی کے واقعات ہیں اور سب سے بڑھ کر ڈرون حملے ہیں جو رکنے میں ہی نہیں آ رہے ہیں۔ یہ مشاورت صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے مابین ہونے والی ملاقات میں کی گئی۔

اس موقع پر پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی، مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت، نائب وزیر اعظم پرویز الٰہی، وزیر خزانہ حفیظ شیخ اور پیپلز پارٹی کے دیگر کئی سنیئر رہنما موجود تھے۔ ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال، انتخابات ایک سال کے لیے موخر کرانے، توانائی بحران اور عدالتی معاملات سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ق لیگ کی قیادت نے گول میز کانفرنس طلب کرنے کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے صدر و وزیر اعظم کو اپنی ہر ممکن حمایت کی یقین دہانی کرائی اور جمہوری قوتوں کے درمیان رابطوں کی کوششوں کو خوش آیند قرار دیا ہے۔

ہمارے خیال میں اعلیٰ سطح پر مختلف معاملات پر بات چیت اور تبادلہ خیالات کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے کیونکہ اسی طرح مسائل کے حل کے نئے در وا ہوتے ہیں۔ بلاشبہ فی زمانہ ہمارے ملک کے سیاسی حالات کو اطمینان بخش قرار نہیں دیا جا سکتا' اپوزیشن مسلسل حکومت پر تنقید کر رہی ہے اور بار بار واویلا کیا جا رہا ہے کہ کرپشن بڑھ رہی ہے' اسی اپوزیشن کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کا تقاضا بھی کیا جا رہا ہے'

اس سلسلے میں اتفاق رائے سے چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان کا متفقہ انتخاب بھی عمل میں لایا جا چکا ہے اور چیف الیکشن کمشنر قرار دے چکے ہیں کہ اگلے انتخابات کے سلسلے میں تیاریاں جاری ہیں چنانچہ اس وقت انتخابات ایک سال کے لیے موخر کرنے کی بات کرنا ایک نیا پینڈورا بکس کھولنے کے مترادف ہو گا اور وہ سیاسی جماعتیں جو اگلے انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں وہ ایسے کسی فیصلے کو کسی طور تسلیم نہیں کریں گی' البتہ اس سلسلے میں ان جماعتوں کے اتفاق رائے سے کوئی فیصلہ ہو جائے تو الگ بات ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ اس حوالے سے بات چیت میں انھیں بھی شامل کیا جائے بصورت دیگر سیاسی ہلچل مزید بڑھ جائے گی۔ جہاں تک توانائی کے بحران کا تعلق ہے تو اس بارے میں ایک سے زیادہ مرتبہ تجاویز دی جا چکی ہیں کہ حکومت کو نہ صرف موجودہ پوری گنجائش کے مطابق بجلی پیدا کرنا چاہیے بلکہ نئے ڈیموں کی تعمیر سے سلسلے میں صوبوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کا بیڑا بھی اٹھانا چاہیے' وفاقی حکومت اگر اپنے ایسے کسی اقدام میں کامیاب ہو گئی تو بلاشبہ اس سے بجلی کی قلت دور کرنے میں اچھا خاصا فائدہ ملے گا۔ حکومت کو ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے پر بھی توجہ دینا چاہیے کیونکہ آئے روز دہشت گردی کے واقعات اور بلوچستان و کراچی کی صورتحال عوام کو پریشان کیے دے رہی ہے۔

جمعرات کو بھی باجوڑ ایجنسی کی تحصیل سلارزئی میں کار بم دھماکا میں 2بچیوں سمیت 10افراد جاں بحق اور 4 بچوں سمیت 24 زخمی ہوگئے، دھماکا سے 5دکانیں بھی تباہ ہو گئیں۔ مقامی لوگوں اور انتظامیہ کے مطابق جمعرات کی صبح 9 بجے علاقہ پشت کے مین بازار میں کار کے اندر نصب بم اس وقت دھماکے سے اڑا دیا گیا جب لوگ خریداری میں مصروف تھے۔ ایسے ہر واقعے کے بعد ارباب بست و کشاد کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے جو درست ہے تاہم ضروری یہ ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے ٹھوس حکمت عملی مرتب کی جائے اور پھر اس پر عمل بھی کیا جائے۔ آئے روز کے ڈرون حملے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسائل بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں' اس سلسلے میں بھی کچھ کیا جانا چاہیے'

اب تو بیرون ملک سے بھی ڈرون حملوں کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں جو ایک خوش آیند پیش رفت ہے کیونکہ اس طرح ان حملوں کے خلاف آواز کو زیادہ موثر بنایا جا سکے گا' زیادہ بلند کیا جا سکے گا۔ ایک خبر کے مطابق برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے امریکا سے پاکستان میں ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ڈرون حملوں سے مغرب کے خلاف نفرت پیدا ہو رہی ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان لارڈ نذیر احمد، جارج گیلووے، لارڈ اسٹیل ایکوڈ، لارڈ ایوبری، لارڈ ری ایسکیڈل، لارڈ حسین، لارڈ جوڈ، یاسمین قریشی، جیرالڈ کوفمین، پال فلین، جان ہیمنگ اور سائمن ڈینزک نے امریکی حکومت کو ایک خط میں کہا ہے کہ ڈرون حملے برطانیہ کے اتحادی پاکستان کی خود مختاری کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے برطانوی دارالامرا کے رکن لارڈ نذیر احمد نے کہا ہے کہ وہ ڈرون حملوں کا معاملہ برطانوی پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے۔ امید کی جانی چاہیے کہ جب یہ معاملہ برطانوی پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا تو اس سے حالات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی کیونکہ بہرحال برطانیہ اس پوزیشن میں ہے کہ امریکا سے اس سلسلے میں اپنی بات منوا سکے۔

جہاں تک گول میز کانفرنس کا تعلق ہے تو ق لیگ کی تائید کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ اس بارے میں حکومت کو حمایت حاصل ہو رہی ہے چنانچہ اس سلسلے میں مزید آگے بڑھا جانا چاہیے تاکہ تمام سیاسی قوتوں کو ایک جگہ جمع کر کے ان سے ملک کو درپیش اہم مسائل کے بارے میں مشاورت اور متفقہ فیصلے کیے جا سکیں۔