چیپل نے پاکستانی کرکٹ کی تضحیک کومشغلہ بنالیا

جب تک پرفارمنس میں بہتری نہیں آتی کھیلنے کیلیے مدعونہیں کرنا چاہیے،سابق پلیئر


Sports Desk January 10, 2017
شائقین بیان پرناراض،رمیزراجہ اور شعیب اختر کی جانب سے بھی اظہارِ ناپسندیدگی۔ فوٹو: فائل

سابق آسٹریلوی کپتان ای ین چیپل نے پاکستانی کرکٹ کی تضحیک کو اپنا مشغلہ بنالیا، شائقین کرکٹ پر ان کے متعصبانہ کمنٹس بجلی بن کر گرے، سابق کرکٹرز رمیزراجہ اور شعیب اختر کی جانب سے بھی اظہار ناپسندیدگی کیا گیا۔

ای ین چیپل نے آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کو مشورہ دیا کہ جب تک گرین کیپس کی پرفارمنس میں بہتری نہیں آتی، اس کو اپنے ملک میں کھیلنے کیلیے مدعو ہی نہیں کرنا چاہیے، انھوں نے کہا کہ پاکستان اب آسٹریلیا میں لگاتار 12 ٹیسٹ ہار چکا، کسی کو انھیں خواب غفلت سے جگانا چاہیے، کرکٹ آسٹریلیا کو چاہیے وہ ان سے کہا کہ جب تک آپ خود کو بہتر نہیں بناتے ہم اپنے ملک میں نہیں بلائیں گے۔

چیپل نے کہا کہ آپ ہمیشہ بُری کرکٹ نہیں کھیل سکتے اور خراب بولنگ نہیں کرسکتے، دقیانوسی فیلڈ سیٹنگ اور خراب فیلڈنگ کے بعد آسٹریلیا میں اچھی کرکٹ کھیلنے کی کیسے توقع کی جاسکتی ہے؟73 سالہ چیپل نے مصباح پر پھر اٹیک کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی مشکلات کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انھیں کوئی لیڈر شپ میسر نہیں رہی، مصباح سے کوئی تحریک نہیں مل رہی تھی جس سے صورتحال تبدیل ہوتی،اگر میں سلیکٹر ہوتا تو مصباح کپتان نہ ہوتے مگر پاکستان میں کچھ بھی ہوسکتا ہے اس لیے میں کوئی شرط نہیں لگاسکتا۔

آسٹریلوی ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے چیپل نے کہا کہ کھیل میں کچھ بہتری تو آئی ہے لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ اس کی وجہ پاکستان کی خراب پرفارمنس تو نہیں، اس بات کا اندازہ ہمیں بھارت میں ہوگا جو کینگروز کیلیے ایک بڑا امتحان ہے۔ دوسری جانب چیپل کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر انھیں پاکستانی شائقین کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، خاص طور پر انھیں ایشیائی کنڈیشنز میں آسٹریلوی ٹیم کی حالت زار کے بارے یاد دلایا جاتا رہا۔سابق کرکٹرز رمیزراجہ اور شعیب اختر کی جانب سے بھی اس بیان پر اظہار ناپسندیدگی کیا گیا۔