پاکستانی پپیتے پرحملہ آورکیڑے کوبایو کنٹرول سے ختم کرنے میں اہم کامیابی

ویب ڈیسک  جمعرات 12 جنوری 2017
پپیا میلی بگ کے حملے  سے پپیتے کی فصل کی بقا کو شدید خطرات لاحق تھے جسے برطانوی ادارے کے تعاون سے بحال کیا گیا ہے۔ فوٹو؛ فائل

پپیا میلی بگ کے حملے سے پپیتے کی فصل کی بقا کو شدید خطرات لاحق تھے جسے برطانوی ادارے کے تعاون سے بحال کیا گیا ہے۔ فوٹو؛ فائل

 لندن: گزشتہ کچھ سال سے پاکستانی پپتے پر حملہ آور ایک کیڑے نے اس کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا لیکن اب حیاتیاتی ( بائیلوجیکل) کنٹرول کے ذریعے اس پر کامیابی سے قابو پالیا گیا ہے۔

پاکستان میں پپیتے کے باغات پر پپیا مِیلی بگ (پیرا کوکس مارجینیٹس) کے حملے سے اس  کی فصل اپنے خاتمے کے قریب پہنچ چکی تھی، ملک میں پپیتے کے 80 فیصد درخت اس وبا کی لپیٹ میں آچکے تھے، کئی کیڑے مار دوائیں اس پر بے اثر ثابت ہوئیں لیکن بایو کنٹرول کے تحت کیڑے کے قدرتی شکاری کو شامل کرکے اس کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

برطانیہ میں واقع مرکز برائے زرعی اور بایوسائنس انٹرنیشنل ( سی اے بی آئی) کے پاکستانی چیپٹر میں موجود بایوٹیکنالوجی اور حشرات (کیڑوں) کے ماہرین نے غور کرکے اس کیڑے کا ایک اور کیڑا دشمن آزمایا۔ اسے ایسروفیگس پپیائی کہتے ہیں جس کا لاروا پپیتے کے دشمن کیڑے پر پلتا ہے اور آخر کار اسے مارڈالتا ہے، اس کے بعد پپیتے کے باغات میں مِیلی بگ کو کامیابی سے ختم کیا گیا ہے۔

پاکستان میں سی اے بی آئی کے کوآرڈنیٹر عبدالرحمان نے کہا کہ کسان اس کم خرچ ، دواؤں سے پاک اور مؤثر طریقے سے خوش ہیں اور اب پپیتے کے باغات کی بحالی کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تاہم جب تک یہ طریقہ آزمایا گیا اس سے پہلے ہی کسان دوسری فصلیں اگانے پر مجبور ہوچکے تھے۔

صرف سندھ اور بلوچستان میں ہی 921 ہیکٹر پر پپیتے کاشت کیے جاتے ہیں۔ نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ کونسل ( این اے آرسی) کے مطابق مِیلی بگ کا پہلا حملہ 2008 میں رپورٹ ہوا اور 2014 تک اس کی کاشت کم ہوتے ہوتے صرف 307 ہیکٹر تک محدود رہ گئی۔ یہاں تک کہ اس کیڑے کا دوسری فصلوں تک پھیلنے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ اس کے سی اے بی آئی، امریکی زرعی ماہرین اور این اے آرسی نے مشترکہ طور پر 2014 میں پپیتے کا مینجنمنٹ پروگرام شروع کیا، پہلے کراچی سے پپیتے کے نمونے لے کر انہیں تجربہ گاہوں میں جانچا گیا اور ماحولیاتی پہلو نوٹ کیے گئے۔

اس کے بعد ماہرین نے باغات میں میِلی بگ پپیا کے قدرتی دشمن کیڑوں کا ایک گروہ بھی بنایا گیا جس میں ایسروفیگس پپیائی کے علاوہ دیگر کیڑے بھی شامل تھے۔ ماہرین نے ایک منتخب کیڑا ایسروفیگس پپیائی کو لیا اور اس سے کسانوں کو آگاہ کیا، اس تعاون کے بعد مِیلی بگ کی 80 فیصد تعداد کو کنٹرول کرلیا گیا۔

اس طرح بایو کنٹرول منصوبے کی افادیت سے پاکستان میں پپیتے کی فصل تباہی سے بچ گئی اور کم خرچ علاج سے مزید مالی فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ بصورت دیگرمِیلی بگ ٹماٹر، رس دار کھٹے پھلوں، شکرقندی، چیری اورآم جیسی قیمتی فصلوں تک پھیل کر اسے تباہ کرسکتے ہیں جن کا نقصان کروڑوں ڈالر سے کم نہیں۔

یہ خبر برطانوی ویب سائٹ سائس فار ڈویلپمنٹ نیٹ ورک نے شائع کی ہے جس کے مصنف سلیم شیخ ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔