حسرت ان غنچوں پہ ہے جو

وطن عزیز میں پے درپے ہونے والے حادثات و سانحات کے تناظر میں ایسا لگتا ہے جیسے دکھ و آلام نے اس ملک میں بسیرا کرلیا ہے


Editorial January 12, 2017
فوٹو: اے پی پی

وطن عزیز میں پے درپے ہونے والے حادثات و سانحات کے تناظر میں ایسا لگتا ہے جیسے دکھ و آلام نے اس ملک میں بسیرا کرلیا ہے۔ جہاں ایک جانب قدرت کی ستم ظریفیاں ہیں تو وہیں انسانی غفلت و لاپرواہی کئی انسانی جانوں کو نگل رہی ہے۔

بالغان کی اموات جہاں ایک بڑا نقصان ہے وہیں ان حادثات و واقعات میں ان ننھی کلیوں کا جان سے چلا جانا کسی سانحے سے کم نہیں جو اب تک صحیح سے کھل بھی نہیں پائی تھیں۔ ایسا ہی ایک المناک واقعہ کراچی کی لیاری کھڈہ مارکیٹ میں پیش آیا جہاں 2 عمارتوں کے درمیان گلی میں کچرے کو لگنے والی آگ پہلی منزل کے فلیٹ تک پہنچ گئی، جس کے نتیجے میں جھلسنے اور دم گھٹنے سے شیرخوار سمیت 3 کمسن بہن بھائی جاں بحق ہوگئے۔

اس نوحہ کا ذمے دار کسے ٹھہرائیں کہ ''گندی گلی'' کا کچرا ایک منزل سے بھی زیادہ ''افزائش'' پاچکا تھا۔ کراچی کو کوڑے کے سمندر میں ڈبو دینے والے ادارے اور سیاسی زعما یقینا اب بھی خواب غفلت میں ہوں گے۔ اپنے آنگن میں جب سورج کی روشنی مقید ہو تو کسی غریب کی جھونپڑی میں ٹمٹماتے دیے کی خبر کسے ہوگی۔ ہفت اقلیم کے خزانوں کو اپنی تجوریوں میں بھرنے والوں کو کیا پرواہ کہ اسی ملک میں بھوک و ننگ غریبوں کو اپنی زندگی کے چراغ خود بجھانے پر مجبور کررہی ہے۔

حیدرآباد کی سرفراز کالونی میں میاں بیوی سمیت تین بچے جو پراسرار طور پر مردہ حالت میں ملے ہیں، کہیں وہ بھی بھوک و افلاس اور غربت کے باعث تو نہیں؟ شنید ہے کہ ان معصوم کلیوں کا باپ کئی ماہ سے بے روزگار تھا۔ پولیس واقعے کی فارنسک تفتیش کررہی ہے، فی الحال اس واقعے کو قتل، خودکشی یا کوئی اور رنگ نہیں دیا جاسکتا لیکن اس حادثے میں بھی تین نوخیز کلیاں بن کھلے مرجھا گئیں۔ اس سے پیشتر بھی ملک میں یہ سانحات جنم لے چکے ہیں جب غربت و بے روزگاری سے خود ''مالیوں''نے اپنا ''باغ'' اجاڑ دیا۔

کبھی کسی ماں نے بچوں کو نہر میں پھینک کر خودکشی کرلی تو کبھی ''شقی القلب'' باپ بچوں کے گلے کاٹ کر پھندے پر لٹک گیا۔ آخر پھول جیسے بچوں کے ساتھ یہ بے رحم رویہ کب تک روا رکھا جائے گا۔ اسلام آباد میں معصوم طیبہ کے ساتھ ہونے والے واقعے کی سرگوشی ابھی تھمی نہیں ہے۔ صرف ایک طیبہ پر ہی کیا موقوف قوم کے کتنے ہی بچے ''چائلڈ لیبر'' کے زندان میں سسک رہے ہیں، کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔ وقت کا راوی منتظر ہے کہ یہ قوم کب اپنے بن کھلے مرجھا جانے والے غنچوں کی حفاظت کے لیے خواب غفلت سے جاگے گی؟