دہشت گردی اور مبہم پالیسی

دہشت گردی کی وارداتوں میں خاصی حد تک کمی آ چکی ہے لیکن دہشت گردی سو فیصد ختم نہیں ہوئی ہے۔


Editorial January 13, 2017
دہشت گردی کی وارداتوں میں خاصی حد تک کمی آ چکی ہے لیکن دہشت گردی سو فیصد ختم نہیں ہوئی ہے ۔ فوٹو: فائل

پاکستان کو دہشت گردی کے حوالے سے جن خطرات کا سامنا ہے' وہ اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں' ملک کے پالیسی ساز ہی نہیں اب تو عوام کا ایک غالب حصہ بھی صورت حال کو سمجھ رہا ہے۔

دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے ساتھ جنگ میں ہزاروں پاکستانی شہریوں' پولیس اہلکاروں اور فوجی جوانوں اور افسروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور ملک کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں دہشت گردی کا آخری ٹھکانہ شمالی وزیرستان بھی ان سے خالی کرا لیا گیا ہے اور اب دہشت گردی کی وارداتوں میں خاصی حد تک کمی آ چکی ہے لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ دہشت گردی سو فیصد ختم نہیں ہوئی ہے' دہشت گرد کہیں نہ کہیں واردات کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لہٰذا یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچی اور جب تک اس جنگ کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جاتا ملک میں امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی اقتصادی خوشحالی کی منزل تک پہنچا جا سکتا ہے۔

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جہاں فوجی کارروائی کی ضرورت ہے' وہاں جمہوری حکومت کے ماتحت کام کرنے والے سول اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ گراس روٹ لیول پردہشت گردی کے خاتمے میں سول اداروں اور عوام کے منتخب نمائندوں کا فیصلہ کن کردار ہے۔ اس مقصد کے لیے ہی نیشنل ایکشن پلان تیار کیا گیا تھا اور ملک میں دو سال کے لیے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا' اب دو سال مدت کے خاتمے کے بعد فوجی عدالتوں نے کام بند کر دیا ہے اور جمہوری حکومت تاحال اس حوالے سے کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر ہے' مختلف سیاسی جماعتیں فوجی عدالتوں کی مخالفت کر رہی ہیں اور بعض حکومتی شخصیات بھی فوجی عدالتوں کے حوالے سے منفی باتیں کر رہے ہیں۔

اخباری اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے جہلم اور کھاریاں گیریژنز کے دورے کے موقع پر فوجی افسران نے بھی فوجی عدالتوں کے متعلق ایک حکومتی شخصیت کے بیان اور سیکیورٹی لیکس کی تحقیقات کے متعلق سوالات اٹھائے ہیں' بہرحال یہ سب باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ اس وقت ملک کی سیاسی صورت حال کیا ہے اور دہشت گردی کس قدر حساس ایشو ہے۔ گزشتہ روز پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاویدباجوہ نے کہا ہے کہ پاک فوج ایک عظیم ادارہ ہے، اس کی عزت اور وقار پرکوئی حرف نہیں آنے دیا جائے گا اور اس کی حرمت اور عزت کا ہر صورت پاس رکھا جائے گا۔

پاکستان کو جس صورتحال کا سامنا ہے' اس کا تقاضا یہ ہے کہ ملک کی سیاسی و مذہبی قیادت اور ادارے ملک کے حقیقی مسائل کو سمجھیں اور دہشت گردی کے خطرات کا ادراک کریں' بلاشبہ آج بھی پاکستان پر سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہی ہے ۔بظاہر دہشت گردی کی وارداتوں میں بہت زیادہ کمی آئی ہے اور عوام نے سکھ کا سانس لیا ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دہشت گردی کی جڑیں ابھی تک ختم نہیں ہوئی ہیں۔

یہ بات مشاہدے کی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے پاکستان میں سیاسی و مذہبی قیادت ابہام اور مخمصے کا شکار رہی ہے جب کہ ریاستی ادارے بھی کنفیوژن کا شکار رہے ہیں' اس صورت حال نے پورے معاشرے کو نظریاتی اعتبار سے تقسیم ہی نہیں کیا بلکہ عوام کی بھاری اکثریت حقائق سے بھی لاعلم رہی ہے اور یہ سلسلہ تاحال کسی نہ کسی حوالے سے جاری ہے۔سارے معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مختلف طبقے جن میں سیاسی اور دینی حلقے بھی شامل ہیں' اپنے اپنے وقتی گروہی مفادات کے لیے بہت سے سنگین خطرات سے بھی چشم پوشی کر رہے ہیں۔ ان میں دہشت گردی جیسا خطرہ بھی شامل ہے۔

ملک کو نسلی اور لسانی تقسیم کی راہ پر ڈالنے والے اپنے آپ کو بچانے کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کرنا چاہتے ہیں جب کہ کرپشن کرنے والے اور دیگر جرائم پیشہ گروہ بھی خود کو بچانے کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کر رہے ہیں۔سیاسی مصلحتیں اور گروہی مفادات نے مل کر کرپشن'جرائم اور دہشت گردی کے درمیان گٹھ جوڑ بنا دیا ہے جس کا خمیازہ عوام بھگت رہی ہے۔

سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رپورٹ بہت کچھ بتاتی ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے ریاستی سطح پر واضح اور دوٹوک لائن آف ایکشن نظر نہیں آ رہی' ملک میں سیاسی کھینچاتانی جاری ہے' پاناما لیکس کا شور جاری ہے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی عروج پر ہے اور اس سارے ہنگامے میں دہشت گردی کا ایشو گم ہو رہا ہے۔