پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ابہام
ہماری اپنی پالیسی بھی یہی ہے کہ ہم طلبا تنظیموں کو شجر ممنوع ہی سمجھتے ہیں۔۔۔۔
ISLAMABAD:
آج کل سینیٹ میں طلباء تنظیموں پر سے پابندی اٹھانے کی بات چل رہی ہے۔ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے اس ضمن میں سینیٹ میں باقاعدہ قرارداد لانے کا بھی کہا ہے کیونکہ سینیٹ کی رائے میں طلباء تنظیموں پر پابندی غیر آئینی ہے۔ یہ درست ہے کہ کسی بھی جمہوری معاشرہ میں طلبا تنظیمیں جمہوریت کی نرسری قرار دی جاتی ہیں اور شاید پاکستان میں جمہوریت کے پودے کی کمزوری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے نرسری ہی ختم کر دی ہوئی ہے اور پودے کی نشو نما کی کوشش کر رہے ہیں۔
طلبہ تنظیموں پر پابندی لگانے والوں کے پاس ایک ہی دلیل ہے کہ طلبا تنظیمیں اور اس کے لیڈر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو گئے تھے۔ تعلیمی اداروں کا ماحول خراب ہو گیا تھا۔ایسے میں ان پر پابندی ہی واحد حل تھا۔ جیسے پابندی کے بعد سے تمام مسائل حل ہو گئے ہیں۔ تا ہم یہ بات حقیقت ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے اسٹوڈ نٹس ونگ غیر فعال کر د یے ہوئے ہیں، صرف جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی سیاسی جماعتوں کے اسٹوڈنٹس ونگز کام کر رہے ہیں۔
امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بھارت کے کہنے پر پاکستان کی ایک طلبا تنظیم المحمدیہ اسٹوڈنٹس پر پابندی لگائی ہے، ہم امریکا کے اس عمل کی کیا مخالفت کریں جب کہ ہماری اپنی پالیسی بھی یہی ہے کہ ہم طلبا تنظیموں کو شجر ممنوع ہی سمجھتے ہیں۔لیکن پھر بھی امریکا کون ہوتا ہے ہماری کسی قانونی و آئینی تنظیم پر پابندی لگانے والا۔ یہ طلبہ تنظیم جماعت الدعوۃ کا اسٹودنٹس ونگ ہے۔ جماعت الدعوۃ پر حکومت پاکستان کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔ اسی طرح پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق حافظ سعید پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ ادوار کی ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے امریکا اور بھارت کئی پاکستانی تنظیموں پر اقوام متحدہ میں پابندی لگوانے پر کامیاب ہو گیا تھا۔
المحمدیہ اسٹودنٹس پاکستان کے اکثر تعلیمی اداروں میں بڑی یا چھوٹی شکل میں موجود ہے تاہم اس کے ذمے داران موجودہ صورتحال سے پریشان ہیں اور ان کا موقف ہے کہ وہ ملک بھر میں نظریہ پاکستان کی ترویج اور احیا ء کے لیے سرگرم عمل ہے۔اس طلبا تنظیم کے تحت ملک بھر میں کیریئر کونسلنگ سیمینا رز کا انعقاد کرایا جاتا ہے جن کا مقصد طلباء کو ان کے مستقبل کے حوالے سے آگہی فراہم کرنا ہے ۔ان سیمینارز کے ذریعے طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔
ملک بھر میں اسٹڈی ٹپس ورکشاپس کا انعقاد بھی اہم ترین امور میں سے ایک ہے کہ جن کا مقصد طلباء کو ان کی تعلیم میں درپیش مسائل سے نمٹنے میں سہولت فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اس تنظیم کے زیر اہتمام تعلیمی مسائل پر طلبا سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ان سیمینارز میں تعلیمی ماہرین طلبا سے مخاطب ہوتے ہیں اور طلبا کو رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں کراچی میں اس کے زیر اہتمام تعلیمی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔
جس سے سابق وفاقی وزیر اور سابق چئیرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر عطا الرحمٰن ، جناح یونیورسٹی برائے خواتین کے وائس چانسلر وجیہہ الدین،پروفیسر عمران احمد اور دیگر تعلیمی ماہرین نے خطاب کیا تھا۔ مزید براں اس طلبہ تنظیم کے زیر اہتمام ملک گیر احیائے نظریہ پاکستان مہم بھی جاری ہے ۔ طلبا کو ابتدائی طبی امداد ،فائر فائٹنگ اور ہنگامی حالات میں ریسیکو کے متعلق آگاہی بھی فراہم کی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں کہیں بھی کوئی مشکل حالات ہوں یا حادثات ہوں اس طلبہ تنظیم کے کارکنا ن امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
ایک تنظیم پر پابندی عائد کراکر شاید امریکا نے بھارت کو تو خوش کر لیا ہو۔ لیکن اس سے پاکستان میں کوئی خاص ناراض نظر نہیں آرہا بلکہ ہم نے اس کو مکمل طور پر ایسے نظر انداز کر دیا ہے جیسے ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم اس کا ایک نیا نام رکھ لیں گے۔ اس طرح چوہے بلی کا یہ کھیل جاری رہے گا۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ حکومت پاکستان کھل کر یہ کہنے کو تیار بھی نہیں کہ ہمارے بچے دہشت گرد نہیں ہیں اور یہ ماننے کو بھی تیار نہیں کہ یہ دہشت گرد ہیں۔ جب تک حکومت پاکستان اس دو عملی سے باہر نہیں نکلے گی ۔ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔
اخباری اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل باجوہ سے بھی فوجی افسران نے نیوز گیٹ سکینڈل کے حوالے سے سوال کیا ہے ۔ جس کے جواب میں انھوں نے نیوز گیٹ سکینڈل کو منطقی انجام تک پہنچانے کے عز م کا اعادہ کیا ہے۔ پاک فوج پاکستان کا ایک مضبوط ادارہ ہے جس میں افراد کے آنے اور جانے سے پالیسیوں میں کوئی بڑی تبدیلی ممکن نہیں لیکن اگر جان کی امان مل جائے تو عرض کروں کہ نیوز گیٹ بھی دراصل اسی صورتحال کا شاخسانہ تھی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان ان افراد کے بارے میں جن پر امریکا اور بھارت نے اقوام متحدہ کے ذریعے پابندی لگوائی ہے، ان پاکستانیوں کے لیے ایک واضح پالیسی بنائے، اگر یہ محب وطن پاکستانی ہیں اور انھوں نے پاکستان کے لیے کوئی کام کیا ہے تو ہمیں اس کا اقرار کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہیے لیکن اگر انھوں نے کہیں بھی پاکستان کے خلاف کوئی کام کیا ہے تو اس پر ایکشن لینے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن ابہام اور دو عملی پاکستان اور اس کے اداروں کے لیے بھی ٹھیک نہیں ہے اور اس سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کی سمت درست کرے اور اپنا موقف واضح اور دو ٹوک رکھے۔